وہ لمحہ جب عطاالحق قاسمی جنسی پیاس بجھانے کے لئے ایک اداکارہ جو آجکل رکن اسمبلی ہے کو لے کر ایک صحافی دوست کے گھر پہنچ گئے شرمناک ترین انکشاف منظر عام پر

محترم جناب عطاالحق قاسمی صاحب السلام و علیکم ۔۔۔۔آپ کو خط لکھنے کا ارادہ تو نہیں تھا مگر پھر سوچا “ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں تو عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے”۔ آپ کا ایک کالم پیر 8 جولائی کو شائع ہوا ہے۔۔جاری ہے ۔

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس میں آپ نے میرا نام لیے بغیر کچھ جملے میرے بارے میں لکھے ہیں اور پھر بہت سے لوگوں کو فون کرکے بتایا بھی ہے کہ یہ جملے توفیق بٹ کے بارے میں لکھے گئے ہیں۔ یہ یقیناً ان جملوں کا ردعمل ہے جو میں اپنے کالموں میں آپ کے بارے میں لکھتا رہا اور ان میں آپ کا “اصل چہرہ” نمایاں ہوتا رہا، جس کی شکایت کئی بار آپ نے میرے ایڈیٹر سے بھی کی۔ اب جب کہ آپ نے اپنے کالم میں میرے ایڈیٹر کو “شریف النفس” لکھ دیا ہے (حالانکہ وہ واقعی شریف النفس ہیں) تو میں اپنے شریف النفس ایڈیٹر کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اس لیے کالم کا جواب کالم میں دینے کے بجائے اس خط کا سہارا لے رہا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ جو “ٹیکہ” میں اپنے اکثر کالموں میں آپ کو لگاتا ہوں اس کا “درد” آپ نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا، مگر آپ کا 8 جولائی کا کالم پڑھ کر خوشی ہوئی کہ ان “ٹیکوں” سے آپ کو اچھا خاصا “افاقہ” ہو رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے اپنے پیارے شریف حکمرانوں کا غصہ آپ نے مجھ پر نکالنے کی کوشش کی ہے۔ شریف برادران پر آپ کا غصہ بالکل بجا ہے۔ انہیں حکومت میں آئے اتنے روز گزر گئے۔۔جاری ہے ۔

اور ابھی تک آپ کو ناروے کا سفیر مقرر نہیں کیا گیا حالانکہ جس طرح بہت سے افسروں کی تقرریاں ان کے حکومت میں آنے سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھیں تو آپ کی تقرری بھی پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھی۔ آپ اکثر فرماتے ہیں کہ 1999ء میں نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کے بعد آپ کو آفر کی گئی تھی کہ آپ چاہیں تو آپ کی سفارت کاری قائم رہ سکتی ہے۔ آپ یہ آفر کس نے کی تھی؟ کسی روز اس کا نام بھی بتا دیں تاکہ آپ کے قارئین کھلے دل سے آپ کی اس بات کا یقین کرلیں۔ کہیں ایسا تو نہیں اب کے بار شریف برادران نے آپ کو ابھی تک سفیر اس لیے نہیں بنایا کہ انہیں پتا چل گیا تھا کہ ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی آپ اپنی سفارت کاری پر قائم رہنا چاہتے تھے اور اس کے لیے اس شخصیت کے ذریعے آپ نے کوشش بھی کی تھی جس کے گورنر پنجاب بننے کی خبریں سامنے آنے پر اس کے خلاف قلم کاری بھی آپ نے کی ہے۔ وہ اداکارہ اب ایم پی اے ہے، جسے لے کر آپ میرے نو تعمیر شدہ گھر میں گند ڈالنے آگئے تھے، اور میں نے اس گندگی کی “پہرے داری” سے انکار کرکے پہلا پتھر آپ کی جھوٹی انا پر پھینکا تھا۔۔۔جاری ہے ۔

ویسے کچھ روز پہلے تک یہ خبریں بھی آ رہی تھیں کہ آپ کی شدید خواہش اور کوشش پر آپ کو گورنر پنجاب بنانے کے برے میں سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔ شریف برادران نے شاید پہلی بار “سنجیدگی” سے سوچا ہے جس کے نتیجے میں آپ کو گورنر پنجاب نہیں بنایا گیا۔ اور اب ایک “بیرونی شخصیت” (جس کے مال پر اکثر برطانیہ میں آپ موجیں کرتے رہے ہیں) کو گورنر پنجاب بنائے جانے کی خبریں آئیں تو آپ کو اتنی تکلیف ہوئی کہ پورا ایک کالم لکھ مارا۔ خیر میں آپ کے لیے دعاگو ہوں کہ عمر کے اس حصے میں بھی آپ کو ناروے یا تھائی لینڈ کا سفیر ہی مقرر کیا جائے عمر کے جس حصے میں آپ کو سعودی عرب کا سفیر ہونا چاہیے کہ کم از کم اس سے عمرے اور حج کی سعادت بھی آپ کو نصیب ہو جائے گی، جس کے بعد انسان کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، چاہے سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ البتہ بطور اعزازی چیئرمین لاہور آرٹس کونسل اور ناروے کے سفیر کے طور پر جو “کارنامے” آپ نے کیے اس پر دو حج آپ کو الگ سے کرنا پڑیں گے!خیر اب میں آتا ہوں ان جملوں کی طرف جو 8 جولائی کے اپنے کالم میں میرا نام لیے بغیر آپ نے لکھے۔سب سے پہلی بات آپ نے یہ لکھی “ایک صاحب جو ایک کالج میں پڑھاتے ہیں ایک نئے اخبار میں کالم کے بجائے “گالم” لکھتے ہیں۔” ۔۔۔۔۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک کالج میں پڑھاتا ہوں “ویلیاں” نہیں کھاتا۔ آپ کو یاد ہوگا آپ کی تقرری بھی ایک کالج میں پڑھانے کے لیے ہی ہوئی تھی مگر ریکارڈ گواہ ہے کہ جو وقت آپ کا کلاس روم میں گزرنا چاہیے تھا، ملکی و غیر ملکی مشاعروں، تقریبات اور ڈرامے وغیرہ لکھنے میں گزر جاتا تھا جبکہ آپ کے شاگردان عزیز آپ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ایک بار اپنے ایک شاگرد سابق صوبائی وزیر چوہدری عبد الغفور کے بارے میں آپ نے لکھا کہ ایک تقریب میں جب انہوں نے آپ سے کوئی خدمت پوچھی تو آپ نے فرمایا کسی کو یہ مت بتانا کہ تم میرے شاگرد ہو۔ وہ بیچارہ تو خود ہی کسی کو نہیں بتاتا تھا۔۔جاری ہے ۔

مگر جو اس کی “حرکتیں” تھیں جیسا کہ آپ نے بھی لکھا کہ موت کے کنویں میں وہ ڈانس وغیرہ کیا کرتا تھا تو لوگ خود ہی سمجھ جاتے ھے کہ وہ آپ کا شاگرد ہے۔ ویسے ایک بار کسی کو اس نے بتا بھی دیا تھا کہ وہ آپ کا شاگرد ہے۔ اتنی گالیاں اس اعتراف پر اس بیچارے کو پڑی تھیں کہ شاید اسی وجہ سے اب کے بار الیکشن میں پارٹی نے اسے ٹکٹ بھی نہیں دیاجبکہ اس سے قبل وہ وزیر بنا دیا گیا تھا۔ شاید اس لیے اس وقت تک آپ نے اپنے کالم میں یہ انکشاف نہیں کی تھا کہ وہ آپ کا شاگرد ہے۔ دوسرا شاگرد آپ کے اپنے ہی انکشاف کے مطابق سہیل ضیاء بٹ ہے۔ کیسے کیسے “کمال” شاگرد پیدا کیے ماشاء اللہ آپ نے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پورا “معاشرہ” آپ کا شاگرد ہے۔ ویسے آپ کے اے ایم او کالج سے نکلتے ہی اس کی حالت بہتر ہونا شروع ہوگئی تھی اور اب یہ تاریخی تعلیمی ادارہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ میرے جس “پروفیشن” کا تذکرہ آپ نے اپنے کالم میں ایک “طعنے” کے طور پر کیا مجھے اس پر فخر ہے جبکہ آپ کا “اعزاز” یہ ہے کہ “پیغمبرانہ پیشے” کو خیرباد کہہ کر ناروے میں سفیر بن کر چلے گئے تھے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا فائدہ تھا جو کسی حکمران نے اپنی “کاسہ لیسی” پر کسی کالم نویس کو دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی سے اٹھائے جانے والے فوائد اس کے علاوہ ہیں۔ جب آپ اپنے بیٹے کے پنجاب حکومت میں تبادلے کے لیے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کے در پر حاضریاں دے رہے تھے تو انہی دنون سچ لکھنے کے جرم میں اسی وزیر اعلیٰ کے حکم پر سرکاری گھر سے مجھے نکالنے کے لیے پولیس اور مجسٹریٹ میرے سر پر سوار تھے۔۔۔جاری ہے ۔

ملک کے تقریباً تمام بڑے قلم کاروں نے اس موقع پر میرے حق میں آواز بلند کی۔ جناب مجید نظامی خصوصاً جناب مجیب الرحمٰن شامی، جناب عارف نظامی، جناب رحمت علی رازی اور جناب سعید آسی نے وہ کردار ادا کیا جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ جناب عطا الرحمٰن، جناب اجمل نیازی اور جناب آفتاب اقبال تو باقاعدہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس گئے اور ان سے گزارش کی کہ وہ اس زیادتی کا نوٹس لیں۔ ان تمام قلم کاروں کے پرزور احتجاج پر وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ آپ واحد قلم کار تھے جو اس موقع پر خاموش رہے۔ آپ نے تقریباً ہر دور میں فائدے اٹھائے، اس کے باوجود آپ چاہتے ہیں کہ ایسے کالم نگار کے طور پر آپ کو تسلیم کیا جائے جس نے کسی حکومت سے کبھی ایک دھیلے کا فائدہ نہ اٹھایا ہو۔ خواہشوں کو خوبصورت شکل دینے کے لیے۔۔۔خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔مگر آپ کو نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ شعر آپ کا ہے۔۔ایک بار ناروے اور برطانیہ کے مشاعروں میں آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اپنی ٹکٹ کے پیسے میں نے خود ادا کیے، بعد میں پتہ چلا ،منتظمین نے میری ٹکٹ کے پیسے بھی دے دیئے تھے جو مجھے بہر حال نہیں ملے تھے۔آپ نے لکھا میں ایک “نئے اخبار” میں لکھتا ہوں۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس اخبار کو شروع ہوئے دو سال گزرنے والے ہیں اور دو سال پرانے اخبار کو “نیا اخبار” نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ کچھ اچھی روایات اس اخبار نے ضرور اپنائی ہیں۔ ایک جن میں یہ بھی ہے کہ لکھنے کی مکمل آزادی یہاں حاصل ہے اور مجھے پتہ ہے آپ کو اس کی اچھی خاصی “تکلیف” ہے۔ پولیس افسران سے میرے تعلقات کا حوالہ بھی آپ نے اپنے کالم میں دیا۔ آپ کو شاید یاد نہیں یہ لت مجھے آپ ہی نے ڈالی تھی۔ میں جب طالب علم تھا اور ادارہ ہم سخن ساتھی کا صدر تھا تو اس وقت کے لاہور کے ایس پی سٹی سے میرا تعارف آپ ہی نے کروایا تھا اور پھر اس پولیس افسر کو ادبی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے پر اصرار بھی آپ ہی کرتے تھے۔ اس وقت کا “برقع اسکینڈل” بھی آپ بھول چکے ہوں گے، جس میں آپ کا نام بھی آ رہا تھا۔۔جاری ہے ۔

اور اسی ایس پی سٹی نے آپ پر “خصوصی مہربانی” فرمائی تھی، حالانکہ اس کی شہرت یہ تھی کہ وہ کسی کی سفارش مانتا ہے نہ کسی کو ناجائز فائدہ دیتا ہے اور استادوں کو تو وہ باقاعدہ “مرغا” بنا دیا کرتا تھا۔ مگر آپ چونکہ استاد کم کالم نگار زیادہ تھےتو اسی وجہ سے اس کی “خصوصی شفقت” کے حقدار ٹھہر گئے، جس پر آپ مجھے ساتھ لے کر اس کا شکریہ بھی ادا کرنے گئے تھے۔ آپ نے اپنے کئی گناہوں میں مجھے بھی زبردستی شریک کرنے کی کوشش کی حالانکہ میں آپ کو بھائی جان کہتا تھا اور اکثر اوقات آپ میرا تعارف اپنے چھوٹے بھائی کی حیثیت کرواتے تو میں سوچتا “بڑے بھائی” ایسے ہوتے ہیں؟ آپ کو یاد ہوگا میرا آپ سے باقاعدہ اختلاف اس وجہ سے ہوا تھا کہ حبیب اللہ روڈ پر واقع میرے نو تعمیر شدہ گھر (جس میں ابھی ہم شفٹ بھی نہیں ہوئے تھے) میں ایک ٹی وی اداکارہ کو لے کر آپ آ گئے تھے تو میں نے عرض کیا تھا بھائی جان پرسوں ہم نے شفٹ ہونا ہے اور کل اس گھر میں قرآن خوانی ہے تو آج میں اس کی صفائی کروانے آیا ہوں گند ڈلوانے نہیں آیا۔ بس اس بات پر آپ مجھ سے ایسے ناراض ہوئے جیسے میں نے آپ کی “مردانگی” چھین لی ہو۔ میں ہمیشہ آپ سے کہتا تھا بھائی جان مجھے اپنا غلام بنا کر رکھ لیں مگر میں آپ کے لیے وہ خدمات سر انجام نہیں دے سکتا جو کم از کم آپ اپنے بیٹے یاسر سے نہیں لے سکتا۔۔۔جاری ہے ۔

میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب لندن میں شاعر بخش لائلپوری کے گھر منعقدہ ایک “خصوصی محفل” میں کچھ لوگ پاکستان کے خلاف بکواس کررہے تھے اور آپ اس لیے خاموش تھے کہ میزبان بڑے شوق اور اہتمام سے آپ کی “خدمت۔۔ میں مصروف تھا۔خیر یہ ایک انتہائی تکلیف دہ داستان ہے جس کی مزید تفصیلات بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ مگر شکر ہے اللہ نے آپ کے عذاب سے جلد ہی چھٹکارا دلا دیا اور پھر اتنی عزت دی جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے تو ٹھیک طرح پڑھنا بھی نہیں آتا تھا، اللہ نے مجھے لکھنا سکھا دیا اور اس کے لیے میں جناب مجیب الرحمٰن شامی کا بھی شکر گزار ہوں جن کے کاندھے پر بندوق رکھ کر آپ نے جلائی حالانکہ برادرم نوید چوہدری کی کتاب کی تقریب رونمائی میں شامی صاحب نے میری، اجمل نیازی یا کسی اور کی ذات پر نہیں ان “رویوں” پر تنقید کی تھی جس کے نتیجے میں صحافت بدنام ہو رہی ہے۔ آپ نے مجھے “گالم نگار” قرار دیا، اس کی وجہ یقیناً یہی ہے کہ میں نے کئی بار آپ کے اس کردار پر روشنی ڈالی ہے جس کے مطابق آپ کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔۔۔جاری ہے ۔

اس کے لیے میں نے ہمیشہ مہذب الفاظ استعمال کیے، جو آپ کو “گالیوں” کی طرح اس لیے لگے کہ اس سے آپ کی شخصیت کے کچھ “خفیہ پہلو” نمایاں ہوگئے تھے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news