دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، اسٹیبلشمنٹ دے دل دا سہارا، کپتان میرا گھوڑی چڑھیا سیاسی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر یہ دل خوش ہوجائے گا

میں تو سمجھا تھا کہ بھٹو مرحوم عدالتی قتل کے بعد جنت الفردوس میں آرام کر رہے ہونگے ، مجھے کیا پتہ تھا کہ ناکردہ جرم کی سزا ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ببر شیر جمہوریت آصف زرداری کے تازہ خطاب نے مجھے بھٹو مرحوم کی اذیت یاد کرا دی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھٹو مرحوم کی روح ان میں آگئی ہے۔ اللہ بھٹو صاحب کے گناہ معاف کرے۔جاری ہے

اور انہیں اس اذیت سے نجات دلا کر ان کی روح زرداری صاحب کے جسم سے نکال لے، کہاں راجہ بھوج اور کہاں۔۔۔ بھیا میرے یہ پاکستان ہے، یہاں اخلاقیات ہمارے قائدین کے جلسوں میں ’’ماہی میریا روند نہ ماریں ویں میں دالایا جند جان دا‘‘ گاتی پھرتی ہے اور ماہی ایسا چھیل چھبیلا ہے کہ کبھی چادر کی اوٹ میں پانی ایسے پیتا ہے کہ اچھے خاصے پانی پر شک ہونے لگتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ہمیں لیڈروں کے نام پر فرشتے ملے ہیں ایسے جن کی شراب بھی شہد بن جاتی ہے۔ سو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی روح سوچتی تو ہوگی کہ یہ کس جسم میں مجھے قید کر دیا گیا۔ میں نے تو چوم کر پھندہ گلے میں ڈالا تھا۔ ایک جنرل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تھا یہ کیسا جسم ہے جو صرف سندھ بچانے کیلئے نجانے کس کس در پر سجدہ کر رہا ہے۔ کسی نے کرتار سنگھ سے پوچھا آپ کے ابو کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگا جو امی کہتی ہیں۔ یقین کریں مجھ جیسا بھلا مانسیا انسان بھی ان قائدین کی تقریریں سن کر فریش ہو جاتا ہے۔ دل کر رہا تھا قائد جمہوریت آصف زرداری کا ماتھا چوم لوں۔ جب انہوں نے فرمایا کہ میں غریبوں کے ساتھ ہوں اور اس کا ثبوت انہوں نے کراچی میں اس دوپہر کو دے بھی دیا جب اساتذہ کو سڑکوں پر اچھا خاصا دھو دیا گیا اور زرداری صاحب کیوں نہ ہوں غریبوں، مزدوروں، کسانوں اور ہاریوں کے۔ پیپلزپارٹی ہے ہی غریب عوام کی جماعت، نہیں یقین تو گنا پیدا کرنے والے عام کسانوں سے پوچھ لیں، جو غریب شوگر مل مالکان کو جینے نہیں دے رہے۔ اللہ کا شکر ہے زرداری صاحب غریب شوگر مل مالکان کے ساتھ کھڑے ہیں ورنہ یہ غریب تو جیتے جی مر جاتے۔۔جاری ہے

شیر اک واری فیر فیم بڑے بھیا کا جلسہ خاصا کامیاب رہا۔ ہمیں امید تھی کہ وہ اپنے پچھلے خطاب کا تسلسل جاری رکھتے ہیں، پردے پیچھے سازش کرنے والوں کو بے نقاب کریں گے لیکن وہ شہر میں کوئی وعدہ پورا کرنے کی مشین نہیں۔ شکر ہے انہوں نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا ورنہ پردے کے پیچھے سازش کرنے والے کہیں کے نہ رہتے لیکن میرا یقین ہے غریب عوام کے عظیم راہنما میاں صاحب ایک دن اسامہ بن لادن سے پیسے لینے سے لیکر آئی جے آئی کی تشکیل اور ہر بار بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کی کہانیوں سے ضرور پردہ اٹھائیں گے۔ سردار جی کو کسی نے ایس ایم ایس کیا اگر آپ ذہین ہیں تو دو سو کا اور اگر چالاک ہیں تو تین سو کا ایزی لوڈ کراؤ۔ انہوں نے پانچ سو کا لوڈ کراتے ہوئے میسج کیا اسیں چالاک وی آں تے ہشیار وی، میرے قائد محترم چالاک بھی ہیں اور الحمدللہ ہشیار بھی۔ اسی لئے حدیبیہ کیس پر تعریف نہیں کریں گے جس میں انہیں باباجی نے کلین چٹ دی۔ حالانکہ باباجی دی قلفی ٹھنڈی وی اے تو مٹھی وی۔ ہاں میں ان کے اس اعلان پر باقاعدہ واری صدقے جانا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے نوید دی ہے کہ وہ اس ناانصافی کے نظام کو ختم کریں گے اور معاشرے میں انصاف لائیں گے، مجھے تو وہ اس وقت اتنے معقول لگ رہے تھے جیسے کوئی ننھا بچہ سڑک پر لیٹ کر ایڑیاں رگڑتے رو رو کہہ رہا ہوتا ہے،۔جاری ہے

مینوں نئی پتہ میں پوگھانا (غبارہ) لینا ہے۔ ان کی آواز اتنی ہی معصوم تھی جیسے کہہ رہے ہوں مجھے نہیں پتہ میں نے غریب عوام کو انصاف دلانا ہے۔ واہ قائد محترم واہ چھتیس سال سے آپ انھے واہ حکومت کر رہے ہیں اور آج آپ کو پتہ چلا کہ آپ نے غریب عوام کو انصاف دلانا ہے۔ سردار جی کی تو سمجھ آتی ہے کہ اگر چھلڑ پڑا ہو تو انہوں نے سلپ ہونا ہی ہوتا ہے۔ آپ کے پاس بھی اقتدار ہو تو آپ نے پھنسنا ہی ہوتا ہے۔ ایک سردار جی سائیکل سے اترتے ہوئے گر پڑے، عوام میں معصوم شرمیلی لڑکی یہ دیکھ کر ہنس پڑی۔ سردار نے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا باجی میں ڈگیا نہیں لتھنا ای اینج آں۔لوجی ہم تو ابھی ریحام بھابھی کے ولیمے کے چاول ہی ہضم نہیں کر پائے تھے خان صاحب نے ایک اور چھکا مار دیا۔ محبوبہ بولی ڈارلنگ میرے لئے چاند توڑ لاؤ۔ وہ بولا آہو میں توڑنے جاؤں اور پیچھے سے تم نواں چن چڑھا دو۔ گو خان صاحب نکاح پذیر ہوئے ہیں۔جاری ہے

لیکن ہمیں تو ان کی اس حرکت سے شدید چڑ ہے جیسے وہ ہمارے ایک پر ہی ٹکے رہنے کی صلاحیت کو چیلنج کر رہے ہوں، ہم جیسے دل جلے ہمیشہ ان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہ اس تعفن زدہ ماحول میں کوئی مثبت تبدیلی لائیں گے لیکن کپتان اچیاں شاناں تے پٹھیا دھیاناں آلے لگتے ہیں۔ بس میں خاتون بچے کو کہہ رہی تھی بسکٹ کھا لو ورنہ سامنے بیٹھے سردار جی کو کھلا دوں گی۔ ایک گھنٹہ اسی تکرار میں گزر گیا آخر سردار جی غصہ سے بولے باجی جو فیصلہ کرنا اے کر لو میں پہلے ہی چار سٹاپ اگے نکل آیاں۔ خان صاحب قوم غربت، بھوک، بے چارگی کی آگ میں جل رہی ہے، لوگ خون تھوکتے تھوکتے مر رہے ہیں۔ مائیں جگر گوشوں سمیت ٹرینوں کے سامنے کود رہی ہیں، اچھے مسیحا ہیں آپ اپنے منورنجن سے باہر نہیں نکل رہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ آپ بھی ایلیٹ کلاس کا حصہ ہیں بس آپ کے ذمے سیاپا ڈالنا ہے۔۔جاری ہے

یہ غریب بھوکی عوام مرے جئے اس سے آپ کا آصف زرداری کا، قائد محترم میاں صاحب کا کیا تعلق؟ آپ اربوں ،کھربوں بلکہ پدموں کی دولت اور اس کی ٹرانزکشنز پر لڑنے والے امراء، ہم ایویں آپ کی شادیوں سے جیلس ہوں، معاف کیجئے،چلیں سب مل کے ایک بار پھر گائیے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news