سات سالہ زینب سے قصور میں جنسی زیادتی اور قتل والدین کے لیے بچوں کی جنسی تربیت کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے کیسے جنسی تربیت کرسکتے ہیں پڑھئے

سات سالہ بچی زینت کے ساتھ جنسی درندگی اور قتل والدین کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ فتنوں کا دور ہے ۔ اب تو آئے دن ننھے پھول مسل کر پھینک دینے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔۔۔جاری ہے

مگر حکومت چاہے جس کی بھی ہو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ والدین بھی بچوں کی جنسی تربیت سے کتراتے ہیں ۔ والدین بچوں پر اتنا رعب و دبدبہ رکھتے ہیں کہ بچے اپنے اردگرد کوئی غیر معمولی پریشانی کی چیز دیکھ لیں تو بھی والدین کو آگاہ نہیں کرتے کیونکہ وہ والدین کے غصے سے ڈرتے ہیں ۔ سات سالہ زینب کے ساتھ قصور میں جس طرح سے درندگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ والدین کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔ آج کل ہمارے گرد بہت سے بھیڑئیے شریف النفس انسانوں کا روپ دھاڑے ہوئے ہیں ۔ مگر ان کے اندر جنسی حیوانیت اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ اس معصوم بچی کے ساتھ کیا ہوگا وہ بیچاری تو جان سے گئ مگر اب آپ ان بچوں کا سوچئے جو ان جنسی بھیڑیوں کے کے چنگل میں پھنس سکتے ہیں ۔۔۔جاری ہے

اس کے لیے والدین کو چاہئے کہ بچوں کی جنسی تربیت کریں ۔ ان سے دوستی کا روئیہ رکھیں ۔ یہ لوگ بچوں کو ٹافی یا چاکلیٹ دے کر ان سے دوستی کرلیتے ہیں اور اس دوستی کی خبر والدین کو نہیں ہوتی ۔ پھر کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ والدین بچوں کے نگران ہیں ۔ نگرانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف ان پر رعب رکھا جائے بلکہ باہر بھی حفاظت کی ذمہ داری ان کی ہی ہے یہ تب تک ہے جب تک وہ باشعور اور مضبوط نہ ہوجائیں ۔ بچوں کو سمجھائیں کہ بری جگہ پر اگر کوئی شخص چھوئے گا تو ان کو کیا کرنا ہوگا۔ ان کو بھاگنا ہوگا ان کو چیخنا ہوگا ۔ ان کو ایسے شخص کے پاس جانا ہوگا جو ، ان سے ان کی حفاظت کرسکے ۔۔ اگر کوئی ان جگہوں کو چھوئیں جن میں ٹانگوں کے درمیان کی جگہ ، یا چھاتی یا ٹانگوں کے پیچھے تو یہ بری جگہیں یہاں ماں کے علاوہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔جاری ہے

اگر کوئی اور ان جگہوں کو چھوئے سوائے والد کے تو وہ برا ، انسان ہے ۔ والدین کو بتائیں کہ وہ برا ، انسان ہے ۔ اس نے میرے ساتھ ایسا کیا ۔ یہ وہ تربیت ہے جس سے بچے اس قابل ہوجائیں گے کہ ان کو پتا چل جائے گا۔ ورنہ ننھے معصوم بچے کبھی بھی ان جنسی بھیڑیوں کے اوچھے ہتکھنڈوں کو سمجھ نہ سکیں گے ۔ جس کا نتیجہ زینب کی شکل میں آتا رہے گا۔ نجانے کتنے پھول اور مسلیں جائیں گے ۔ اس کے ساتھ بچوں کی حفاظت کا مناسب بندوبست بھی کریں ۔ اور خاص کر بچوں کے اردگرد کے لوگوں پر خاص نظر رکھیں کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں۔۔جاری ہے

۔۔۔۔ اللہ زینب کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور تمام والدین کو توفیق دے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے ان کی تربیت کرسکیں ، آمین!

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news