یہ نہ تھی ہماری قسمت ایک دُکھی لڑکی کی کہانی

میں دومیانے درجے کے گھر کی بیٹی ہوں جسے مڈل کلاس فیملی کہتے ہیں ایک تو کر توڑ مہنگائی میں مڈل کلاس کولوئر کلاس بنا دیا ہے میں اپنے ماں باپ کی پہلی بیٹی ہوں تین سال بعد میرا ایک بھائی پیدا ہوا پھر ایک بہن پھر ایک اور بہن اس کے بعد کوئی بچہ نہیں ہوا ماں باپ نے سارا لاڈاور پیار بیٹے کے لئے وقف کردیا کیونکہ وہ تین بہنوں میں اکیلا بھائی تھا۔جاری ہے

دودھ فروٹ مکھن بالائی کھلونے سب لاڈ پیار اور چیزیں اسی کے لئے گھرآتی تھی بہنوں کے لیے بس رہ جاتی تھی بھائی کی غلامی اور دال دلیا میں ابھی نادانی کی عمر میں تھی جب ماں نے میرے ذہن میں یہ ڈالا دیا تھا کہ لڑکیاں بدبختی کی نشانی ہوتی ہیں گھر میں محلے کی کوئی عورت آجائے تو خواہ کوئی بھی بات ہو رہی ہو میری امی آہیں بھرنا شروع ہوجاتی تھی ہمیشہ یہی کہتی ہائے ری قسمت خداجانے کون سے گناہ کیا تھا کہ خدانے نے تین چڑیلیں میرے گھر میں پیدا کر دیں۔۔امی نے کبھی کیس بیٹی سے پیار نہیں کیا تھا ابا ٹھہرے شریف اللہ میاں کی گائے گھر میں صرف ماں کی حکومت چلتی تھی ۔۔۔ابا مجھ سے پیار کرتے تھے کہ میں پہلی اولاد تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی مجھ پر توجہ کم کردی اور صرف میرے بھائی سے ہی پیار کرنے لگے میں یہی سنتے سنتے جوان ہوگی کہ لڑکیاں بدقسمتی کی نشانی ہوتی ہیں میری بہنیں ابھی چھوٹی تھی بھائی ان کو مارتا اور گالیاں دیتا۔جاری ہے

اور پیٹنے سے باز نہیں آتا تھا وہ مجھے بھی نہیں چھوڑتا تھا میں اگر کبھی اسے ڈان؁ دیتی تو ابا مجھے تھپڑ جڑدیتے ہیں اماں برا بھلا کہنے لگیں میں بن بلا مہمان تھی اسی لیے ہر وقت ڈانٹ اور پھٹکار کا شاکار بنی رہتی میں سکول جاتی تھی وہیں سے سہیلیوں کے ساتھ کھیل کر کچھ دل کو خوش ملتی تھی ورنہ تو ہر وقت دل گھٹن میں جکڑا رہتا تھا کبھی کبھی میں خدا سے شکوہ کرنے لگتی کہ مجھے لڑکی کیوں بنایا میں جوں جوں بڑی ہوتی جارہی تھی اماں مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگتی میرا بوجھ اسے محسوس ہونے لگا تھا اسے میرے جہیز کا غمکھائے جا رہا تھا نے کئی بار کہا تھا جتنا خرچ مجھے لڑکے پر کرنا تھا اس سے دوگنا یہ اکیلی کھاجائے گی میرا بھائی چھ سال کا ہوگیا اور ایک روزاباجان سے سکول داخل کرانے کے لئے لے گئے لڑکے نے چیخ و پکار کرکے پورے محلے کو اکٹھا کرلیا اور جب ابا مجھے سکول لے کے گئے تو میں ابا سے بھی تیز تیز چل کر سکول جارہی تھی میرا بھائی شہزادہ تھا اس لیے ابا جان نے اسے ہاتھوں پر اٹھا لیا بھائی نے دونوں ہاتھوں سے ابا جان کے منہ پر تھپڑوں کی بارش کردی اماں کہنے لگی آج رہنے دو کل لے جانا مسلسل چار روز طرح طرح کے لالچ دے دے کر اسے سکول کے لئے راضی کیا گیا وہ دراصل تین پہیوں کی سائیکل لے کر سکول جانے پر راضی ہوا تھا ابا جان کی تنخواہ معمولی تھی سائیکل مہنگی تو نہیں تھی سولہ روپے میں مل گئی مگر سولہ روپے ہمارے گھرانے کےلیے۔جاری ہے

اچھی خاصی رقم تھی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بھائی اسکول جانے لگا مگر اس نے سائیکل کے بدلے صرف سکول جانا ہی منظور کیا اس میں چھٹی تک سکول رہنا اور پڑھنا شامل نہیں تھا اسکول سے بھا کر گھر آجاتا اور پتنگ لے کر چھت پر چڑھ جاتا اماں ابا سے روکنے کے بجائے خود پتنگ لاکر دیتے ۔۔۔جتنے پیسے منہ سے مانگتا سے مل جایا کرتے پھر اس کی منتیں کرکرے اے پڑھنے کے لئے راضی کرتے پھر میر ڈیوتی لگا دی گئی کہ میں اسے پڑھا یا کروں میں جتنی دفعہ سے پڑھانے کی کوشش کرتی ہوں آگے سے گالیاں نکالتا اور مارنے لگتا پھر الٹا مجھے ماں کی ڈانٹ بھی سنسنی پڑتی وہ ماں سے شکائیت لگاتا تھا تو اماں مجھے کو سنے لگتی اسی طرح ہم بڑے ہوتے گئے ۔۔بھائی آوارہ ہوگیا اور میں نے میڑک پاس کر لیا مجھے آگے پڑھنے کا شوق تھا لیکن ابا کی تنخواہ معمولی تھی اس لیے مجھے سکو سے اٹھالیا گیا میں نے امی سے کہا مجھے داخل کروادیں میں ٹیوشن پڑھا کر اپنا خرچہ نکال لیا کروگی پر ہوسکتا ہے گھر کے خرچ کے لئے بھی پیسے نکل آئی اماں کا جواب ہمیشہ مجھے کانٹے کی طرح کھٹکنے لگتا ہوں ایم اے بی اے کرے تم کیا کروگی ہم لڑکیوں سے نوکری کرواکر محلے میں اپنا منہ کالا نہیں کروائیں گے لوگ کیا کہیں گے بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں۔جاری ہے

یہ لوگ تم نے دس جماعتیں کیا پاس کر لی ہیں تمہار تو مزاج ہی نہیں ملتا دس جماعتیں بھی اسی لیے پاس کوائی ہیں کہ کوئی اچھا رشتہ مل جائے برادری کے لڑکے کالجوں میں پڑھتے ہیں آج کل ان بڑھ لڑکیوں کو کون پوچھتا ہے یہ ککہ کر اماں سردآہ بھرتی برادری میں اتنے سارے لڑکے ہیں کسی مردودنے ہماری طرف توجہ نہیں دی میری عمر ۱۷ سال ہوگئی اماں کی پریشانی بھی ٹھیک تھی دوسرئ دو بہنوں کا بھی غم کھائے جا رہا تھا ایک کی عمر نو سال اور دوسری کی بارہ سال تھی اماں کی باتوں سے ایسے لگتا تھا جیسے ابھی آسمان سے تین رشتے اتریں گے اور ہم تینوں کو اڑا کرلے جائیں گے ہم نے دو تین عورتوں کو ہمارے رشتوں کے لیے کہہ رکھا تھا یہ پیشہ ور رشتے کرانے والی عورتیں تھی ۔۔لگائی بجھائی کے ہنر میں بہت ماہر تھیں اماں جب بھی وہ گھر آتی تو کی خاطر تواز صع میں لگ جاتی کھانا میں جو کچھ ہوتا سامنے رکھ دیتی ایسے لگتا تھا وہ بھی پیٹو صرف کھاناکھانے کے لیے ہمارے گھر آتی ہیں ۔۔ورنہ انہیں ہمارے رشتوں سے کیا دلچسپی ہوکستی تھی عجیب پیٹو قسم کی عورتیںتھیں کھانے کی شو قین کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑتی جیسے کبھی کھایا ہی نہ ہو میں میں نہیں کہتی کہ میں بہت حسین اور جیمل ہو لیکن میری شکل و صورت دیکھ کر کوئی لڑکا انکار نہیں ۔۔کرسکتا تھا ہماری گلی کے چند لڑکے میرے رشتے کے لیے بے تاب تھے مگر ہمارے معاشرے میں لڑکے کی قسمت کا فصیلہ اس کے ماں باپ کرتے ہیں رشتے کا معیار لڑکی کی شکل و صورت اورعقل نہیں ہوتا جہیز پر ہوتا ہے لڑکی چاہے پھوہڑ کالی ہو اور لڑکا چاہے ساری عمر ادھر ادھر عیاشاں کرتا رہے تھے ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ جہیز کتان ہوگا کہں کم تو نہیں ہوگا میری امی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔۔جاری ہے

۔کیونکہ جہیز کے نام ابھی کوئی چیز نہیں بنائی گئی تھی اس زمانے میں آج کی طرح مہنگائی نہیں تھی سستا دور تھا لیکن پھر بھی آمدن کے لحاظ سے وہ مہنگا ہی تھی دو وقت کی روٹی پوری ہونی مشکل تھی ۔۔ابا کی تنخواہ سے بچت ہونا مشکل تھی اور بھائی کے ایک اخراجات ہیں اتنے تھے کہ پورے کنبے کا خرچہ ایک طرف سکول جانا یا نہ جانا بھائی کے موڈپر منحصر ہوتا تھا کتابیں کاپیاں گم کرنا اور نئی نئی چیزیں خریدنا پین خراب کرنا کاپیاں پھاڑنا اس کو شوقتھا جیب خرچ شہزادوں کی طرح مرضی کا لیتا تھا نویں جماعت میں وہ جوان ہوگیا اور اس نے سینما میں فلمیں دیکھنا شروع کر دیں ۔مرے ابا کا یہ خواب جھوٹا ثابت ہوا کہ لڑکا پڑھ کر ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا اور مل کر تین لڑکیوں کا جہیز بنائے گا بھائی کو نصیحت کرنا بیکار تھا اسے لڑکیوں پر جس طرح فوقیت دی گئی تھی وہ اس چیز کا عادی ہوچکا تھا کچھ کہوں تو لڑنے جھگڑنے لگ جاتا خودکشی کی دھمکیاں دینے لگتا جو والدین لڑکیوں کو بدبختی کی نشانی سمجھتے ہیں وہ دو و جوہات بیان کرتے ہیں ایک تو جہیز اور شادی کے فراجات کمر توڑ دیتے ہیں اور دوسرے اگر لڑکی کے سسرال برے نکل آئیں۔جاری ہے

تو ساری عمر کا رونا دھونا مگر ایک تیسری وجہ ہے جس کا اظہار بہت کم کیا جاتا ہے کہ اگر لڑکی کا چلن شادی سے پہلے ہی بگڑگیا تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے بیٹیوں کے متعلق ایسے ۔۔خدشات سے کوئی نہیں ڈرتا بیٹا اگر زیادہ بدچلن بھی نکل آئے تو رشتے ڈھونڈتے رہتے ہیں لیکن لڑکیوں کے لئے اس صورت میں کوئی معافی نہیں بیٹا ہمیشہ سار بیٹیوں کے برابر اور سکندر اعظم جیسا ہوتا ہے ۔۔ہمارا بھائی بھی ایسا ہی نکلا وہ جب دسوین جماعت میں تھاتو سکول سے اس کی شکایت آنے لگے پھر محلے والوں نے بھی چہ مگوئیاں شروع کردی آواہ اور نالائق لڑکا دسویں جماعت تک کس طرح پہنچ گیا یہ حیران کن بات تھی اتنا ہی بتادینا کافی ہوگا کہ سکوک کا ایک ماسڑ اس پر بہت مہربان تھا ابا جان اسے ۳۰ روپے ماہورا دیتے تھے اور وہ ہمارے بھائی کو شام گھنٹا پڑھانے آتا تھا۔جاری ہے

(کہانی جاری ہے کہانی کا باقی حصہ بہت جلدی آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کریں گئے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani