بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہورکی لڑکیوں نے بے حیائی کا ایک اور سنگ میل عبورکرلیا لڑکیوں نے یونیورسٹی کی دیوار پہ بہت سارے زنانہ استعمال کے پیڈز لگا دیئے اور پھر

لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں بے حیائی کا ایک اور سنگ میل اسوقت عبور کیا گیا جب کچھ لڑکیوں نے یونیورسٹی کی دیوار پہ بہت سارے زنانہ استعمال کے پیڈز لگا ڈالے۔!!!یہ فحش احتجاج اس بات پہ کیا جا رہا تھا کہ حیض کے عمل کو عورتوں کیلیئے شرمندگی کا باعث نہیں ہونا چاہیئے۔جاری ہے

اور یہ کہ ایسا کیوں ہے کہ خواتین کو سٹورز پہ مخصوص پیڈز خاکی لفافوں میں چھپا کر لینے پڑتے ہیں اور ان ایام کا ذکر کرتے ہوئے شرم محسوس کرنی پڑتی ہے؟ ان ایام کو مخفی کیوں رکھا جاتا ہے اور یہ کہ اسکے ساتھ جڑا گندگی اور ناپاکی کا تصور تو بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ یہ ایک فطری نظام ہے۔!!!اور شرم و حیا کی ساری حدیں اسوقت پار کر دی گئیں جب ان لڑکیوں نے اپنی سفید قمیضوں پر سرخ دھبے لگا کر “نارمل انداز” میں دیگر لڑکوں کے ساتھ ایسے دن گزارا “جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو‌۔”!!!۔جاری ہے

لبرل ازم کے ثمرات آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس پہ یقیناً ہمارے لبرل وزیراعظم بہت خوش ہونگے۔ انہیں اور اس قسم کی قبیح حرکات کو سپورٹ کرنے والے تمام لبرلز کو چاہیئے خود بھی اس کیمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مہم کو مذید مؤثر بنانے کیلیئے کچھ مشورے ہماری طرف سے مفت میں حاضر ہیں:۔۔ استعمال شدہ پیڈز کو پھینکنے کی بجائے اپنے اپنے گھروں کی سامنے والی دیواروں پہ آویزاں کیا کریں تاکہ ہر گزرنے والے کو پتہ چلے کہ یہ کوئی گندگی کی علامت نہیں ہے۔۔جاری ہے

۔۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اسے بطور ٹشو پیپر استعمال کریں۔!!!۔۔ انکی خواتین کو چاہیئے کہ سٹور میں داخل ہوتے ہی دور سے ہی آواز لگائیں، “او چھوٹے، دو آلویز تو پیک کر دے۔”۔۔ رمضان میں یہ عورتیں سرعام کھائیں پئیں اور اور کوئی گھورے تو تڑ سے بولیں، “گھورتا کیا ہے بے، تیری ماں بہن کو نہیں آتے کیا‌؟!!!”

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news