عورت کی زندگی کسی جیون ساتھی کے بغیر گزر تو جاتی ہے مگر

مجھے ٹی وی ڈرامے دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ جس چینل پر کوئی ڈرامہ لگا ہوتا، میں سارے کام چھوڑ کر دیکھنے بیٹھ جاتی۔ کبھی دادی بیٹھی ہوتیں اور ڈرامے میں کوئی بات انہیں ٹھیک نہ لگتی تو کہتیں دیکھو زمانے کو کیا ہوگیا ہے۔ لڑکیوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔۔جاری ہے

اپنی مرضی کا لڑکا منتخب کرو اور اپنی پسند کی شادی کرو۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے؟ لڑکی! تم ایسے ڈرامے نہ دیکھا کرو جس میں لڑکیاں آزاد خیال دکھائی جاتی ہیں۔ تب میں جواب دیتی۔ دادی! آپ تو ہیں پرانے زمانے کی۔ آپ کے دور میں ہوتی ہوں گی لڑکیاں بے زبان گائے جیسی! ہمارا زمانہ اب ترقی کرگیا ہے۔ لڑکی کو بھی پسند کا حق دیا گیا ہے۔ بھلا پسند کی شادی کرنے میں کیا حرج ہے۔بیٹی! بچیوں کو بھلا کیا سمجھ کہ کون کیسا ہے۔ ایسا ویسا کوئی لڑکا اچھا لگا اور بعد میں صحیح نہ نکلا، زندگی برباد ہوجاتی ہے۔ ایک دو دن کا کھیل نہیں، شادی عمر بھر کا سودا ہوتا ہے۔ والدین کو تجربہ ہوتا ہے۔ وہ جس قدر زمانے کو جان پرکھ لیتے ہیں، بچے نہیں سمجھ سکتے۔ لڑکیاں جذبات اور ماں، باپ عقل سے کام لیتے ہیں لہٰذا والدین پر بھروسا کرنے میں اولاد کا بھلا ہے۔ آج کل جانے کیا سکھا رہے ہیں عورت کو…! لڑکی ماں، باپ کے آگے پٹر پٹر بول رہی ہوتی ہے اور بیوی، شوہر کے منہ پر تھپڑ مار دیتی ہے۔ ارے بیٹی…! حقیقی زندگی میں یہ سب نہیں چلتا۔ گھر بسانے کے لیے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی برتری کو تسلیم کرے۔ جو فوقیت اللہ نے مرد کو دی ہے اور عورت کو احترام بخشا ہے، اسے دونوں کو ماننا چاہیے۔ مرد ہو یا عورت ہو، ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر بولنا ٹھیک نہیں۔۔جاری ہے


دادی جب ایسی باتیں کرتیں، ڈرامے کا مزا کرکرا ہوجاتا اور میں ٹی وی بند کرکے اٹھ جاتی، موڈ خراب ہوجاتا۔ دعا کرتی دادی کبھی بھولے سے بھی ٹی وی لائونج میں آکر نہ بیٹھیں۔ بزرگ تبھی اچھے لگتے ہیں جب وہ ایک حد تک روک ٹوک کریں اور بہت زیادہ پندو نصائح نہ کریں۔ میں نے ابو سے شکایت کردی۔ بھلا ان کے پاس دولت کی کیا کمی تھی۔ وہ ایک جانے مانے بزنس مین تھے، کروڑوں کے مالک۔ انہوں نے میرے کمرے میں ٹی وی لگوا دیا کہ جو جی چاہے بیٹھ کر دیکھو، ٹی وی لائونج میں آنے اور دادی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی جو مرضی چاہے دیکھیں۔تب ٹینشن ختم ہوگئی لیکن جلد ہی میرا ٹی وی ڈراموں سے دل اُکتا گیا۔ امتحان ختم ہوگئے تھے۔ ابو سے فرمائش کی مجھ کو گاڑی لے کر دیں۔ بھائی جب دل چاہتا ہے، گاڑی لے کر چلے جاتے ہیں۔ مجھے کہیں جانا ہو تو ان کا منہ تکنا پڑتا ہے۔ میں اکلوتی بیٹی تھی اور وہ میرے بھائی تھے، مجھے والدین سے ان سے زیادہ پیار ملا۔ انہوں نے میرے لیے گاڑی خرید دی اور میں نے ڈرائیونگ بھی سیکھ لی۔ جب جی چاہا گاڑی لے کر گھر سے نکل جاتی۔ کبھی کسی سہیلی کے گھر، کبھی شاپنگ مال اور کبھی یونہی کسی سنسان سڑک پر لانگ ڈرائیو کے لیے… رشتے دار لڑکیاں میری زندگی پر رشک کرتی تھیں۔۔جاری ہے


ایک روز شاپنگ کے لیے نکلی۔ سوچا مدیحہ کو ساتھ لے لوں۔ مدیحہ میری بیسٹ فرینڈ تھی، اس کے گھر جارہی تھی کہ راستے میں ایک جگہ سگنل بند ہونے کے سبب گاڑی روکنا پڑی۔ ایک نوجوان قریب آیا جو خوبرو اور اسمارٹ تھا۔ سچ کہوں، پہلی نظر میں ہی بھا گیا۔
کھڑکی کے قریب آکر بولا۔ محترمہ! کیا مجھے آپ لفٹ دے سکتی ہیں؟ کس خوشی میں…؟ میں نے بظاہر ناگواری سے سوال کیا۔ کسی خوشی میں نہیں، مجبوراً! دراصل میری والدہ کا سڑک پار کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ وہ جس رکشے میں جارہی تھیں، اسے ایک گاڑی نے ہِٹ کیا تو رکشہ الٹ گیا۔ امی کے چوٹ آگئی ہے۔ وہ دیکھئے سامنے… میں نے ادھر نگاہ ڈالی۔ ایک بزرگ خاتون واقعی گلی کے نکڑ پر اپنی ٹانگ پکڑے بیٹھی تھیں۔ میں نے گاڑی ایک جانب کھڑی کی اور اتر کر خاتون کی طرف چلی گئی۔ اس نوجوان نے انہیں گاڑی میں بٹھایا۔ اسپتال زیادہ دور نہ تھا۔ میں نے خاتون کو اسپتال پہنچا دیا۔ دونوں ماں، بیٹا بہت مشکور ہوئے۔ میں نے اس نوجوان سے اس کا سیل نمبر لے لیا تاکہ ان کی والدہ کی بعد میں خیریت دریافت کرسکوں۔ میں نے اسے فون کیا۔ اس نے بتایا۔ امی کی ٹانگ کا ایکسرے ہوا تھا، شکر ہے فریکچر سے بچ گئیں البتہ چوٹ لگنے سے ٹانگ میں درد ہے۔ ڈاکٹر نے طبی امداد دے کر گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔۔جاری ہے


اس کے بعد میں نے اسے فون کیا اور نہ اس نے رابطہ کیا تاہم مجھے ان ماں، بیٹے کا وقتاً فوقتاً خیال آتا رہتا تھا۔ ایک روز گھر سے نکلی تو وہ نوجوان سامنے نظر آگیا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ میں نے گاڑی روک لی اور پوچھا۔ اب آپ کی والدہ کیسی ہیں؟ اللہ کا شکر ہے، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اتنی بات کرکے وہ ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ میرا جی چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ کہیں جانا ہے تو میں چھوڑ دوں۔ اس نے کہا۔ شکریہ! ہم نے وہ سامنے والا گھر کرائے پر لیا ہے۔ ناصر! تم نے جو گھر کرائے پر لیا ہے، میرا گھر اسی کے سامنے واقع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ہم پڑوسی بن چکے ہیں۔ تو اس خوشی میں کیا کرنا چاہیے؟ وہ ہنس کر بولا۔ چلو اس خوشی میں مٹھائی کھاتے ہیں۔ میں نے خوشی میں بے ساختہ پیشکش کردی۔ وہ بھی غالباً لفٹ چاہ رہا تھا، فوراً گاڑی میں بیٹھ گیا اور ہم ایک مشہور مٹھائی کی دکان پر چلے گئے۔ میں نے مٹھائی خریدی اور واپس لوٹ کر اسی جگہ آگئے۔ مجھے یہیں اتار دیجئے، امی انتظار کررہی ہوں گی۔ دراصل میں ان کی دوا لینے نکلا تھا کہ خوش قسمتی سے آپ سے ملاقات ہوگئی۔ معلوم نہ تھا کہ آپ کا گھر سامنے ہے۔ اللہ کا شکر ہے آپ سے ملاقات ہوگئی۔ امی یہ جان کر بہت خوش ہوں گی۔۔جاری ہے


چلو پھر تمہاری امی سے مل لیتے ہیں۔ مٹھائی ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ضرور! اگر آپ کی والدہ بھی اس وقت ہمراہ ہوتیں تب بہت اچھا ہوتا۔ میں سمجھ گئی کہ مجھے والدہ کے ہمراہ اس کے گھر جانا چاہیے تاکہ رسم وراہ بڑھے۔ ٹھیک ہے، ہم شام کو آئیں گے۔ ویل کم! میں امی کو بتا دوں گا۔ یہ کہہ کر وہ گاڑی سے اتر گیا اور پیدل اپنے گھر کی طرف چل دیا۔مجھے خیال آیا اس کی والدہ کے لیے صحت یابی کی خوشی میں گفٹ لینا چاہیے۔ گھر جانے کی بجائے بازار چلی گئی۔ ایک اچھا سا پرفیوم خریدا اور شام کو امی سے کہا۔ ہمارے سامنے والے گھر میں نئے کرائے دار آئے ہیں، چلیے ان سے ملتے ہیں۔ وہ کہنے لگیں۔ کل چلیں گے۔ آج میں نے تمہارے ماموں کی طرف جانا ہے، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ تھوڑی دیر پہلے بھابی کا فون آیا تھا۔ میں نے کہا کہ پانچ بجے آجائوں گی۔ امی جان! چلی جانا ماموں کے گھر لیکن پہلے ناصر کے گھر چلتے ہیں۔ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ آج شام امی اور میں آئیں گے۔ یہ ناصر کون ہے؟ ہمارے نئے پڑوسی! ناصر پہلے میرے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا۔ میں نے جھوٹ بولا تاکہ امی بال کی کھال اتارنے نہ بیٹھ جائیں۔ امی! ناصر کی والدہ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا کچھ دن پہلے، آپ خیرخیریت دریافت کرنا۔ تبھی میں ان کے لیے مٹھائی اور یہ گفٹ لے کر جارہی ہوں۔ ٹھیک ہے۔ میری ماں نے کہا۔ شام کو میرے ساتھ وہ ناصر کے گھر چلی گئیں۔ چند منٹ آنٹی کے پاس بیٹھ کر اٹھنے کو ہوئیں۔ مجھ سے کہا۔ تم چاہو تو ان کے پاس بیٹھو، میرا بھائی جان انتظار کررہے ہوں گے۔۔جاری ہے


ماموں جان کی طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ والدہ کو ان کی فکر دامن گیر تھی۔ وہ چلی گئیں اور میں دیر تک آنٹی کے پاس بیٹھ کر اِدھر اُدھر کی ہانکتی رہی۔ دراصل مجھے ناصر سے لگائو ہوگیا تھا۔ رفتہ رفتہ آنٹی سے ملنے کے بہانے ناصر سے بھی ملاقات ہونے لگی۔ ایک روز ناصر نے بتایا کہ ان کی والدہ بیٹی کے پاس فیصل آباد چلی گئی ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی تھی۔ یہاں دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ تم کیوں نہیں ان کے ساتھ گئے ناصر؟ میں نے کاروبار شروع کیا ہے یہاں ایک دوست کے ساتھ مل کر، کام نیا نیا ہے، غیر حاضر نہیں ہوسکتا۔ چلو ٹھیک ہوا۔ اگر تم چلے جاتے، میں اداس ہوجاتی۔ وہ مجھے کچھ پریشان سا لگا تو میں نے پوچھا۔ پریشان ہو؟ بتائو کیا بات ہے؟ پریشان اس لیے ہوں کہ امی گھر پر نہیں ہیں، پھر تم ہمارے گھر نہ آئو گی۔ تو کیا ہوا ہم باہر کہیں مل لیں گے۔ میرے والدین آزاد خیال ہیں، وہ دقیانوسی بالکل نہیں ہیں۔ ایک ہفتہ گزرا کہ اس نے فون کیا۔ سارہ! اب کب ملو گی؟ میں خوش ہوکر بولی۔ جب کہو۔ اس نے کہا۔ کہاں ملنا ہے؟ میں نے اسے ریسٹورنٹ کا نام اور ملنے کا وقت بتایا اور وقت مقررہ سے قبل ہی وہاں پہنچ گئی اور ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ وہ مقررہ وقت سے دس منٹ بعد آیا۔ معذرت کی کہ سواری نہیں مل پا رہی تھی، دیر ہوگئی ہے۔ تم گاڑی کیوں نہیں خرید لیتے؟ جلد لے لوں گا۔ وہ بولا۔ فی الحال تمام سرمایہ کاروبار میں لگا دیا ہے۔ نیا نیا بزنس ہے نا۔ میں جانتی تھی کہ وہ زیادہ دولت مند نہیں ہے مگر مجھے دولت سے کوئی سروکار نہ تھا۔ میرے والد کے پاس دولت کی کمی نہ تھی اور محبت… وہ کب دولت کے لیے کی جاتی ہے۔ محبت تو اس سے ہوجاتی ہے جو اچھا لگے، من بھا جائے۔ میں نے ابھی تک ناصر سے اپنے دلی جذبات کا اظہار نہ کیا تھا۔ بس ایک دوست کی حیثیت سے ملتی تھی۔۔جاری ہے

کہتے ہیں کچھ لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ اولاد بیٹی ہو یا بیٹا، اولاد پیاری ہوتی ہے لیکن کچھ بیٹیاں ناسمجھی میں والدین کے دل میں شگاف ڈال دیتی ہیں۔ مجھے خبر نہ تھی کہ میں بھی ان کی جھولی دُکھوں سے بھر دوں گی کہ جنہوں نے میری جھولی میں زندگی کا ہر سکھ اور اپنے پیار کی دولت انڈیل دی تھی۔ اکثر دولت مند گھرانے جہاں والدین آزاد خیال ہوتے ہیں، اولاد پر پابندیاں کم ہوتی ہیں۔ مجھ پر بھی ایسی کوئی پابندی نہ تھی۔ چاہتی تو ناصر کو اپنے گھر مدعو کرسکتی تھی۔ جانے کیوں میں نے ایسا نہ کیا، شاید کہ اسے گلے کا ہار نہ بنانا چاہتی تھی لیکن اب پتا چلا کہ محبت واقعی خودبخود گلے کا ہار ہوجاتی ہے۔ کوئی نہ بھی چاہے تو بھی محبوب کا خیال اس کا راستہ روک لیتا ہے۔ ناصر کا خیال غیر محسوس انداز میں میرے دل میں گھر کرتا گیا۔ آج اسی انجانے رشتے میں بندھی میں اس کیفے میں اکیلی بیٹھی تھی کہ وہ آگیا۔ مجھے لگا چند منٹوں کا نہیں بلکہ صدیوں کا انتظار تھا جو ختم ہوگیا ہے۔اس روز دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔ ہم نے اظہار محبت کردیا اور اس رشتے کو نبھانے کا وعدہ بھی کیا۔ اس نے کہا تھا کہ میرا تعلق متوسططبقے سے ہے لیکن مجھے تمہارے والد کی دولت سے غرض نہیں۔ تم سے پیار ہے، یہ بات تم آزما لینا۔ اس نے وعدہ کیا وہ جلد اپنی والدہ کے ہمراہ ہمارے گھر آئے گا۔ اس کی والدہ ہفتہ بعد لوٹ آئیں۔ اس نے فون کیا۔ ہم آج تمہارے گھر آئیں گے۔ والد صاحب صبح کے گئے رات کو لوٹتے تھے۔ وہ ابھی تک ناصر سے نہ ملے تھے۔ میں نے سوچا کہ انہیں روکنا چاہیے تاکہ ناصر سے ملاقات ہوجائے۔ ابو کو بتا دیا میرے خاص مہمان آئیں گے، آپ شام گھر پر رہیے گا۔ وہ میری کوئی بات نہ ٹالتے تھے۔ مجھے ان پر پورا اعتماد تھا۔ خوش دلی سے ناصر اور آنٹی سے ملے اور نئے پڑوسی جان کر اچھی طرح ان کا استقبال کیا لیکن جونہی آنٹی نے مدعا بیان کیا کہ وہ بیٹے کے رشتے کی خاطر آئی ہیں، والد صاحب یکدم سنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے رکھائی سے کہا کہ میری ایک ہی بیٹی ہے اور میں رشتہ اپنے ہم پلہ لوگوں میں کروں گا۔ آپ اس مقصد کے لیے دوبارہ آنے کی زحمت نہ کریں۔ یہ کہہ کر وہ بغیر انہیں خداحافظ کہے گھر سے نکل گئے۔ والد پر جو میرا اندھا اعتماد تھا، وہ آن واحد میں چکنا چور ہوگیا، جیسے کسی نے بھروسے کے تاج محل کو آگ لگا کر راکھ کردیا ہو۔۔جاری ہے

والدہ نے شکوہ کیا۔ بیٹی! اگر ان لوگوں نے رشتے کے لیے آنا تھا تو پہلے مجھے بتانا تھا۔ کم ازکم میں تمہارے والد کے کان میں بات ڈال کر ان کی مرضی معلوم کرلیتی تو آج ان کی بے عزتی نہ ہوتی۔ میں نے روتے ہوئے کہا۔ ماں! مجھے آپ پر بھروسا نہ تھا۔ سوچا کہ آپ کہیں معاملہ بگاڑ نہ دیں کیونکہ آپ چاہتی ہیں کہ میرا رشتہ آپ کے بھائی کے فرزند سے ہوجائے، اسی لیے میں نے آپ سے ذکر نہ کیا۔ ابو کی ذات پر پورا یقین تھا کہ وہ انکار نہ کریں گے، جب انہیں معلوم ہوگا کہ میں ناصر کو پسند کرتی ہوں۔ انہوں نے آج تک میری کسی فرمائش کو رد نہیں کیا۔ بیٹی! فرمائش اور چیز ہے، رشتہ اور معاملہ ہے۔ یہ عمر بھر کا سودا ہوتا ہے اور تمہارے والد نے اگر انکار کیا ہے تو کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا۔ ہمارے گھر سے جاکر ناصر نے فون کیا۔ اگر تم مجھے نہ ملیں تو قسم کھاتا ہوں کسی گاڑی تلے آکر جان دے دوں گا۔ میں امی، ابو سے بہت جھگڑی، ٹوٹ کر روئی۔ آخر ان کو اپنی لاڈلی بیٹی کی خوشی کی خاطر گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ بادل نخواستہ والد صاحب نے ناصر کو داماد بنانا قبول کرلیا۔ سادگی سے ہماری شادی کی تقریب انجام پائی۔ کسی رشتے دار کو نہ بلایا گیا اور میں رخصت ہوکر ناصر کے گھر آگئی۔ شادی کے بارے میں کیسے کیسے سہانے خواب لڑکیاں دیکھتی ہیں اور جب شادی محبت کی ہو تو لڑکی پیا کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی گھر کو بہشت جیسا بنانے کے بارے میں سوچنے لگتی ہے۔ ایک ہفتہ ہنسی خوشی میں گزرا کہ ایک روز اچانک فیصل آباد سے ہمارے گھر کچھ مہمان آگئے۔ ان کے ہمراہ ایک سات آٹھ برس کا بچہ بھی تھا۔ اتفاق سے ناصر اپنی والدہ کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا ہوا تھا۔ آنے والے مہمانوں نے دریافت کیا کہ ناصر اور ان کی والدہ کہاں ہیں اور آپ کون ہو؟۔جاری ہے


وہ ڈاکٹر کے پاس گئے ہیں اور میں ناصر کی بیوی ہوں۔ میں نے بتایا۔ بیوی…؟ کمسن لڑکے کے منہ سے بے اختیار نکلا لیکن ماموں تو شادی شدہ ہیں۔ ممانی فیصل آباد میں ہیں۔ کیا کہا تم نے؟ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ہاں آنٹی! وہ میرے ماموں ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ آپ کیسے ان کی بیوی ہوسکتی ہیں؟ لڑکے کی ماں بھی پریشان ہوگئی۔ وہ کبھی مجھے دیکھتی اور کبھی اپنے ناسمجھ بیٹے کو گھورتی تھی مگر لڑکا تھا کہ چپ ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔ ناصر اور آنٹی گھر لوٹے تو میں نے کہا۔ ناصر! مجھے پتا چل چکا ہے، کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے محبت کے نام پر… تم شادی شدہ اور چار بچوں کے باپ ہو۔ ناصر کے چھکے چھوٹ گئے۔ مجھے کمرے میں لے آئے، بولے۔ مجھے معاف کردو، میں وعدہ کرتا ہوں اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ دوں گا تمہاری خاطر! ہاں تو چھوڑ دو۔ میں نے غصے میں کہا۔ وہ مجھے مناتا رہا مگر میں مان کر نہ دی۔ تب ناصر نے ایک شرط رکھ دی۔ اس نے کہا۔ اپنے باپ سے کم ازکم چھ کروڑ لے کر آئو، اگرچہ ان کی دولت میں تمہارا حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن میرا کام اتنے روپے سے چل جائے گا۔ اگر تم چھ کروڑ لا سکتی ہو تو میں پہلی بیوی کو چھوڑ دوں گا۔ طلاق نامہ اسی وقت لکھ کر اس کو بھجوا دوں گا۔ اپنے چار بچوں کی ماں کو؟ میں نے حیرت سے کہا۔ صرف چھ کروڑ کی خاطر! تمہارے لیے یہ رقم کچھ نہیں مگر میرے لیے بہت بڑی رقم ہے۔ ان پیسوں سے میری زندگی سنور جائے گی۔ میرا بزنس زمین سے آسمان پر جا پہنچے گا۔۔جاری ہے


روتی ہوئی میں اپنے والد کے پاس گئی۔ انہیں بتایا کہ ان کے چھ کروڑ کی بدولت میرا گھر بسا رہ سکتا ہے۔ تم اگر ناصر کو چھوڑ سکتی ہو، چھوڑ دو۔ جس دن اس لالچی شخص سے ہمیشہ کے لیے ناتا ختم کرکے آجائو گی، میں تمہیں چھ کروڑ نہیں بلکہ تمہارا پورا حصہ تمہیں دے دوں گا۔ میں نے پہلی نظر میں بھانپ لیا تھا کہ تم نے ناسمجھی میں ایک غلط شخص کا انتخاب کرلیا ہے۔ والد صاحب نے صحیح کہا تھا کہ ناصر ایک خودغرض اور بے وفا انسان تھا۔ وہ چھ کروڑ لے کر بھی مجھ سے وفا نہ کرتا۔ جو دولت کی خاطر اپنی بیوی اور چار بچوں کو چھوڑنے پر تیار ہوگیا تھا، اس نے واقعی مجھ سے شادی دولت کی خاطر کی تھی۔یہ بات بعد میں اس کے رویئے سے ثابت ہوگئی اور مجھے پناہ ملی تو اپنے پیارے والد کے سائبان تلے! آج اپنے غلط فیصلے پر دکھ تو ہے لیکن اپنے پیارے ابو کے پیار پر مان بھی ہے جنہوں نے سو دکھ جھیل کر مجھے سکھی رکھا۔ والد کہتے تھے۔ پہلے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرکے دیکھ لی، اب میری مرضی سے شادی کرلو تو مجھے سکون مل جائے گا۔ میں ان کو کہتی ہوں۔ ابو! میں اب دوسری شادی نہیں کرسکتی، میرا دل راضی نہیں ہوتا۔ کیا کروں شادی انسان ایک بار ہی کرتا ہے جس میں دلی خوشی پنہاں ہوتی ہے۔ مجبوراً شادی کرنے میں خوشی نہیں ہوتی۔۔جاری ہے

وہ سمجھاتے۔ بیٹی! بے شک شادی دل کی خوشی کا نام ہے لیکن کبھی کبھی دنیا کی خوشی کے لیے بھی یہ بندھن باندھنا پڑتا ہے۔ میرے بعد تم کو کسی سہارے کی جب ضرورت محسوس ہوگی تو میری یہ بات یاد کرو گی کہ عورت کی زندگی کسی جیون ساتھی کے بغیر گزر تو جاتی ہے مگر بہت مشکلات سہنی پڑتی ہیں۔ آج ان کی بات یاد آتی ہے تو سوچتی ہوں واقعی ابو صحیح کہتے تھے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani