حریم اور اُسکا شوہر شادی کو ابھی دو ہفتے ہوئے تھے کہ

حریم کی شادی کو آج دو ہفتے ہونے کو آئے تھے.. عدیل ایک مثالی شوہر تھا.. پانچ وقت کا نمازی , پرہزگار , شرعی داڑھی , ماں باپ کی آواز پر لبیک کہنے والا, چھوٹی بہن سے شفقت برتنے والا , غریبوں کا احساس کرنے والا , رشتے دارپر احسان کرنے والا , ایسی کتنی ہی باتیں تھیں جو اسے آہستہ آہستہ عدیل سے متلق معلوم ہو رہی تھیں..۔۔۔جاری ہے

حریم خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھ رہی تھی جو اسے اتنا اچھا جیون ساتھی ملا تھا.. دن ودنیا کو اعتدال سے لیکر چلنے والا ایک سلجھا ہوا انسان پا کر وہ جتنا رب کا شکر ادا کرتی , کم تھا.. مہینے بعد عدیل کو شادی کی چٹھیوں کے بعد صبح آفس جانا تھا.. حریم نے رات ہی ساری تیاری کردی تھی.. صبح جب عدیل جانے لگا تو آفس بیگ میں سے کوئی فائل تلاش کرنے لگا جو کہ بہت اھم تھی.. کمرے کا سارا کونا کونا چھان مارا تھ لیکن فائل نہ مل پا رہی تھی اور ساتھ میں عدیل کا غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا..۔۔۔جاری ہے

نہ اسے ماں کا لحاظ تھا نہ بہن کا.. انتہائی بدتمیزی سے وہ سب کے ساتھ پیش آرہا تھا.. حریم نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی تو غصے سے پاگل وہ اسی پر برس پڑا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو.. حریم دکھ اور خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی.. عدیل جیسا نفیس انسان غصے میں شیطان کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا تھا..پھر اچانک جیسے عدیل کو یاد آیا کہ فائل تو وہ اس خیال سے کہ شادی کہ ہنگاموں کہیں گم نہ جائے , آفس کے دراز میں لاک کر کے رکھ آیا تھا , فورا” سب سے رسمی معزرت کرکے آفس چلا گیا..۔۔۔جاری ہے

اسکی ماں دکھی چہرے کے ساتھ حریم کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور سمجھانے لگی کہ عدیل کو جب غصہ آئے تو اسے ہوش تک نہیں رہتی ہے.. دل کا برا نہیں ہے.. حریم کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی کہ عادت کی بات اور ہے دل کا برا نہیں..ذرا سوچیے _ ہم غصے کی حالت میں اپنے قریبی لوگوں کو کتنا زخمی کر دیتے ہیں..۔۔۔جاری ہے

ہماری زبان سے نکلے الفاظ ہمارے پیاروں کی روح کو چھلنی کر دیتے ہیں.. کیا معذرت اور سوری جیسے الفاظ ان زخموں کا مداوا کر سکتے ہیں..؟؟؟

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news