حضرت عبد اللہ سندھی کی شادی کا ایسا ایمان افروزتذ کرہ جو آج کے زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

ولانا عبداللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ اللہ جل جلالہٗ نے ہدایت دی‘ مسلمان ہوگئے‘ پاداش میں والد نے گھر سے نکال دیا‘ دارالعلوم میں تعلیم کیلئے تشریف لے گئے۔۔۔۔۔جاری ہے

اس دوران ایک نواب صاحب کو بیٹی کے رشتے کیلئے دارالعلوم آنا ہوا‘ نواب صاحب مذہبی ذہن کے آدمی تھے اور مذہبی داماد چاہتے تھے اس کیلئے دارالعلوم کا رخ کیا تھا۔ وہاں شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی‘ ان کے سامنے زانو ئے تلمند تھے‘ بولے: عبداللہ پر نظر پڑی تو استاد سے کہا اس لڑکے کو داماد بنانا چاہتا ہوں‘ مولانا نے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جو بڑے چاہتے ہیں ان کی رضا میں راضی ہوں‘چنانچہ دو دن بعد نکاح طے پاگیا۔ اگلے دن دوستوں نے کہا کہ کل تمہارا نکاح ہے‘ کوئی سا سوٹ خرید لو‘ کہنے لگے: پیسے نہیں ہیں‘ دوستوں نے کہا کہ پھر اس کو ہی ذرا اچھی طرح دھولو تاکہ نئے کی طرح کا معلوم ہونے لگے‘ فرماتے ہیں:۔۔۔۔جاری ہے

اگلے دن صبح ہی صبح کپڑے دھو کر سکھانےلٹکا دئیے لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس دن بارش ہوگئی‘ عصر کے بعد نکاح تھا اور بارش تھی کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ ظہر کے بعد مسلسل کپڑے لیے لتھڑاتا رہا کہ کپڑے سوکھ جائیں۔ پھر بالآخر گیلے کپڑے ہی پہن کر نکاح کیلئے چل دیا۔ نکاح میں نواب صاحب نے پرانے اورگیلے کپڑے دیکھ کر پہچان لیا کہ نئے خریدنے کی طاقت نہ ہوگی لیکن کچھ بھی نہ کہا اور نکاح ہوگیا۔ کہتے ہیں وہ نواب صاحب کی لڑکی تھی اور میری حالت یہ تھی کہ شادی کے شروع کے ہی دنوں میں فاقوں کی نوبت آگئی۔۔۔۔۔جاری ہے

لیکن اس اللہ کی بندی نے اف تک نہ کی‘ میرے ساتھ انتہا ہی خوش اسلوبی کے ساتھ نباہ کیا۔ ایک سال بعد میں اس کو لے کر اس کے میکے گیا۔ اس کی والدہ نے اپنی بیٹی سے پوچھا: بیٹی! وہاں تیرا گزر بسر کیسے ہورہا ہے؟ بیٹی نے جواب دیا: امی میں نے تو سنا تھا کہ مسلمان کو جنت مرنے کے بعدملتی ہے‘ مجھے تو جنت دنیا میں ہی مل گئی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news