پشاور کی اس نوجوان لڑکی پر اس کے عاشق نے دو کروؑروپے خرچ کرنے کے بعد قتل کرڈالاوجہ کیا بنی پاکستانی معاشرے کے مجموعی اخلاق و کردار کے پول کھولتی اس تحریر میں جانیے

ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں 20سے زائد خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ 2016ء کے ابتدائی 10ماہ میں یہ تعداد 187کے لگ بھگ تھی، پشاور، سوات، نوشہرہ، دیر اور چترال سمیت بیشتر علاقے خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں. اس کلچر کی وجہ سے شاید ہمارے روئیے قانون نے بدلے زمانہ جاہلیت میں عرب بیٹوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے.۔۔۔جاری ہے ۔


نامور صحافی خالد خان اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ……اسلام آیا، قانون آیا اور تہذیب آئی تو پتہ چلا کہ یہ کام تو سرا سر جاہلیت ہے سارے کے سارے لوگ باز آگئے. اب بیٹیوں کے بیٹھنے کیلئے اپنی چادریں بچھائی جانے لگیں کیونکہ ان کو نور قرار دے دیا گیا. 14 سو سال بھی ٹھیک ٹھاک رہے کوئی ایسا ظلم وجبر نہ تھا مگر اب انسانی تہذیب کے ڈیجیٹل ترین دور میں جا کر ہم زمانہ جاہلیت سے بھی آگے نکل گئے ہیں روزانہ کے حساب سے ایک بیٹی کو مارنا ظلم کی انتہا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سخت کیا جائے ، قاتلوں سے نرمی کی جائے نہ صلح پر معافی ملنی چاہیے اگر مقتول کے ورثاء معاف بھی کردیں توجرم تو ریاست کے خلاف ہوا ہے. ریاست پورے چھان بین اور جرم ثابت ہونے کے بعد قاتل کو قرار واقعی سزا دے تو اس قبیح حرکت پر پرقابو پایا جاسکتا ہے.ایسا ہی ایک سانحہ ملک دین خیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ جوان علی اکبر آفریدی کا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے کاکشال پشاورکے علاقے میں رہائش پذیر ایک رقاصہ (بریخنا )کے عشق میں مبتلا تھا اور اس سے بے حدمحبت کرتا تھا، اسکارقاصہ کے گھرآ ناجانا لگارہتاتھا. علی اکبر نے اپنی ساری جمع پونجی اس رقاصہ پرلٹادی ،۔۔۔جاری ہے ۔

یہاں تک کے علی اکبر 2کروڑ روپے کا مقروض بھی ہوگیالیکن پھر بھی رقاصہ بریخنا کی ہر خواہش پوری کرتا اس نے کئی بار بریخنا کے والد سے اس کا رشتہ مانگا مگر اسکوہربار ٹرخا دیاگیا. آخر کارنوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ دلبرداشتہ ایک دن صبح سویرے بریخنا کے گھر آیا جہاں گھر پر بریخنا اس کا والد اور بھتیجی موجود تھے. پہلے کی طرح اس نے اس باربھی بریخنا کا رشتہ اس کے باپ سے مانگا لیکن اس کے باپ کے مسلسل انکار کی وجہ سے وہ بہت تنگ آچکا تھا اس بار اس میں انکار سننے کی برداشت نہیں تھی اور اس پرحسب سابق پھر انکار کیاگیاتو طیش میں آکر علی اکبر نے بریخنا کے 65سالہ باپ حضرت عمر کو چھری کے پیدرپے وار کر کے قتل کردیا اسدوران20سالہ بیٹی بریخنا والد کو بچانے کی کوشش کے دوران چھری کے وار سے شدید زخمی ہوگئی ،جس کے بعد ملزم نے خود کوبھی گولی مارکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیابتایا گیا ہے کہ رقاصہ نے علی اکبر کیلئے خود چائے بنائی جیسے ہی باورچی خانے گئی،علی اکبرکی اسکے والد کے ساتھ رشتے سے انکارپرتو تکرار ہوئی اور بات قتل مقاتلے تک پہنچ گئی. علی اکبر اپنی محبوبہ کے ہاتھ کی بنی آخری چائے بھی نہ پی سکا. مقتول باپ اوربیٹی کو آبائی قبرستان پار ہوتی مردان میں سپردخاک کردیا گیا جبکہ پولیس نے عاشق کی نعش بھی ورثاء کے حوالے کردی. بریخنا6 بہنوں اور4 بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھی اور پوراخاندان چند برس قبل مردان کے علاقے باڑی چم سے پشاور منتقل ہواتھا.مقتولہ کے بھائی بلال کے مطابق 5 سال قبل اسکی ایک ہمشیرہ سیما ہمارے بھائی سے اچانک پستول چل جانے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئی تھی،بریخنا کی ایک بہن گل رخ بھی اداکارہ ہے۔۔۔جاری ہے ۔

اور متعدد سی ڈی اور ٹی وی ڈراموں میں کام کر چکی ہے.اس خاندان کے ذہنوں پریہ واقعہ کیا نقوش چھوڑ گیا اور یہ آئندہ کتنے عرصہ تک بریخنا کے لواحقین کے سروں پر سوار ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا تا ہم ہمیں من حیث القوم یہ بات اب سیکھ لینی چاہیئے کہ برے کام کا نتیجہ برا ہی ہوتا ہے ورنہ کیا وجہ تھی کہ بریخنا کا والد رشتہ دینے سے انکاری ہو گیا حلانکہ کہ علی اکبر کا عرصہ سے انکے گھر میں آنا جانا تھا اور علی اکبر بریخنا پر دل و جان نثار کرنے پر بھی آمادہ تھا یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بریخنا کے والد نے علی اکبر کے اندر کا جنوں دیکھ لیا تھا جس سے وہ خوفزدہ تھا حقائق کچھ بھی ہوں لیکن ایسے واقعات کب تک ہمارے معاشرے میں ہوتے رہیں گے اور کیا انکے مکمل سدباب کے لئے سنجیدہ حلقے کوئی اقدام بھی کر رہے ہیں یا نہیں اسکا جواب کسی کے پاس نہیں. اس حوالے سے ڈی ایس پی سبرب فضل واحد خان نے بتایا کہ خودکشی کرنیوالا نوجوان غیر شادی شدہ تھا اور اکثر گھر سے باہر رہتا تھا اور رقاصہ کے ساتھ شادی کا خواہشمند تھا۔۔۔جاری ہے ۔

اوراسکا بریخنا کے گھر کئی سالوں سے آنا جانا تھا.انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح تھانہ یکہ توت کی حدود کاکشال گلدرہ چوک میں 30سالہ علی اکبر آفریدی جسکا تعلق باڑہ کے علاقے ملک دین خیل سے تھا اور اس کا ارمڑ میں ایک پٹرول پمپ بھی تھا صبح سویرے یہقاصہ بریخنا کے گھر آیااور اسکے والد حضرت عمر سے اسکا رشتہ مانگا اور انکار پر طیش میں اس نے چھری کے وار کر کے اسے قتل کردیا، بریخنا والد کو بچانے آئی توچھریوں کے متعدد وار لگنے سے شدیدزخمی ہوگئی جس کے بعد ملزم نے بھی خودکشی کرلی. انکے مطابق مجروح حضر ت عمر اور اس کی بیٹی بریخنا کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ حضرت عمر راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ بریخنا کو ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں وہ رات ساڑھے دس بجے دم توڑ گئی جبکہ مقتولہ کے بھائی بلال نے یہ الزام عائدکیا کہ ملزم علی اکبر اجرتی قاتل تھا اور ہمشیرہ و والد کو قتل کرنے آیا تھا مقتول کے بھائی نصیب گل نے بیان دیا ہے۔۔۔جاری ہے ۔

کہ مقتولہ کے ساتھ میرے بھائی کا 3سال سے تعلق تھا وہ اس پر 2کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے7ماہ قبل وہ 15لاکھ روپے ، 8تولے سونالیکر گیا اوروہ بریخنا کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھا. نصیب گل کا کہنا تھا کہ میرا بھائی کا ارمڑ میں اپنا پٹرول پمپ ہے اور وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا تھا وہ اجرتی قاتل نہیں بلکہ اس کا قتل پلاننگ کے تحت ہوا ہے.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news