”سانڈہ اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ ذبح کرنے کے 8 گھنٹوں بعد بھی زندہ رہتا ہے“ سانڈے کیا ہیں اور انہیں ذبح کر کے تیل کیسے نکالا جاتا ہے؟ کیا یہ تیل واقعی ادویاتی خصوصیات رکھتا ہے؟ دلچسپ اور مفید معلومات جانئے

آپ سب نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ”سانڈے کا تیل“ تو ضرور سنا ہو گا لیکن یہ سانڈے کہاں رہتے ہیں، انہیں ذبح کر کے تیل کیسے بنایا جاتا ہے۔۔جاری ہے ۔

اور کیا واقعی ان کا تیل ادویاتی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے؟ آئیے آپ کو وہ تمام مفید اور دلچسپ معلومات بتاتے ہیں جو بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔۔۔جاری ہے ۔


سانڈے جنگلوں، صحراﺅں اور وسیع و عریض ویرانوں میں پائے جانے والے غیر موزی مگر مفید جانور ہیں۔ گھاس اور مختلف جڑی بوٹیاں کھا کر زندہ رہنے والے یہ سانڈے عمر بھر پانی نہیں ہوتے اور یہ اس قدر طاقتور ہوتے ہیں۔۔جاری ہے ۔

کہ ذبح کئے جانے کے بعد بھی آٹھ گھنٹوں تک زندہ رہتے ہیں۔۔۔جاری ہے ۔


سانڈوں کا شکار کر کے ان کا تیل بنانے والے شکاری شوکت علی نے نجی ٹی وی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سانڈے میں زہر ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کاٹتا ہے۔۔۔جاری ہے ۔

یہ گھاس، مٹی اور جڑی بوٹیاں کھاتا ہے اور اس کی گردن کاٹ دیں، پیٹ چاک کر دیں اور گردے بھی نکال لیں تو بھی آٹھ گھنٹوں تک زندہ رہتا ہے۔۔۔جاری ہے ۔


حکیم ضیاءاللہ کا کہنا ہے کہ یہ چربی طبی ادویات میں بیرونی طور پر استعمال ہوتی ہے، اس کو مختلف تیلوں میں ملا کر مالش کی جاتی ہے، حکماءکے مطابق سانڈے کا تیل سردی اور خشکی سے پیدا ہونے والے دردوں کا علاج ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news