کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے زکام اور پسینہ ہمارے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے؟؟

جب کبھی زکام ہو تو کیسا عجیب محسوس ہوتا ہے؟انسان نہ صحتمند ہوتا ہے اور نہ بیماروں میں گردانا جاتا ہے۔ لیکن کبھی میں نے اور آپ نے سوچا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے؟گرمیوں میں زکام ہوا ،مزے مزے کے ٹھنڈے ٹھار جوس پی کر۔اب زکام کا مطلب ہوا کہ جسم میں ٹھنڈک زیادہ ہوگئی ہے۔ کچھ ٹھنڈی چیزیں کم کی جائیں ،کھجور کھالیں تو وہ بھی فائدہ مند،مصالح کا کام دے گی۔۔۔جاری ہے۔


اگر زکام نہ ہوتا تو ہم ٹھنڈی چیزیں کھاتے رہتے اور نمونیا ہوجاتا ،جو زیادہ بگڑ جائے تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ یعنی زکام رحمت ہوا۔ انسان نے کچھ تکلیف تو اُٹھائی لیکن بڑی تکلیف سے بچالیا گیا۔اسی طرح گرمیوں میں پسینہ آتا ہے،انسان تنگ پڑ جاتا ہے کہ ایک تو پسینے کی الجھن الگ اور ساتھ بدبو الگ۔لیکن یہ بھی رحمت ہے۔۔۔ کیسے؟ جسم کا درجۂ حرارت بڑھنے لگا تو ہمارے اختیار کے بغیر پسینہ بہنے لگا جس نے جسم کو ٹھنڈا کرنا شروع کردیا دوسرا جسم کے لئے الارم بج گیا کہ جسم کی برداشت سے گرمی زیادہ ہے،کچھ تدارک کیا جائےاگر پسینہ نہ ہوتا تو جسم گرم ہوتا جاتا اور پھر اس کا انجام بھی موت ہے۔۔۔جاری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہماری مرضی اور ہمارے کسب کے بغیر کیسی کیسی نعمتیں عطا کیں جن کا ہمیں ادراک بھی نہیں۔

اسی طرح یہ بیماریاں،
یہ تکالیف،
یہ دکھ،
یہ درد،
یہ غم،
یہ آزمائشیں سب علامات ہیں کہ اللہ کی طرف رجوع کرلو،
اللہ کی طرف منہ موڑ لو،
اللہ کے ہوجاؤ،
اللہ کو راضی کرلو،
اللہ سے دوستی کرلو،
اللہ کے مقرب بن جاؤ۔۔۔جاری ہے۔

اگر یہ علامات نہ آئیں تو انسان اپنی دنیاوی ڈگر پر چلتا رہے،
اور ایسی علامات نہ آنے کو ” ڈھیل” کہا جاتا ہے۔۔
بس پھر ایک دفعہ ہی ہلاکت ہوتی ہے۔
اللہ محفوظ فرمائے ۔بات یہ ہورہی تھی کہ ان علامات سے تنگ بھی آئیں گے،
تکلیف بھی ہوگی لیکن یہ دائمی تکالیف سے بچانے والی ہیں۔
جس طرح زکام اور پسینہ بہنا بڑی بیماریوں اور موت سے بچانے والی ہیں اسی طرح یہ دنیاوی تکالیف اخروی ہلاکت سے بچانے والی ہیں۔۔۔جاری ہے۔

جب گاڑی کی سوئی ٹمپريچر زيادہ ظاہر کرے تو فوراً ریڈیئیٹر میں پانی ڈالا جاتا ہے،
پھر بھی صحیح نہ ہو تو فوراً ورکشاپ لے جایا جاتا ہے تاکہ بڑے مسئلے یا بڑے خرچے سے بچا جا سکے،
اسی طرح جب یہ تکالیف آئیں تو توبہ کا پانی ڈالیں،
ندامت کے آنسو بہائیں،
دعا کی” دوا” لیں،
صدقہ کا سہارا لیں،
دو نفل حاجت پڑھیں،
صالحین کے پاس جائیں،۔۔جاری ہے۔


ان سے دعا کروائیں اور ساتھ ساتھ خوش بھی ہوں کہ آپ ڈھیل دیے جانے سے بچ گئے،یہ علامات ظاہر ہوگئیں اور آپ کو رجوع الی اللہ کی توفیق ہوگئی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news