پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کا معاملہ اور جے آئی ٹی کے 40 سوال۔۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے تحقیقاتی کمیٹی کو کیا جواب پیش کیے؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق سامنے آگئے

پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کا معاملہ اور جے آئی ٹی کے 40 سوال۔۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے تحقیقاتی کمیٹی کو کیا جواب پیش کیے؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق سامنے آگئے۔جاری ہے۔


پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کا معاملہ اور جے آئی ٹی کے 40 سوال۔۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے تحقیقاتی کمیٹی کو کیا جواب پیش کیے؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق سامنے آگئے۔۔۔۔ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل کیس میں انکشاف کیا تھا کہ ملزم عمرانکا تعلق ایک انٹرنیشنل گروہ سے ہے جو بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔اور اس میں ایک وفاقی وزیر کا بھی ہاتھ ہے۔ جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعووں پر ازخود نوٹس لیا تاہم اب سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والے کمیٹی کسی بھی ٹھوس نتیجے پر پہنچنے تاحال ناکام ہو گئی ہے۔جاری ہے۔

۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے تحقیقات کرنے کے لیے کمیٹی کو مہلت دے رکھی ہے جس کے تحت تحقیقاتی کمیٹی نے شاہد مسعود کو تین مرتبہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں بُلا کر تفتیش کی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان انٹیلی جنس بیورو کے جائنٹ ڈائریکٹر انور علی اور اسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو شامل ہیں۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد 29 جنوری کو ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیاتھا۔ کمیٹی کو ایک ماہ میں شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے اور یہ مدت اٹھائیس فرروی کو ختم ہورہی ہے۔۔جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود سے کی جانے والی تفتیش کی رپورٹ یکم مارچ کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک سوالنامہ دیا تھا جس میں 40 سوال شامل تھے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود تاحال انکوائری کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی سے منسلک ذرائع کے مطابق شاہد مسعود کو جب پہلی بار ایف آئی اے کے صدر دفتر بلایا گیا تو انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو سپریم کورٹ میں دوران سماعت اپنایا تھا۔ڈاکٹر شاہدمسعود بہت زیادہ پُرجوش تھے لیکن کمیٹی کے ارکان نے ان کو بتایاکہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہورہی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ تعاون کریں بصورت دیگر سپریم کورٹ کو آگاہ کیا جائے گا کہ دعوے کرنے والے نے کوئی تعاون نہیں کیا اور مسلسل اپنی بات ہی کرتے رہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کالے شیشوں والی لینڈ کروزر میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر آئے تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکاکہ وہ گاڑی کس ادارے یا کس شخصیت کی ملکیت ہے ۔۔جاری ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود نے پہلی پیشی پر انکوائری کمیٹی کے ارکان پر رعب جھاڑنے کی کوشش کی لیکن اگلی دو پیشیوں پر ان کوآگاہ کر دیا گیا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو مینڈیٹ سپریم کورٹ نے دیا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news