گتھی سلجھ گئی، انتظار کو کس طرح اور کیوں قتل کیا گیا؟ اصل کہانی نے سب کے رونگٹے کھڑے کر دیئے

انتظار قتل کیس میں تین انسپکٹرز سمیت آٹھ پولیس اہل کاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے، برطرف کئے جانے والوں میں انسپکٹرطارق رحیم، انسپکٹرطارق محمود اور انسپکٹر اظہر حسین شامل ہیں تفصیلات کے مطابق انتظار قتل کیس میں

۔۔جاری ہے۔

اہم پیش رفت ہوئی ہے، ڈی آئی جی سی آئی اے ڈاکٹر امین یوسف زئی نے اے سی ایل سی کے تین افسروں سمیت نو اہلکار نوکری سے برطرف کر دیئے ہیں، برطرف ہونے والوں میں انسپکٹر طارق رحیم، طارق محمود اور اظہر احسن رضوی واضح رہے کہ تینوں افسروں کو انکوائری مکمل ہونے کے بعد برطرف کیا گیا۔ ڈی آئی جی سی آئی اے کے خط کے متن کے مطابق تمام اہل کاروں کو حتمی شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے تھے۔

۔۔جاری ہے۔

خط کے متن کے مطابق پولیس افسروں اور اہلکاروں نےشامل ہیں۔اختیارات سے تجاوز کیا۔چیکنگ کے دوران سادہ گاڑیاں استعمال کیں۔انتظاراحمد کی گاڑی کو روکنے کے بجائے اس پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے واقعہ رونما ہوا۔ڈی آئی جی سی آئی اے ڈاکٹر امین یوسف زئی کا مزید کہنا ہے کہ واقعے سے پولیس کے امیج کو نقصان پہنچا۔دوسری جانب حکومتی نوٹی فکیشن کے مطابق کیس کے ذمے داران میں شامل تین انسپکٹرز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،نوٹی فکیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ دوران تفتیش انتظارکی گاڑی پرفائرنگ کو کسی صورت درست قرارنہیں دیا جا سکتا،

۔۔جاری ہے۔

یہ عمل قانون کے منافی تھا. گاڑی کا تعاقب کیا جاسکتا تھا۔نوٹی فیکشن کے مطابق پولیس اہل کار فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے تھے، سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے فائرنگ بھی ذاتی ہتھیارسے کی تھی، جو ایس اوپی کے خلاف ہے اور ناقابل قبول ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news