یہ خواتین تربوز ہاتھ میں اُٹھائے کس چیز کے خلاف احتجاج کررہی ہیں؟ جان کر ہر مسلمان لڑکی کے شرم سے گال لال ہوجائیں

بھارتی ریاست کیرالہ کے ایک کالج کے پروفیسر کی جانب سے مسلمان طالبات کے لباس کے متعلق دئیے گئے بیان کے جواب میں ناصرف سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے بلکہ طالبات نے بھی اپنے غصے کے اظہار کے لئے انتہائی منفرد انداز میں احتجاج شروع کر دیا ہے۔۔(جاری ہے) ہ


فاروق ٹریننگ کالج کے پروفیسر جوہر منور نے ایک تقریب کے دوران طالبات کے لباس پر تنقید کرتے ہوئے سینکڑوں والدین کے سامنے کہہ دیا کہ طالبات اپنی چھاتیوں کی تربوز کی قاشوں کی طرح نمائش کرتی پھرتی ہیں۔ پروفیسر کے اس بیان کے خلاف کالج کی طالبات نے ہاتھوں میں تربوز اُٹھا کر مظاہرہ کیا اور اس بیان پر پروفیسر کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔۔(جاری ہے) ہ


پروفیسر نے اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ”اس کالج میں 80 فیصد طالبات ہیں جن میں سے اکثریت مسلمان ہیں۔ یہ لڑکیاں پردے میں ہوں تو بھی اپنی ٹانگیں دکھاتی رہتی ہیں۔۔(جاری ہے) ہ

آج کل لڑکیاں مناسب طور پر پردہ نہیں کرتیں بلکہ صرف سکارف یا دوپٹہ لیتی ہیں۔ چھاتی خواتین کے جسم کا وہ حصہ ہے جو مردوں کو اپنی جانب مائل کرتا ہے۔ یہ لڑکیاں مناسب طو رپر پردہ نہیں کرتیں اور اپنی چھاتیوں کی تربوز کی قاشوں کی طرح نمائش کرتی پھرتی ہیں۔“

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news