پاکستان کے شہر میں لڑکیوں کو سکول میں فحش فلمیں دیکھا کر بڑا سکینڈل سامنے آگیا حکومت خاموش یہاں دبا کر مکمل دیکھیں

جنسی تعلیم کے نام پر تعلیمی ادارہ کا پروفیسر معصوم بچیوں کیساتھ کیا شرمناک کام کرتا رہا؟ تفصیل پڑھ کر آپکو بھی شدید غصہ آئے گا. جنسی تعلیم کے نام پر این جی او کے کالے کرتوت سامنے آ گئے۔(جاری ہے) ہ

.محراب پور میں پرائمری سکول کی بچیوں کو فحش فلمیں دکھا کر ان سے نازیبا حرکتیں بھی کی گئی،والدین سراپا احتجاج بن گئے. تفصیلات کے مطابق جب سے زینب زیادتی کیس کا واقعہ سامنے آیا ہے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے.کہیں اس حوالے سے قانون سازی کا شور ہے تو کچھ لبرلز جنسی تعلیم کو اس کا حل قرار دے رہے ہیں۔(جاری ہے) ہ


مگر وہ جنسی تعلیم کتنی محفوظ ہو گی یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے،ایسا ہی ایک واقعہ سندھ کے شہر محراب پور مٰیں پیش آیا جہاں پرائمری سکول کی بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا. محراب پورکے نواحی علاقہ ٹنڈوکرم خان نظامانی میں میں سرکاری پرائمری اسکول کی بچیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، سافکو نامی این جی او نے لڑکیوں کوایک کمرے میں اکٹھا کرکے انہیں غیراخلاقی فلمیں دکھائیں.یہی نہیں ان کمسن لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بھی کی گئیں، واقعہ کے خلاف بچیوں کے والدین نےاحتجاج کیا.۔(جاری ہے) ہ

محکمہ تعلیم سندھ نے واقعے کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا. کیا پاکستان میں بچوں کو جنسی تعلیم دینی چاہیے یا نہیں؟ اس بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news