لاہور میں کنواری لڑکیوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ عروج پر ، یہ لڑکیاں کہاں سے لائی جاتی ہیں،انہیں گاہکوں تک کون اور کیسے پہنچاتا ہے؟تہلکہ خیز انکشافات

صوبائی دارالحکومت لاہور میں10 سے 12سال کی عمرکی لڑکیوں سے مکرو ہ دھندے کروانے کے لئے اپنے گاہکوں کو واٹس ایپ ، ایمواور میسنجر کے ذر یعے تصویر بھیج کر بکنگ کرنے کا انکشاف۔روزنامہ خبریں کے مطابق لاہور میں نا با لغ لڑ کیو ں سے جسم فرو شی کا مکروہ د ھند ہ کروانے والے‘(جاری ہے

گرو ہ کا انکشاف ہو اہے ، مذکو رہ گروہ نے شہر کے مختلف مقاما ت پر جسم فرو شی کے خفیہ اڈے بنا ر کھے ہیںجنہیں محکمہ پو لیس کے کچھ ضمیر فرو ش افسران کی بھی مبینہ طو ر پرسر پر ستی حاصل ہے ۔رپورٹ کے مطابق شہر میں کم سن لڑ کیو ں سے زیا دتی کے واقعا ت ہا ئی لا یٹ ہو نے پرمذکو رہ گینگ پہلے اپنے گا ہک کو 10 سے 12سال عمر کی لڑ کی کا کنوارہ پن فروخت کرنے کے لئے واٹس ایپ ، ایمو،میسنجر اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس کے ذریعے تصویر بھیج کر بکنگ کر تا ہے ، پھر لڑ کی کو اسکی بتا ئی ہو ئی جگہ پر گا ر نٹی لے کر بھیج دیا جاتا ہے‘(جاری ہے

۔جنسی ٹاؤٹ کی جانب سے لڑکی کے کنوارے پن کی گارنٹی ہونے کی وجہ سے اس ایک رات کی قیمت ہزا رو ں سے لا کھو ں میں ہو تی ہے۔ 5سال قبل شہر میں 200قحبہ خانے تھے جن کی تعداد اب بڑھ کر 445ہو چکی ہے۔ اسی طرح ایک اندازے کے مطابق لاہور میں پانچ سال کے دوران جسم فروشی میں دگنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے شہر میں ایک لاکھ سے زیادہ جسم فروش خواتین ،نابالغ لڑکے اورلڑکیاں ہیں جن کی عمریں 12سے 13سال سے لے کر 40 ،45سال تک ہیں حالات کے باعث ان کی تعداد میں ماہانہ سو سے دو سو تک کا اضافہ ہو رہا ہے۔جسم فروشی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نا م نہ بتا نے کی شر ط پر بتایا کہ اس دھندے میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیںان میں ایسی بھی ہیں جو سو روپے میں بک جاتی ہیں‘(جاری ہے

اور ایسی بھی جو اپنے آپ کو پیش کرنے کے لاکھوں روپے وصول کرتی ہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ لاہورشہر میں جگہ جگہ جسم فروشی کے اڈے کھل گئے ہیں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جبکہ بڑی مارکیٹوں، سڑکوں، درباروں، باغوں، پارکوں اور اہم علاقوں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news