زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا کرتی اللہ کسی کو” باہر والی ‘ کا دکھ نہ دکھائے.اس سے

زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا کرتی اللہ کسی کو” باہر والی ‘ کا دکھ نہ دکھائے.اس کی بیٹیاں اکثر اس سے پوچھتی؛۔۔جاری ہے۔


اماں! یہ باہر والی کون ہوتی ہے ؟آج اس کی بیٹیاں اس کو زبردستی بٹها کر پوچھنے لگیں. زینب ہنس کر بولی بیٹا! باہر والی تمہاری ماں جیسی ہوتی ہے. بچیاں حیرانی سے بولیں :۔۔جاری ہے۔


“اماں ! زینب ہنس کر بولی :”بیٹا! تمہارے ابا کا رشتہ جب میرے ماں باپ نے قبول کیا تو وہ اسی بات کے داعی تھے کہ زات پات، برادریاں، قبیلوں کی تقسیم صرف انسانوں کی پہچان کے لیے ہے ان کی تقسیم کے لئے نہیں.”مگر شادی کہ بعد مجھے میرے سسرال نے بتایا کہ میرا تعلق ان کی برادری سے نہیں۔۔جاری ہے۔

.اس لئے میں “باہر والی ” ہوں. کتنے مزے کی بات ہے کہ آج سترہ سال بعد بھی میں باہر والی ہوں.کمرے میں خاموشی چھا گئی “باہر والی ” کے غم میں.

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani