شعبان کی رات دعا کیسے مانگیں اللہ سے دعا مانگنے کا صحیح طریقہ

دعا کے معنی پکارنے اور بلانے کے ہیں . مطلب یہ ہے کہ اپنی حاجت کے لیے الله تعالیٰ کو پکارا جاۓ تا کہ وہ اس ضرورت کو پوری کرے
الله تعالیٰ فرماتا ہےتم مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرونگا (المومن٦٠)جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی پکار کو قبول کرتا ہوںاور فرمایالوگو! اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو( الاعراف)حدیث میں آتا ہے جو شخص الله سے سوال کرتا ہے تو اسکو اللہ تعالیٰ تین چیزوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے۔۔جاری ہے


(١)یا تو اسکی مراد پوری کر دیتا ہے.(٢) یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے (دنیا و آخرت میں )(٣) یا اس کے زریعے سے آنے والی کوئی بری مصیبت دور کر دیتا ہے.ہر انسان دنیا میں آ کر کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہی ہے پھر اس پریشانی اور مشکل کو ختم کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے اور الله رب العزت کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا بھی کر تا ہے لیکن الله کو پکارنے کے انداز مختلف لوگوں کے مختلف رہے ہیں کسی کا گمان یہ ہے کے الله ہم جیسوں کی بات نہیں سنتا لہٰذا الله کے پاس قبر والوں کا وسیلہ لگانا چاہیے ہماری فریاد ان قبر والوں کے پاس اور انکی فریاد الله کے آگے حالانکہ ایسا نہیں ہے الله فرماتا ہے:”جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں (تو آپ کہ دیجیے) میں قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھ کو پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں”کیا عقلمند آدمی یہ ماننے کو ہیں کہ ایک آدمی ہمارے درمیان رہتا تھا پھر اسکو موت آ گئی اور اسکو غسل اور کفن دے کر اسکا جنازہ پڑھ کر ہم نے اسکو دفن کیا اور پھر قریب اور دور سے اس نے لوگوں کو پکڑنا شروع کر دیا اب اس قبر والی ہستی کو ہزاروں میل دور سے بھی اور قریب سے بھی بغیر وسیلے کے پکارا جا رہا ہے، اور الله رب العزت جس نے انسان کو پیدا کیا جسکو اونگھ بھی نہیں آتی جو انسان کے دل میں آنے والے خیالوں کو بھی جانتا ہے اور انسان کے قریب ہے اسکو پکارنے کے لیے فوت شدہ اشخاص کا وسیلہ لگایا جا رہا ہےالله قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔۔جاری ہے

بیشک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے(روم ٥٢ )اگر کوئی کہے کہ وہ مردے نہیں(جیسا کہ بعض لوگ قبر والوں کو مردہ نہیں نہی مانتے) تو الله نے انکا بھی رد کیا ہے.تم قبر والوں کو نہیں سنا سکتے(فاطر ٢٢ )ان دلائل کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب بھی دعامانگی جاۓ الله سے مانگی جاۓ.ازکار کی تاثیر کے لیے ایک ور بات مد نظر رکھی جاۓ کہ بندہ جب ازکار پڑھ رہا ہو تو اس کے گلے یا بازو وغیرہ میں کسی قسم کا کوئی تعویذ نہ ہو کیوں کہ رسول الله نے فرمایا:جس نے جو چیز لٹکائی وو اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے (ترمزی)اب الله سے کسی چیز کا ذمہ ختم ہو جاۓ تو خود سوچیےکہ اب یہ ازکار اسکو فائدہ دے سکتے ہیں؟ویسے بھی الله کے رسول نے تعویذ کو شرک قرار دیا ہے (مسند احمد، ابن ماجہتمام صحابہ کرام رضوان الله علیہ اجمعین تعویذ کو برا جانتے تھے اگر چہ وہ قرانی تعویذ ہوں یا غیر قرآنی (ابن ابی شیبہ)دعا کی قبولیت کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ بندہ جلدی نہ کرے رسول الله نے فرمایا بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک بندہ جلدی نہ کرے اور اسکا جلدی کرنا یہ ہےکہ بندہ کہے میں دعا کرتا ہوں اور دعا قبول نہیںہوتی (مسلم)دعا کی قبولیت کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہے بندے کی دعا قبول ہوتی ہےرسول الله نے فرمایا:بندہ جو دعا کرتا ہے الله تعالیٰ اسکو وہی کچھ دے دیتا ہے جو اس نے مانگا تھا. اور اگر وہ اسے نہ ملے تو کوئی آنے والی مصیبت جو اس پر آنے والی تھی۔۔جاری ہے

(جو بندے کے علم میں نہیں تھی ) الله تعالیٰ دعا تو قبول نہیں کرتا مگر وہ آنے والی مصیبت بندے پر سے ٹال دیتا ہے.اور اگر ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہ ہو تو الله تعالیٰ اس مانگی ہوئی دعا کا اجر روز قیامت دیگا (مسند احمد)قبولیت دعا کے لیے بعض اوقات بھی کتاب و سنّت سے ثابت ہیں جیسے فرض نمازوں کے بعد اور خاص طور پر سحری کے وقت. یہ ایسا وقت ہے کہ الله خود پکارتا ہے کہ ہے کوئی اس سے مانگنے والا الله اسکی دعا قبول کرے (صحیح مسلمجادو آسیب کور نظر بعد کے علاج کے لیے وہی طریقہ اپنایا جاۓ.جو شریعت اسلامیہ نے ہم کو بتایا ہے، اگر کوئی شخص غیر شرعی ازکار اور وظائف اپناۓ گا. تو وہ حق سے دور ہو جایگا. اور الله کی بارگاہ میں اسکا عمل رد کر دیا جایگا، رسول الله نے فرمایا۔۔جاری ہے


جس نے ایسا عمل کی جس کا حکم ہم نے نہ دیا ہو وہ رد ہے، (مسلم)لہٰذا عمال صرف ور صرف وہ کرنے چاہیے جو قرآن اور سنّت سے ثابت ہوں، بعض لوگوں کو اگر ذرا سیکوئی پریشانی آ جاۓ تو وہ سمجھتے ہیں کے کسی نے کچھ کروا دیا ہے. اور جلد ہی کسی جھاڑ پھونک والے کو تلاش کرتے ہیں ایسے لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ ان مسنون ازکار کو اپنائیں جو رسول الله نے تعلیم دئےہیں. ان شا الله وہ ان آفات سے محفوظ رہیں گے، صبح اور شام کے ازکار کا پابندی سے اہتمام کریں. وہ دعائیں جو شیطان سے بچاؤ کا سبب ہیں. انکو پڑھتے رہیں. اگر کوئی شخص کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو ان ہی ازکار سے ان بیماریوں اور پریشانیوں کا علاج کرے،جو رسول الله نے بتائی ہیں. عقیدہ کی درستی کے ساتھ پابندی نماز کرتے ہوئےالله رب العزت سے دعا مانگیں وہ ان شا الله ضرور قبول کریگا، الله رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمکو صرف اپنے سے ہی دعا مانگنے کی توفیق دے،۔۔جاری ہے

اور ہماری تمام جائز حاجات کو پورا کرے اور ہماری تمام پریشانیوں اور بیماریوں کو دور کرے کیوں کہ توفیق دینے والی ذات تو صرف الله کی ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news