ٹیپو سلطان‎ کی نعش کی ساتھ کیا سلوک ہوا پڑھینے مشہور فاتح سلطان ٹیپو کا مکمل احوال

ٹیپو سلطان کو توپ بنانے میں بھی اولیت حاصل ہے‘ ایک فرانسیسی انجینئر کی مدد سے اس نے توپ کا کارخانہ بھی بنایا‘ ٹیپو سلطان غالباًہندوستان کا پہلا میزائل مین بھی تھا جس نے طغرق نامی راکٹ بنایا تھا اور اسے انگریزوں کے خلاف استعمال کیا ‘‘ ٹیپو سلطان (10 نومبر 1750 ~ 4 مئی 1799) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا

۔۔جاری ہے

اورسال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا: ’’شیر کی ایک دن کی زندگی‘ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کے لئے سنجیدہ و عملی اقدامات کئے۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا ۔سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کے لئے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا ‘غدار ساتھیوں نے دشمن کے لئے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔بارود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 1799ء میں دوران جنگ سر پر گولی لگنے سے شہید ہو گئے۔شہادت ایک مرد کامل کی موت نہیں بلکہ حیات انسانی کی پیدائش ہوتی ہے۔ حیات کی فنا کائنات کی بقا بن جاتی ہے۔ ملک و ملت کی خاطر بہادری اور عزت کی موت مرنے والے اپنی قوموں کے دل و دماغ میں تاقیامت زندہ رہتے ہیں اور آزادی کی تڑپ رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں ۔ ٹیپو سلطان کی شہادت ہندوستان کی لکھی جانے والی تاریخ کا المیہ ہے مگر حریت پسند اور غیرتمند انسانی تاریخ کاروشن باب ہے۔ سلطنت میسور جس کو حیدر علی نے سلطنت خداداد کا نام دیا تھا‘ اس شہادت کے ساتھ حیدر علی اور ٹیپو سلطان جس شعور کو عام کرنا چاہتے تھے اور جس قوت کو وہ ملک سے باہر نکالنے کی جدوجہد میں مصروف تھے اسی غیر ملکی طاقت کے آگے مقامی حکمران دست بستہ تھے بلکہ اس کے ساتھ مل کر ان کے خلاف کمربستہ ہو کر ہندوستان کو غلامی کی طرف دھکیل رہے تھے۔ ٹیپو سلطان ‘نظام اور مرہٹوں سے لڑ کرمذہب و ملک کی دہائی دیتا رہامگر ان کے بہرے کانوں سے یہ آواز ان کے مردہ دل تک اتر نہ سکی۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے چار سال بعد1803ء میں فرخ آباد کے مقام پر ہلکر (مرہٹہ سردار)کی شکست سے انہیں اس بات کا احساس ضرور ہوگیا تھا کہ ٹیپو سلطان کی شکل میں وہ مضبوط دیوار جو انگریزوں کی راہ میں حائل تھی ان ہی کی مدد سے گرادی گئی تھی۔ اب غیر ملکی طاقت کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہندوستان انگریزوں کے سامنے سرنگوں کھڑا تھا!

۔۔جاری ہے

ہندوستان کو غلامی سے بچانے کی کوشش میں اپنی جان دینے والا پہلا ہندوستانی حکمران ٹیپو سلطان بیک وقت حکمران ٗ عالم مفکر مدبر جرنیل انجینئر تاجر زاہد متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔ ٹیپو سلطان حضرت ٹیپو مستان کے فیض سے فخر النساء کے بطن سے20 نومبر1750ء میں جمعہ کے دن پیدا ہوا۔ اس کا نام فتح علی رکھا گیا۔ پانچ سال کی عمر سے اس نے عربی فارسی کنڑزبان کے علاوہ قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم لینا شروع کی۔ اس کے ساتھ فن سپہ گری کی تعلیم بھی شروع ہوئی۔ 15سال کی عمر سے وہ فوجی مہم جوئی میں حصہ لینے لگا۔ ٹیپو سلطان کا کھانا سادہ لباس سادہ اورطرز کلام نہایت شیریں اور ملائم تھا۔ ہر وقت ہاتھ میں تسبیح ہوتی۔ فجر کی نماز کے بعد پابندی سے تلاوت قرآن پاک کرتا۔ اس کی زبان سے کوئی سخت اور فحش بات نہیں نکلتی تھی۔ کسی بھی معاملے میں وہ اعتدال کا دامن نہیں چھوڑتا۔ انتہائی محنتی فرض شناس ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھا۔ دستر خوان پر ہر وقت کچھ افراد ہوتے جن میں اس کے دو تین فرزند ضرور شامل ہوتے۔ وہ اکثر ان سے اللہ اور رسول کی باتیں کرتا سواری میں گھوڑے کا استعمال کرتا۔ نہایت مجبوری کی حالت میں وہ پالکی پر سوار ہوتا۔ سماج میں ادنیٰ و اعلیٰ کی پہچان نہ بڑھے اس کی خاطر اس نے پالکی کی سواری پرپابندی لگا رکھی تھی۔ وہ عام طورپر فارسی زبان میں بات کرتا مگر کنڑ اور ہندوستانی (اردو) سے بھی واقف تھا۔ فارسی کنڑتلگواور مراٹھی چاروں زبانوں میں وہ سرکاری خط و کتابت کرتا‘اس کے لئے اس نے ان زبانوں کے سیکرٹری مقرر کر رکھے تھے علمی اور مذہبی امورپر گفتگو کرنا اس کا بہترین مشغلہ تھا۔ مؤرخوں کے اقتباسات اور شعراء کا کلام پڑھتا اور سنتا ‘رات میں بستر پر لیٹ کر کوئی تاریخی یا مذہبی کتاب پڑھتا۔ اس کی بردباری اورخاکساری کا یہ عالم تھا کہ فرشی سلام یا جھک کر سلام کرنا تو دور ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے کو بھی وہ پسند نہ کرتا۔ مسجد میں جہاں جگہ مل جاتی وہیں کھڑا ہو کر نماز پڑھ لیتا

۔۔جاری ہے

وہ صاحب قلم تھااس کی تحریر مختصر مگر جامع ہوتی اور الفاظ میں تحکم پایا جاتا تھا۔ ادب اور تصوف سے اسے گہرا لگاؤ تھا۔ نذرونیاز میں یقین رکھتا تھا اور اولیائے کرام کی اس کے دل میں محبت تھی بلاتفریق عبادت گاہوں کو گرانٹ دیتا تھا جس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ٹیپو سلطان بادشاہ کے ساتھ ساتھ مصلح بھی تھا اس نے سماجی اور معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے اور ان کی اصلاح کی پوری کوشش کی۔ اس نے انسانوں کی بلی (قربانی) دینے کی رسموں کو ختم کیا۔ عورتوں کی خریدوفروخت پر پابندی لگائی۔ عورتوں کو پورا بدن ڈھکنے کا حکم دیا ۔ شرم و حیا کو عام کیا۔ فضول خرچی اوربے جا اسراف پر پابندی لگائی۔ آمدنی کاایک فیصد ہی خیر خیرات اورتیوہاروں پر خرچ کرنے کی اجازت دی۔ مختلف تقریبات کے اخراجات کی حد متعین کی۔ شراب اور منشیات پر اپنے عوام کے لئے پابندی عائد کی۔ ٹیپو کی بڑی کوشش کرپشن کی روک تھام تھی اس کے لئے وہ بذات خود متحرک رہتا اس نے اپنے تمام ماتحتوں کو ان کے مذہب کے مطابق حلف دلوایا تھا کہ وہ رشوت نہیں لیں گے۔ٹیپو سلطان ہندوستان کاپہلا سیکولر حکمران تھا آج کے ہندوستان کی طرح ہی اس کی سلطنت میں الگ الگ مذہب کے لوگوں کے لئے الگ الگ سول کوڈ تھا۔ مسلمانوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق اور ہندوؤں کا فیصلہ ہندو مذہب کے مطابق کیا جاتا ‘وہ بلاکسی تفریق کے اپنے عوام کے ساتھ شفقت سے پیش آتا اورعدل و انصاف کا معاملہ کرتا۔ اس زمانے میں جو حکومت کاچلن تھا اس میں ٹیپو کے مطلق العنان ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پہلی بار ٹیپو کے نظام حکومت میں جمہوریت کی جھلک دکھائی دیتی ہے اس کی حکومت میں سات محکمے تھے اورہر محکمے کا ایک بورڈ تھا جس کا اجلاس ہوتا اور متعلقہ شعبے کے معاملات زیر بحث آتے اور اکثریت سے فیصلے لئے جاتے۔ ہر ممبر اپنی رائے تحریری صورت میں اپنے مہر کے ساتھ سیل بند کردیتا اور ضرورت پڑنے پر اسے سلطان کے پاس بھیجا جاتا۔ خود سلطان کو کبھی کوئی فیصلہ لینا ہوتا تو وہ پورے دن غوروخوض کرتا پھر اپنے خاص افسروں کو بلا کر ان کی رائے جانتا۔ ان کی رائے سنتا پھر اپنی رائے سے موازنہ کر کے کوئی فیصلہ کرتا۔ تجارت و صنعت پر اس کا کافی زور تھا

۔۔جاری ہے

اسے یقین تھا کہ تجارت میں ہی ترقی ہے۔ ٹیپو سلطان کا یہ خیال تھا کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ تجارت صنعت و حرفت سے اس کی عدم توجہی ہے جب کہ یورپی ملکوں کی ترقی اور کامیابی کا راز اس سمت میں ان کی دلچسپی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ تجارت کے بہانے آئی انگریز قوم کس طرح دن بدن ہندوستان کی سرزمین پر پھیلتی جا رہی ہے۔ ٹیپو سلطان نے مختلف ملکوں میں تجارتی مراکزقائم کئے جنہیں اس زمانے میں کوٹھیاں کہا جاتا تھا اس نے تجارت کے لئے اپنے صوبے کے سمندری ساحلوں کا بخوبی استعمال کیا۔ غیر ملکوں میں اس نے فیکٹری قائم کرنے اوراس کے بدلے میسور میں بھی اس ملک کی فیکٹری لگانے کی تجویز اپنے سفیروں سے بھجوائی۔ خلافت عثمانیہ(ترکی) کے سامنے اس نے یہ تجویز رکھی تھی ’’خلیفہ ٹیپو کے پاس ایسے صنعتکار بھیجے جو بندوقیں اور توپیں ڈھال سکیں جو شیشے اور چینی کے برتن اور دوسری چیزیں بنا سکیں اس کے بدلے میں ٹیپو بھی ایسے کاریگروں کو جو اس کی قلمرو میں پائے جاتے ہیں اور جن کی خلیفہ کو ضرورت ہو قسطنطنیہ بھیجے گا اور یہ کہ سلطنت عثمانی کی حدود میں اسے تجارت کی سہولتیں ملیں اس کے بدلے میں ٹیپو بھی عثمانی حکومت کو اسی قسم کی سہولتیں اور رعایتیں مملکت میسور میں دے گا‘‘۔ ٹیپو سلطان نے شاہ فارس کو بھی ایک خط لکھا تھاجس میں اس نے فارس کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اس کے بدلے فارس کے تاجروں کو اپنے بندرگاہوں سے تجارت کرنے کی اجازت دی تھی۔ ٹیپو سلطان مختلف ملکوں میں اپنے سفیر بھیجتا اور انہیں ہدایت دیتا کہ ان ملکوں کی صنعت و حرفت ماہرین اور انجینئر سے وہ رابطہ کریں اور ممکن ہوتو اپنے ساتھ انہیں لے آئیں۔ ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسے تجارت کے ساتھ ساتھ سیاحت اور دوسرے ملکوں کے جغرافیائی اور سماجی و معاشی صورتحال کی جانکاری حاصل کرنے کی بھی خواہش تھی اس نے اپنے ان سفیروں کو جنہیں وہ قسطنطنیہ روانہ کیا تھا‘ یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وہ ان خلیج فارس کا بحری جائزہ لیں اور جن مقامات سے گزریں وہاں کے جغرافیائی سماجی سیاسی ومعاشی حالات کا مطالعہ کریں اور اپنے تجربات کو قلم بند کرتے رہیں‘‘۔یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ پہلی بار ٹیپو سلطان نے حصص بازار یاشیئر مارکیٹ کی شروعات کی تھی۔ اس نے ایک تجارتی کمپنی قائم کی تھی جس کا ہر کوئی شیئر خرید سکتا تھا اس میں کم رقم لگانے والے کو زیادہ منافع دیا جاتا تھا۔ ریاستی سطح پر ذہین افراد کی تلاش کی سکیم اور ان کے انتخاب کا باقاعدہ طریقہ کار پہلی بارٹیپو سلطان کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے جس کی بنیاد پر ملک کے کونے کونے سے گمنامی میں پڑے ہوئے افراد کو حکومت کا عملہ اور کارندہ بنایا جاتا اور انہیں ترقی دی جاتی اعتماد اور اہمیت کے حامل ایسے ہی لوگوں کو سونپے جاتے ‘ٹیپو سلطان ایسی حکمرانوں میں پہلا حکمران تھا جو اسلحے کے معاملے میں خودکفیل ہوگیا تھا۔ بیدنور اور بنگلور میں اس نے ہتھیار بنانے کا کارخانہ لگوایا تھا جہاں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ دستی بندوقیں بنائی جاتی تھیں اور حسب ضرورت گولہ بارود تیار کئے جاتے تھے

۔۔جاری ہے

اس کے کارخانے میں بنائے جانے والا گولہ بارود انگریزوں کے گولہ بارود سے بہتر تھا۔ ٹیپو سلطان کو توپ بنانے میں بھی اولیت حاصل ہے۔ ایک فرانسیسی انجینئر کی مدد سے اس نے توپ کا کارخانہ بھی بنایا تھا ۔ ٹیپو سلطان غالباً ہندوستان کا پہلا میزائل مین تھا جس نے طغرق نامی راکٹ بنایا تھا اور اسے انگریزوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔ شکرقند سے بہترین شکر بنانے کی ٹیکنالوجی بھی ٹیپو سلطان نے وضع کی تھی حالانکہ اس ترکیب کو اس نے ہمیشہ صیغہ راز میں رکھا۔ بحری جنگی جہازوں کے نقشے خود بنانا اور کس دھات کی چادروں اور کون سی لکڑی کااستعمال کہاں اور کیسے ہوگا وہی طے کرتا۔ وہ بہترین معمار تھا اس کے بنائے ہوئے قلعےسرنگاپٹنم کے محل کی مسجد مسجد اولیٰ اور دریائے دولت باغ محل کی منقش دیواریں اور حیدر علی کا مقبرہ اس کے فن تعمیر کے بہترین نمونے ہیں ۔ دریائے دولت باغ محل میں جو اس نے ایئر کنڈیشننگ کا نظام لگایا تھا وہ بھی اس وقت اپنے آپ میں ایک نئی ایجاد تھی ۔ اس نے کادیری ندی کے سیلاب سے سرنگا پٹنم کو بچانے کے لئے سیلاب کنٹرول کا جو طریقہ اختیار کیا تھا آج بھی وہی طریقہ رائج ہے۔ اس نے1791ء میں سرنگا پٹنم سے چند میل کی دوری پر ایک بند تعمیر کروایا تھا جس کے پشتے کی بلندی 70 فٹ تھی اس نے زیر کنٹرول علاقوں میں نہروں اور تالابوں کا جال بچھا دیا اور اس کی دیکھ بھال کیلئے الگ سے ایک محکمہ بنایا تھا ٹیپو نے عراق کے نجف اشرف میں جہاں پانی کی کمی رہتی تھی۔ دریائے فرات سے نہر نکال کر پانی پہنچانے کی پیشکش وہا ں کے سلطان سے کی تھی۔خطاطی سے اسے گہرا شغف تھا۔ اس کے سکے فن خطاطی کے بہترین نمونے ہیں۔ رسالہ درخط طرز محمدی کے نام سے اس نے فن خطاطی پر ایک کتاب لکھی تھی جس میں فن خطاطی کے اصول وضع کئے تھے۔ یہ کتاب فارسی میں تھی۔ علم نجوم پر بھی اس نے ایک کتاب تصنیف کی تھی جس کا نام زبرجد تھا۔ ٹیپو سلطان ایک نئی تقویم(کیلنڈر) کا بھی موجود تھا جو شمسی اور قمری برسوں سے مختلف تھا۔ اس کی شروعات سال نبوت سے ہوتی اور اس کا نام مولودی تھا یہ مولودی کیلنڈر آج بھی کرناٹک اور تمل ناڈ و میں زرعی معاملات کے لئے سرکاری طورپر استعمال ہوتاہے۔ تصوف موسیقی تاریخ طب فن حرب قانون اورحدیث کے موضوع پر کم و بیش45 کتابیں اس نے اپنی سرپرستی میں تصنیف یاترجمہ کروائیں۔ اس نے اپنی رہنمائی میں حسن علی عزت کے ذریعے1785ء میں مفتاح القلوب کے نام سے میسور کی موسیقی پر ایک کتاب لکھوائی تھی۔ ٹیپو سلطان علم و سخت کا دلدادہ تھا۔ شعراء اور ادباء اس کے دربار کی زینت تھے۔

۔۔جاری ہے

اسے ادب سے کافی شغف تھا۔ وہ صاحب قلم تھا۔ اچھی نثر لکھتا تھا شاعری بھی آسانی سے کرلیتا۔ تحفتہ المجاہدین وقائع منزل اور احکام نامہ جیسی کتابیں اس کی نگرانی میں تصنیف ہوئی۔ ان میں بہت سے مضامین اور اشعارخودسلطان کے تصنیف کردہ ہیں۔ ٹیپو سلطان کے علم و ادب سے شغف کا یہ عالم تھا کہ اس نے جمیع الامور کے نام سے ایک یونیورسٹی قائم کی تھی۔ اس نے ایک بڑی لائبریری بھی بنا رکھی تھی جس میں تمام علوم و فنون سے متعلق کتابیں موجود تھیں۔ اس میں دو ہزار عربی فارسی ترکی اردو اور ہندی کے مخطوطات تھے۔ کچھ اس کے مخطوطات ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال(جسے اب ایشیاٹک سوسائٹی آف کلکتہ کہتے ہیں) کچھ کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کو بھیجے گئے باقی فورٹ ولیم کالج کو دے دئیے گئے۔ اس لائبریری کی اردو کی کتابیں آج بھی انڈیا آفس لائبریری لندن میں محفوظ ہیں۔لیکن ٹیپو سلطان کی اس بے مثل شخصیت سے خوداسے اور اس کے تعلق سے ہندوستان کوغیر معمولی نقصان بھی پہنچا۔ اس کی یہ بے شمار خوبیاں اسے سیاسی طورپر اکیلا اور کمزور کررہی تھیں نظام جیسی بے عمل حکومت اور مراٹھے جیسے متعصب حکمرانوں نے یہ اندازہ لگالیا تھا کہ اگر ٹیپو سلطان کو برباد نہیں کیاگیا تو وہ نہ صرف ان کے خطے پر بلکہ پورے جنوبی ہندوستان پر تسلط قائم کرے گا۔ دوسری طرف انگریزوں کو بھی یہ لگنے لگا تھا کہ ان کی راہ میں یہ نہ صرف حائل ہے بلکہ اس کو موقع ملا تو وہ انہیں اس ملک سے دربدر کر سکتا ہے۔ لہٰذا ان سب نے مل کر ٹیپو سلطان کے خلاف ایک اتحاد قائم کرلیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اسے پوری دنیا جانتی ہے۔ٹیپو سلطان کی انگوٹھی کی نیلامی سلطنت میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی ایک طلائی انگوٹھی گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والی نیلامی میں ایک لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ۔لندن کے نیلام گھر کرسٹیز میں نیلام کی جانے والی اس انگوٹھی پر ہندؤوں کے دیوتا رام کا نام کندہ ہے۔بعض افراد کا کہنا ہے انگوٹھی پر رام لکھے ہونے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ٹیپو سلطان کے دل میں ہندوؤں کے لیے ہمدری تھی۔ہندوستان کے بادشاہ ٹیپو سلطان کا شمار بھارت میں انگریزوں کے خلاف لڑنے والے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انگوٹھی 1799ء میں ایک برطانوی فوجی کمانڈر نے ٹیپو سلطان کو لڑائی میں شکست دینے کے بعد ان کی انگلی سے اتار لی تھی۔41.2 گرام وزن کی اس انگوٹھی کو ابتدائی اندازوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا گیا ہے۔ نیلامی میں کامیاب ہونے والے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ۔ ٹیپو سلطان علامہ اقبال کی نظر میں:

۔۔جاری ہے

شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی 1929 میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ آپ نے فرمایا:’’ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کے اس مقصد کی راہ میں شہید ہوگیا‘‘ سادہ زندگی بسر کرنے والا بہادر حکمران ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی‘ مذہبی تعصب سے پاک تھے یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا۔حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے۔باوضو رہنا اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں آپ کو عربی‘ فارسی‘ اردو‘ فرانسیسی ‘انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اورذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا۔ اسلحہ سازی ‘ فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔میسور کی چوتھی جنگ جو سرنگاپٹم میں لڑی گئی جس میں سلطان نے کئی روز قلعہ بند ہوکر مقابلہ کیا مگر سلطان کی فوج کے دو غدار میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیچھے لے گیا۔ شیر میسور کہلانے والے ٹیپو سلطان نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کیا

۔۔جاری ہے

اور سرنگاپٹم کے قلعے کے دروازے پر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ٹیپو سلطان کی پڑپوتی ’ نور‘ کا لندن میں ایستادہ مجسمہ نور عنایت خان پہلی جنوری 1914ء میں روس میں پیدا ہوئیں۔ ان کی ماں امریکی اور باپ ہندوستانی (ٹیپو سلطان کا پوتا)تھے۔ان کا بچپن فرانس اور جوانی برطانیہ میں گزری۔ صرف 30 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔2006ء میں’’ شربینا باسو‘‘ نے نور عنایت خان کی سوانح حیات لکھی جس میں انہوں نے نور کو ’جاسوس شہزادی‘ کا نام دیا۔سالہا سال سے گمنامی کے پردے میں رہنے والی برطانوی جاسوس نور عنایت خان جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں پکڑے جانے پر بد ترین تشدد کو برداشت کیامگر برطانوی حکومت سے وفا داری نبھاتے ہوئے اپنی زبان نہیں کھولی ‘ان کی اس بہادری ا ور ناقابل فراموش قربانی کو برطانیہ کی حکومت نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لندن کے معروف علاقے گورڈن براؤن میں ان کامجسمہ نصب کیا ہے۔ مجسمے کی تقریب نقاب کشائی شہزادی این کے ہاتھوں ہوئی۔ اس موقع پرانہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ’’یہ مجسمہ لوگوں کو نور کی قربانی کی یاد دلائے گا اور‘ وہ خود سے ان اپنے سوالات کا جواب مانگیں گے کہ نور کون تھی ؟ اور اس کا مجسمہ یہاں کیوں نصب ہے ‘‘؟ شربینا باسو اس بات کی قائل ہیں کہ ٹیپو سلطان کی پڑ پوتی ہونے کی وجہ سے شاید نور کو بھی کسی ملک کا دوسرے ملک پر تسلط پسند نہیں تھا۔1942ء میں نور نے برطانیہ کی خفیہ سروس ( ایس او ای ) اسپیشل آپریشن ایگزیکٹو میں ایک ریڈیو آپریٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔

۔۔جاری ہے

وہ ان دنوں واحد آپریٹر تھیں‘جنہیں نازیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایک گروپ کے ساتھ پیرس بھیجا گیا جو نازیوں کے قبضہ میں تھا۔ اس مشن میں ان کا خفیہ کوڈ’میڈالائن‘ تھا۔مشن پورا کرنے کے لیے وہ روپ بدل بدل کر اپنی جگہیں تبدیل کرتی رہیں لیکن تین مہینے بعد ہی ان کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا مگر نور نے آخری وقت تک اہم خفیہ پیغامات برطانوی حکومت کو پہنچاتی رہیں۔ اس دوران خفیہ سروس کی اعلیٰ قیادت نے انھیں واپسی کی پیشکش بھی کی مگر وہ اپنا مشن کو ادھورا چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے جانے سے مزاحمتی گروپ کا رابطہ برطانیہ سے ختم ہو جائیگا۔1943ء میں انھیں ایک فرانسیسی عورت کی مخبری پر گرفتار کر لیا گیا۔ دس مہینے کی قید اور بد ترین تشدد کے بعد بھی انھوں نے جرمن فوج کو برطانیہ کی حکومت کے اہم راز نہیں بتائے اور نہ ہی ان کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوئیں۔ دوران قید انھوں نے دو بار فرار کی کوشش بھی کی جس کے بعد انھیں جرمنی منتقل کر دیا گیا

۔۔جاری ہے

جہاں ستمبر1944 میں جرمن فوج نے انھیں قید میں ہی گولی مار دی۔جس وقت جرمن فوجی ان پر بندوقیں تانے کھڑے تھے‘ تب بھی ان کی زبان پر اپنے دادا کی طرح آزادی کا نعرہ تھا۔ان کی اس دلیری اور جرات مندی پر انھیں1945 میں برطانیہ کے اعلیٰ سویلین ایوارڈ’ جارج کرس‘سے بھی نوازاگیا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں