جن زادی ایک انوکھی کہانی5

زہرا کی آواز سن کر میں پریشان ہوگیا زہرا تم کہاں ہو میرے سامنے آئو میں نے کہا مگر اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی تھوڑی دیر بعد فوزیہ دفتر میں داخل ہوئی جی تو رضوان صاحب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں چائے مپئیں گے یا ٹھنڈا جی فوزیہ بس کچھ نہیں ارے سے کیسے ہوسکتے ہے چائے تو آپ کو پینی پڑے گی فوزیہ نے انٹرکام پر چائے اور سینڈوچ کے لئے کہا جی رضوان آپ آج سے ہی میرے ساتھ میرے گھر چلیں گے۔۔جاری ہے

وہاں پر میرا ایک وکیل آئے گا ہمارے جعلی نکاح نامے کے کاغذات تیار کرے گا اور اس کے بعد اگلا پروسیجر وہ آپ کو خود بتائیے گا اتنے میں چائے آگئی چائے کے ساتھ ہم نے سینڈوچ کا لطف اٹھایا فوزیا نے مجھے پورا آفس گھما کر دیکھایا دو بجے کے قریب وہ مجھے اپنی گاڑی میں اپنی کوٹھی پر لے گئی ہم دونوں نے مل کر کھانا کھایا شام چار بجے کے قتیب ایک وکیل کوٹھی میں آیا وکیل اتنا ہٹا حرام کھا کھا کر توند بڑھی ہوئی تھی فوزیہ کے آگے بجھا چا رہا تھا اس دو نمبری کے کام کے اس نے کتنے پیسے وصول کئے تھے یہ میں اس کا رویہ دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا اس نے کچھ کاغذات پر میرا نام کا اندراج کیا اور میرے دستخط کروائے پھر اس نے فوزیہ کو خوشخبری دی کہ اب وہ اس کا کیس عدالت میں پیش کرے گا اب کوٹھی میں میں بطور فوزیہ کے خاوند کے تہنے لگا بظاہر ہم ایک ہی کمرے میں سونے کے لیے جاتے مگر جو ہی رات تھوڑی زیادہ ہوتی فوزیہ دوسرے کمرے میںچلی جاتی فوزیا کی کوٹھی میں صرف دو ملازم تھے ایک رضیہ جو کھانا لکانے کے علاوہ صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہے اور دوسرا دین محمد جو گیٹ کیپر اورمالی کا کام کرتا تھا انہیں بھی یہی بتایا گیا کہ فوزیہ نت شادی کرکی ہے اور میں انکا خاوند انہیں بتایا گیا کہ گھر کا مالک ہونے کت واسطے وہ میرا ہر حکم بجا لائیں گے رضیہ ایک ادھیڑعمر کی چالاک اور شاطر عورت تھی وہ بڑی خوشی سے دونوں کو مبارک بات دینے لگی دوسرے دن مجھے فوزیہ نے بتایا کہ اس کی سوتیلی ماں کو اطلاع مل چکی تھی اور وکیل نے بھی کورٹ میں کیس سنمٹ کروا دیا تھا دوسری شام وکیل نے ہمیں بتایا کہ سوتیلی ماں کو پتہ چلا تو اس نے کافی برا منایا اس کا اعتراض تھا کہ بےشک سوتیلی سہی مگرماں ہونے کے ناتے فوزیہ کو شادی کرنے سے پہلے اسے اعتماد میں لینا چاہیے تھا چائیداد کا جھگڑا ہمارا اپنا گھر ہے مگر اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لئے کسی بڑے کا مشورہ ہونا ضروری تھا فوزیا نے اس کا مجھے بتایا کہ وہ اندر سے پریشان ہیں۔۔جاری ہے

کیونکہ اس کو کوئی بھی وار نہیں چل رہا میرا کھانے پینے اور رہائش کا مسئلہ حل ہو چکا تھا تین چار دن میں ہی مجھے اس آسائش بھری زندگی کا مزہ آنے لگا کاش کے وہ ہمیشہ کے لئے میری بیوی بن جائے تو میرے مزے ہی مزے ہو وہ روز میرے لئے ناتشہ اور کھانا بنا کر لاتی میں دوپہر تک پا آرام کرتا رہتا اور وہ شام چار یا پانچ بجے آفس سے واپس آتی پھر اس نے مجھے کہا کہ تم بھی آفس میں دلچسپی لینا شروع کردو آخر تکہیں وہاں ہی نوکری کرنی ہے پھر میں نے فوزیہ کے آفس جانا چروع کردیا اس نے اپنے ہی دفتر میں ایک کمرہ میں لیے مخصوص کردیا اور اکائونٹنگ کا کچھ کام میرے ذمے لگا دیا گیا دفتر کے ہر آدمی ہر لڑکی کو پتہ چل چکا تھا کہ میں فوزیہ بی بی کا خاوند ہو اس لیے ہر کوئی میرا احترام کرتا ہوں ایک دن میں دوپہر گیارہ بچے تک سوتا رہا فوزیہ مجھے جگانے آئی لیکن میں طبیعت خراب بہانہ کرکے لیٹا رہا اس دن واقعی میرا اٹھنے کو دل نہیں چا رہا تھا گیارہ بجے کے قریب رضیہ نے مجھے اطلاع کی کہ بڑی بیگم آپ سے ملنے کے لیے آئی ہیں بڑی بیگم سن کر میں حیرت میں پڑگیا کیونکہ میں کسی بڑی بیگم کو نہیں جانتا تھا رضیہ نے مجھے بتایا کہ فوزیہ کی سوتیلی ماں کو بڑی بیگم کہتے تھے میں منہ دھو کر کپٹرے پہن کر نیچے اسے ملنے کے لیے آگیا ۳۵ یا ۴۰ سال کی خوبصورت جوان عورت تھی مجھے دیکھ کر اخلاق سے ملی اور کہنے لگی کیا تم فوزیہ کے خاوند ہو جی ہاں میں نے بتایا تم سے مل کر خوشی ہوئی وہ مسکراکر کہنے لگیں جی مجھے بھی آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی میں نے مسکرا کر لیے ڈھیروں دعائیں میں نے اس کا شکریہ ادا کیا رضیہ چائے بسکٹ لے آئی وہ میرے پاس بیٹھی رہیں پھر اس نے مجھے بتایا کہ فوزیا اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی اسے غلط فہمیاں ہیں جو مجھے دور کرنے چاہیے خاندانی جھگڑوں کو عدالتوں میں لے جانا اچھی بات نہیں مجھے اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی بہت مہذب اور اخلاق والی عورت تھی اس نے مجھے اپنے گھر کا پتہ سمجھایا اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی پھر وہ چلی گئی تو میں نے اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا شام کو فوزیہ آئی تو میں نے اسے بتایا کہ اس کی سوتیلی ماں دن کے ووت مجھے ملنے آئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ہم کاندانی جھگڑے کو عدالت میں نے جانے کے بجائے آپس میں ہی معاملات طے کرلیں فوزیہ نفرت سے بولی تم نہیں جانتے رضوان وہ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ شاطر عورت ہے۔۔جاری ہے

وہ تمہیں شیشے میں اتار کر اپنا مقصد حل کرنا چاہتی ہے لیکن فوزیہ مجھے تو اس کی کسی بات سے ایسا محسوس نہیں ہوا میں نے کہا بہت جلد تم جان لو گے مگر احتیاط سے کیونکہ تم میرے لئے کامر کر رہے ہو اس کے گھر جانے کی کوئی ضرورت نہیں فوزیہ نے سختی سے کہا تو میں نے سر ہلا دیا ٹھیک ہے فوزیہ میرا جانا بنتا بھی نہیں فوزیا اب مجھے اچھی لگنے لگی تھی کیونکہ میری اس سے کافی فرینکنیس تھی ڈنر کے بعد ہم اکثر بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا ھقیقی شادی کے بارے میں کیا ارادہ ہے کیا تم نے کسی کو اپنے لیے پسند کر رکھا ہے وہ اس بات پر مسکرا دی ابھی تک کوئی نہیں میں اکثر دفتر میں دیر سے بھی جاتا تو وہ مجھے کچھ نہ کہتی بلکہ دل کی بہت بادشاہ تھی مجھے اس نے کبھی روپے پیسے کی کمی نہیں آتے وی کھانے کے لیے مجھے اچھی چیز لاکر دیتی اب میرے دل میں اس کے لیے بہت احترام پیدا ہوچکا تھا اس دن میں گھر میں بیٹھا تھا کہ دوبارہ بڑی امی گھر آئی اور مجھ سے اپنے گھر نہ آنے کا شکوہ کرنے لگی باتوں ہی باتوں میں اس نے مجھے یہ باوز کروانے کی کوشش کی کے فوزیا سے کہو گے عدالت سے کیس واپس لے ہم دونوں مل کر آپس میں اپنا اپنا حصہ بانٹ لیتے ہیں میں نے اس سے معذرت چاہی کہ مجھے ان کے کیس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں وہ چلی گئی مگر اس کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی اس رات مجھے فوزیہ نے بتایا کہ وہ سوتیلی ماں صرف ۳۰ فیصد حصے کی وارٹ ہے کروڑوں کی جائیداد میں سے صرف فیصد ملنے پر وہ پریشان ہیں اس لیے بار بار مجھ سے ملنے آئی ہے اس دن میں فارغ تھا میں نے سوچا کیوں نہ بڑی امی سے ملا جائے فوزیا آفس جا چکی تھی میں بڑی امی کے گھر کی طرف چل پڑا فوزیہ کے ابو نے اسے چھوٹی مگر بہت اچھی کوٹھی لے کر دی تھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بہت اچھے طریقہ سے خوش آمدید کہا فورن چائے شربت سے میری تواضع کی پھر اس نے مجھے کہا کہ فوزیہ کو منائو کہ میرے ساتھ بیٹھ کر بات کرے وہ باتیں کرتی کرتی میرے قریب آکر بیٹھ گئی وہ جوان اور جاذب نظر عورت تھی مجھے پسندیدیگی کی نظروں سے دیکھنے لگی سنو رضوان اگر تم چاہو تو میری جائینداد بھی میاری ہوسکتی ہے۔۔جاری ہے

اگر تم اسے چھوڑ کر مجھ سے شادی کر لو اس کی بات سن کر میں بھونچکا رہ گیا میں اس سے کمینگی کی توقع نہیں کرسکتا تھا میں اس کی بات سن کر خاموش ہوگیا تو وہ کہنے لگی رضوان میری طرف دیکھو کیا میں اس سے کم خوبصورت ہو اس کے باپ نے پیسے کی وجہ سے مجھ شادی کی تھی اس کے باپ اور میری عمر میں زمیں آسمان کا فرق تھا میں جوانی میں ہی بیوہ ہوگی کا لیبل لگا کر بیٹھ گئی میری امنگیں آج بھی جوان ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی دے سکتی ہوں وہ میرے ساتھ میرے قریب صوفے پر جڑ کر بیٹھی تو مجھے شرم آگئی جی میں سوچوں گا میں اٹھنے لگا تو اس نے میرا ہاتھ تھام لیا سنو رضوان آئی لو یو اس کے منہ سے اتنے نے باک جملے سن کر مجھے شرم آگئی وہ ہوس کی ماری ہوئی عورت تھی جو صرف اپنے جسم کی پیاس بجھانا چاہتی تھی میں اس سے اجازت لے کر اپنے گھر آگیا رات کو فوزیا آئی تو میں نے اسے سامنے بیٹھا کر کہا فوزیا میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی کہو پھر میں نے اس کے گھر آنے سے لے کر اس کے گھر میں آکر ملنے تک سارا واقعہ بتا دیا اس کی آنکھوں میں میرے لئے غصہ تھا کہ میں اس کے گھر کیوں ملنے کے لیے گیا تو کیا تم اس کی آفر ماننے کو تیار ہو کیونکہ میرے ساتھ تمہاری شادی تو صرف ایک ڈیل کی حد تک ہے نہیں فوزیہ میں اس شادی نہیں کروں گا مگر تمیارے ساتھ میری جو ڈیل ہوئی ہے میں اس پورا کرکے ہی دم لونگا تم میری حقیقی بیوی نہیں لیکن مجھے اس زیادہ عزیز یو کیونکہ اپنے کے علاوہ تم نے مجھے جتنی عزت دی ہے میں اس کے قابل نہیں تھا اور دوسری بات جب تک تمہارا کیس حل نہیں ہوجاتا میں تمیارے ساتھ ہی ہو اور اس کام تم سے کوئی معاوضہ نہیں لوں گا میری بات پر وہ حیرت سےمیری طرف دیکھنے لگی اس کے بعد میں خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا وکیل نے چند ہفتوں میں ہی کیس مکمل کروادیا فوزیہ کی ۷۰ فیصد جائیداد اس کے نام ہوگئی جب اس کا کام ختم ہوا۔۔جاری ہے

تو میں نے اس رات فوزیا سے کہا فوزیہ اب تمارا کام ختم ہوا میں کل یہاں سے کہیں اور چلا جائوں گا وہ سراٹھا کر مجھے دیکھنے لگی اور پوچھھا کہاں جائو گے وہیں جہاں سے آیا تھا میں نے آہستہ سے کہا فوزیہ مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں اپنے لئے جھلملاتی پسندیدگی میں دیکھ رہا تھا کیا تم یہاں نہیں رہ سکتے تم اچھی طرح جانتی ہو میں کس حیثیت سے یہاں رہ سکتا ہوں میرے یہاں رہنے کا اب کوئی جواز نہیں تم رہ سکتے ہو میرے خاوند کی حیثیت سے اچانک اس کے منہ سے نکلا لیکن ہماری جو ڈیک تھی وہ تو پوری ہوگئی ہاں لیکن میں تمہارے ساتھ ہی ایک اور ڈیل کرنا چاہتی ہوں فوزیہ نے کہا کیسی ڈیل میں نے حیرت سے پوچھا میں واقعی تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس کی بات سن کر میں نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا میرے اس طرح دیکھنے پر وہ شرما گئی تو کیا فوزیہ تم ہاں رضوان میں تمیں پسند کرتی ہوں تم غریب ضرور ہو لیکن بھی تک تم نے مجھ سے کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھائا ایک عظیم انسان ہو مٰں تمہیں کھونا نہیں چاہتی اس نے کہا تو میں سرشار ہوگیا میں نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیا اس کے گورے مرمریں ہاتھ میں اپنے ہاتھوں میں لےلیے دوسرے دن شام کو ہم نے مولوی کو بلوایا کر اصلی نکاح پڑھو لیا۔۔جاری ہے

اس کے بعد وہ میری حقیقی بیوی بن گئی اگلی رات میری حقیقی سہاگ رات تھی میں رات کو اپنے کمرے میں فوزیہ کے پاس آیا تو اچانک کانوں میں آواز گونجی رضوان تم نے میرے ساھ اچھا نہیں کیا یہ سو فیصد زہرا کی آواز تھی میں خوف سے کاپننے لگا

کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں