فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا قسط 11

ایک آدمی مسلسل میرا پیچھا کر رہا تھا اور مجھے اب بات کا مکمل اندازہ تھا میں تیز تیز قدموں سے اپنے نبگلے کی طرف چلنے لگا تھوڑی دیر بعد میں بنگلے کے سامنے تھا وہ آدمی میرا پیچھا کر رہا تھا میں نے بنگلے کے سامنے پہنچ کر دیکھا تو اب وہ آدمی غائب تھا میں تجس میں پڑگیا کہ وہ کون ہے اور کیوں میرا ہہیچھا کر رہا ہے مگر اس بات کو جواب صرف میرا موکل ہی دے سکتا تھا میں نے اپنے کمرے میں پہنچ کر موکل کو حاضر کیا آج کافی دنوں کے بعد میں نے اس کو بلوایا تھا میں نے اس سے کیا کہ وہ آدمی کون ہے جو میرا پیچھا کر رہا تھا۔جاری ہے ۔

اس نے بتانے پر میں حیران رہ گیا وہ آدمی ایک ذکیت تھا شہر میں آئے امیر لوگوں کو لوٹنا اس کا پیشہ تھا اسی لیئے وہ میرا پیچھا کر رہا تھا موکل نے مجھے اس سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا میں نے اسے رکصت کر دیا اس رات بہت ٹھنڈ تھی میں کمبل کو دوہرا کرکے آرام سے لیٹ گیا آج گھومنے پھرنے کی وجہ سے میں مکمل طور پر تھک چکا تھا اس لیے تھوڑی ہی دیر میں مجھے نیند آگئی ابھی میں میٹھی میٹھی نیند کا مزہ لے ہی رہا تھا کہ مجے ایسا محسوس ہوا جیسے دروازے پر کھٹکا ہوا میں ایک دم اُتھ بیٹھا میں دبےقدموں دروازے کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا کوئی دروازے کا ہنڈل گھماکر کھولنے کی کوشش کر رہا تھا مگر میں مطمعیں تھا کہ وہ دروازہ لاک تھا مگر اس وقت میری حیرت کیانتہا نہ ہی جب دروازہ کھل گیا اس آدمی نے چور چابی سے تالا کھول لیا تھا میں کچھ ڈر گیا مگر میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک نقاب پوش اندر داخل ہوا زیرہ کے بلب کی مدھم لائٹ میں اس کا سایہ واضع نظر آرہا تھا وہ جونہی اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے چھلانگ لگا کر اس کو قابو کرلیا دونوں ہاتھ اور بارو پیچھے موڑ کر میں نے اس دبا لیا وہ اچانک اس حملے پرتیار نہیں تھا اس کے ہاتھ میں ایک چاقو تھا میں نے نور خان کو زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں۔جاری ہے ۔

وہ نقاب پوش اپنا آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا میں گائوں کا پلا ہوا نوجوان تھا میری گرفت سے نکلنا آسان نہیں تھا نور خان میرے شور پر دوڑ چلا آیا اندر آکر اس نے لائٹ آن کی اور دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ میں نے ایک نقاب پوش کو قابو کر رکھا ہے نور خان پوزیشن سمجھ گیا اس نے اس نقاب پوش کے ہاتھ سے چاقو چھین لیا میں نے اس اشادہ کیا کہ اس کے ہاتھ باندھ دو نور خان نے رسی سے اس کے ہاتھ باندھ دیے میں نے اسکا نقاب اتار دیا ادھیڑ عمر کا آدمی تھا ہاں تو اب بولو کون ہو تم میرے ہاتھ کھول وہ غرایا ارے ارے اتنی جلدی بھی کیا ہے ابھی تو تمہارا میں ایسا حشر کروں گا کہ تم یاد رکھو گے جلدی بتائو ککون ہو تم میں نے ایک ڈنڈا اُٹھا لیا اور تڑاخ سے اس کی کمر میں رسید کای وہ درد سے بلبلا اُتھا مگربولا نہیں میں نے نور خان سے کہا اس الٹا لٹائو فرش پر نور خان نے اس کو فرش پر الٹا لٹا دیا میں نے تڑاتڑ ڈنڈے اس کی کمر اور کولہوں پر مارنے شروع کردیے وہ چضینے لگا بتاتا ہوں بتاتا ہوں خدا کے لیئے مت مارو میں غصے میں تھا میں نے روکتے روکتے بھی بیس پچیس ڈنڈے اسے مار دیے نورخان میرا یہ روپ دیکھ کر حیران تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ میں اتنا ظالم بھی ہوں ہاں تو اب بتائوتم کون ہو میں نے غصے سے پوچھا بتائو ورنہ پھر ارے نہیں نہیں میں پرویزہوں مجھے ارشد نے بھیجا ہے کہ اس آدمی کے پاس بڑا مال ہے ہوں ارشد کون وہ جی میرا یار ہے دو نمبریوں کا ماسڑ ہم سب کا ڈان وہ فخر سے ارشد کے بارے میں بتا رہا تھا اچھا ٹھیک جلدی بتائو وہ کہاں ہے اس وقت وہ جلدی بتائو میں نے ایک اور ڈنڈا رسید کیا واہ اس وقت اچھو کے ہوٹل میں ہے وہیں رہتا ہے اچھا میں پر سوچ انداز میں بولا نور خان جی صاحب جی اسے ساتھ والے کمرے میں بند کر دو اس کے دونوں پائوں باندھ اور دونوں ہاتھ بھی چخیتا رہا مگر نورخان اسے لے کر چلا گیا تھوڑی دیر بعد نور خان اسے بند کر کے آگیا میں نے کہا نور خان تم دھیان رکھنا میں ابھی آتا ہوں میں نے درازہ سے بھراپسٹل نکالا اور بنگلے سے باہر نکل پڑا ایک ٹیکسی لی اور اس سے کہا بھائی مجھےکھانا کھانا ہے سنا ہے اچھو کے ہوٹل کا کھانا مشہور ہے۔جاری ہے ۔

جی صاحب جی یہ تو ہے ڈرائیور بولا اچھا تو مجھے لے چلو صاحب جی دو سو روپے لوں گا ارے لے لینا یار میں نے کہا ٹیکسی والا مجھے لے کر اچھو کے ہوٹل آگیا میں نے کائونٹر سے کمرے کا پوچھا تو جواب ملا کہ پانچ سوروپے میں ایک کمرہ رات کے لیے مل سکتا ہے میں نے کمرہ بک کروالیا ویٹر مجھے لے کر ایک کمرے میں آگیا ویٹربولا صاحب جی آپ کے پاس تو کوئی سامان نہیں وہ حیران تھا ہاں یار بس ایک رات ہی ٹھہرنا ہے ایک دفتری کام سے آیا ہوں میں نے اسے ٹالا وہ مڑنے لگا تو میں نے پوچھا سنو یہاں ارشد کون ہے میری بات پر وہ چونکا ارشد جی ارشد کو کون نہیں جانتا نیچے تاش کھیل رہا ہوگا ویٹر بولا چلو مجھے زرا اس سے ملنا ہے میں نے کہا تو ویٹر سرہلا کر مجھے دوبارہ نیچے لے کر چل پڑا نیچے ہال میں ایک کونے میں چار پانچ مسٹنڈے تاش کھیل رہے تھے ویٹر نے اشارہ کیا کہ وہ مونچھوں والا ارشد ہے جی میں نے سوکا نوٹ ویٹر کی جیب میں ڈالا وہ خوش ہو کر سلام کرکے چلا گیا میں ایک کونے میں بیٹھ گیا اور چائے کا آڈر دے دیا میں چائے کی چسکیاں لینے لگا اور مسلسل ارشد کو دیکھ رہا تھا ارشد ایک گھنٹے تک کھیل میں مگن رہا پھر اپتھ کر وہاں سے نکل پڑا میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا پسٹل محفوظ تھا میں نے زرا فاصلہ رکھ کر ارشد کا پیچھا کرنا شروع کر دیا یہ وہی آدمی تھا جو دن کے وقت میرا پیچھا کر رہا تھا اور اب میں اس کے پیچھے تھا۔جاری ہے ۔

ارشد ہوٹل سے نکل کر باہر روڑ ہو لیا تھوڑی دور چلنے کے بعد وہ ایک نیچی پہاڑی کے راستے پر ہولیا میں نے دیکھ لیا کہ وہاں کوئی نہیں اجا رہا تھا مین نے زور سے آواز دی ارشد ارے ارشد وہ چونک کر مڑا میں تھوڑی دیر میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا کون ہو تم بھئی وہ بولا ارے یار مجھے نہیں پہچانا دن کو تو تم میرا پیچھا کر رہے تھے میری بات پر وہ ایک دم ہوشیار ہوگیا اور جیب سے چاقو نکال لیا مگر اس سے پہلے میں ہوشیار ہوچکا تھا میں نے چھلانگ لگا کر اسے قابو کر لیا اور باوز کا گھیرا گردن کے گرد ڈال لیا حرام زادے میرا پیچھا کرتا ہے جب تک میں تیری جان نہ لے لوں تن تک مجھے چین نہیں ائے گا میں غصے سے دیوانہ ہوگیا تھا وہ میرے بازئوں میں بے بس مچھلی کی طرح پھڑک رہا تھا میں نے پسٹل اس کی گردن کے ساتھ لگا دی مم مم مجھے معاف کردو وہ ہکلایا اب چل تجھے معاف کر دوں مجھے مارنے آدمی تو نے بھیجا تھا نا پہلے تیرا کام تمام کروں گا پھر اُس کا ٹھاہ ٹھاہ میں نے دو فائر اس کی گردن پر کر دیے اس بیچارے کو چیخنے کا بھی موقع نہ ملا اور وہیں ڈھیر ہوگیا میں نے اس کی لاش پہاڑی سے نیچے پھینک دی میرا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوگیا مگر اب دوسرے کو ٹھکانے لگانا ضروری تھا۔جاری ہے ۔

میں گھر پہنچا اور نور خان سے کہا کہ اسے میرے پاس لے آئو نورخان اسے بندھے ہوئے میرے پاس لے آیا میں نے وہی چاقو اُٹھایا جسے وہ ساتھ لایا تھا اور اس کی گردن کاٹ دی اس کی لاش فرش پر تڑپ رہی تھی نور خان یہ دیکھ کر بولا صاحب جی یہ آپ نے کیا کر ڈالا

کہانی ابھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں