ان عورتوں پر اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا: ”اللہ تعالی نے جسم گودنے والوں اور گودوانے والیوں اور بال اُکھیڑنے والوں اور جڑ سے بال اکھیڑ کر ختم کرنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں کے درمیان فاصلہ کرنے والیوں،اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ہیئت بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے”.۔۔۔جاری ہے

جب اس بات کی خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی، جن کو ام یعقوب کہتے تھے تو وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ نے فلاں فلاں پر لعنت کی ہے، تو ابن عباس نے فرمایا: میں ایسوں پر کیونکر لعنت نہ بھیجوں جن پر خود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہو اور اس کا حکم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں مذکور ہو ، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: (وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا) – اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ [سورہ حشر: ٧].آبرو کے بال اُکھیڑنے کو عربی زبان میں ”النمص” کہتے ہیں. اور آبرو کے علاوہ چہرے کے دیگر بالوں کا ” نمص ” میں داخل ہونے کے سلسلے میں عربی لغت کے ماہرین سے دو قول منقول ہیں اور انہی دو اقوال کی بنیاد پر علمائے کرام کے درمیا ن بھؤوں کے علاوہ چہرے کے دیگر بال اُکھیڑنے کے بارے میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا یہ حرام ہے یا مباح؟.” النامصہ ” وہ عورت کہلاتی ہے جو خود اپنے بال اُکھیڑتی ہو یا کسی دوسری عورت کے بال اُکھیڑتی ہو. اور ” المتنمصہ’ ” وہ عورت کہلاتی ہے جو دوسروں سے ایسا کام کراتی ہو.۔۔۔جاری ہے

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ یا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی خاص کام کے کرنے پر لعنت کی وعید سنانا اس کام کے بڑے گناہوں میں سے ہونے کی علامت ہوتی ہے. اس لئے غیر شادی شدہ عورت کے لئے بال اُکھیڑنا یا کسی اور سے یہ کام کروانا نا جائز ہے. اگر یہ عمل کسی علاج کے لئے ہو اور اس کی ضرورت ہو یا کسی عیب کو دور کرنے کے لئے ہو یا پراگندہ اور کھڑے بالوں کو برابر کرنے کی خاطر ہو تو جائز ہے، ان سے ہٹ کر دوسری جو بھی صورت ہو وہ ناجائز ہے.جہاں تک شادی شدہ عورت کے بال اُکھیڑنے کا تعلق ہے تو جمہور فقہائے کرام کے نزدیک شوہر کی اجازت یا اس کے اشارے پر بھؤوں کے ان زائد بالوں کا صاف کرنا جائز ہے اس لئے کہ ایسا کرنا زیب و زینت کے مفہوم میں داخل ہے، اور زیب و زینت کرنا عفت و پارسائی کے لئے مطلوب ہے، اور شریعت نے عورت کو شوہر کے لئے سنورنے کا حکم دیا ہے ۔ .۔۔۔جاری ہے

شادی شدہ عورت کا بال اُکھیڑنے کے جواز کے قائلین کی دلیل یہ روایت ہے کہ بکرہ بنت عقبہ سے مروی ہے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چہرہ ارد گرد کے بال دور کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا، ”اگر تمہارا کوئی شوہر ہو یعنی اگر تم شادی شدہ ہو تو تم اپنے دیدوں كو اگر باہر نکال سکتی ہو اور ان کو پہلے سے زیادہ اچھی طرح مزین اور بنا سنوار کر رکھ سکتی ہو تو یہ بھی کرو”۔ احکام النساء ۔ ابن جوزی صفحہ ٩٤.امام طبری نے ابو اسحاق کی اہلیہ سے روایت کی ہے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں ،اس وقت وہ جوان تھیں۔۔۔جاری ہے

اور بننا سنورنا ان کو بہت عزیز تھا، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا عورت اپنے شوہر کا دل جیتنے کے لئے اپنے پیشانی کے بال صاف کر سکتی ہے؟، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، ”جہاں تک ممکن ہو اپنے آپ سے بد نما چیزیں دور کر لیا کرو”.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں