جن زادی ایک انوکھی کہانی6

جن زادی کی آواز سن کر میں خوف سے کاپنے لگا یہ پہلی بار تھی کے مجھے اس کی آواز سن کر خوف آگیا تھا کہیں وہ میری سہاگ رات کے ارمانوں کا خون ہی نہ کردے میں دے قدموں کمرے کی طرف بڑھنے لگا کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل میں نے آہستہ سے اسلام علیکم کہا فوزیہ نے خوش دل سے جواب دیا وہ گھونگھٹ نکالے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔جاری ہے

ابھی میں کنڈی لگانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ دوبارہ میرے کانوں میں وہی آواز گونجی تم نے مجھے دھوکا دیا ہے رضوان اس کا بدلہ میں تم سے ضرور لونگی چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے میں اس کی بات سن کر گھبرا گیا لیکن اس میں میرا کیا قصور تھا اس نے خود ہی مجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا میں سر جھٹک کر نئی نویلی دلہن کو خوشی سے دیکھنے لگا جو صرف میری تھی اس کے بعد میں نے فوزیہ کو شادی کی پہلی رات کا تحفہ پیش کیا اس رات میں نے دل سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہم دونوں ایک دوسرے کا ساتھ پاکر بہت خوش تھے ابھی سہاگ رات کا آغاز بھی نہیں کیا تھا کے اچانک بیڈ کے نیچے سے ایک بہت بڑا سانپ نکل کر بیڈ پر آبیٹھا سانپ اتنا خوفناک تھا کے فوزیا بیڈ سے اٹھ کر چیخیں مارتی یوئی کمرے سے نکل کر نکل گئی میں پریشان ہوگیا تھا کہ یکایل کیا ہو گیا بیٹھے بٹھائے ایک دم سانپ کہاں سے آگیا لیکن فلحال اس بات کا کوئی پتہ نہیں تھا میں نے سوچا شاید کہیں کونے کھدرے سے نکل آیا ہوگا سانپ سائز کافی بڑا تھا اور کافی خوفناک تھا جلدی سے نوکروں کو بلوایااور لاٹھیاں اٹھا کر اس کے پیچھے لگ گئے سانپ الماری کے پیچھے گھسا الماری کو کھینچ کر دیکھا گیا مگر سانپ کہیں نظر نہ آیا پورا کمرہ بلکہ پورا گھر چھان مارا مگر سانپ کا کہیں وجود نہ ملا اسے زمین کھا گئی آسمان کوئی پتہ نہیں تھا فوزیہ خوف کے مارے اس کمرے میں نہیں جا رہی تھی مجبورا ہم نے اوپر والے کمرے میں جاکر بستر لگا لیا اس کے ذہن پر سانپ کی دہشت سوار ہوچکی تھی کہ وہ بری طرح گھبرا گئی تھی میری سہاگ رات کا سارا مزہ کرکرہ ہوگیا نوکر کافی ریر تک پورے گھر میں باگتے دوڑتے رہے کہ کہہں شاید وہ سانپ نظر آجائے مگر اس کا کچھ اتہ پتہ نہیں تھا فوزیہ اتنی دہشت زدہ تھی۔۔جاری ہے

کہ میری اس کے قریب جانے کی ہمت ہی نہ ہوئی سہاگ رات صائع گئی صبح جب میری آنکھ کھلی تو مجھ سے پہلے فوزیہ اٹھ کر سارے نوکروں کو پورے گھر کو چھان مارنے کا حکم دے رہی تھی اسے ابھ یتک دہم تھا کہ سانپ ابھی بھی گھر میں ہی کہیں موجود ہے میرا ذہن اچانک جن زادی کی طرف چلا گیا کہ کہیں یہ اس کی شرارت تو نہیں مگر اس مات کا پتا لگانا فی الحال بہت مشکل تھا ۔۔۔۔دوسرے دن ایک چھوٹی سی ولیمے کی تقریب تھی جس میں بزنس کے کچھ لوگ شامل تھے پرتکلف دعوت کا اہتمام تھا لیکن مخصوص لوگ ہی انوائٹ کیے گئے تھے سب مہمان کھانا وغیرہ کھا کر اور مبارکباد دیکر رخصت ہوگئے شام کو ہم تھکے ہارے کمرے میں آکر بیٹھے تو فوزیہ کا ذہن دوبارہ سانپ کی طرف چلا گیا میں نے اسے سمجھایا کہ بے فکر رہو اب سانپ گھر میں نہیں جن ہم لاٹھیاں لے کر اس کے پیچھے بھاگے تھے وہ گھر سے نکل گیا تھا مگر وہ بچاری پھر بھی پریشان تھی دوسری رات ہماری خوشگوار رات تھی اس رات میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اس لئے میں نے پہلے ہی اسے اوپر والے کمرے میں بھیج دیا اور کھانے کے بعد ہم بیٹھ کر باتیں کرنے لگے آج رات میرا پورا پلان تھا کہ آج کی رات صائع نہیں جانے دوں گا مگر آج بھی خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔جاری ہے

فوزیہ میرے لئے دودھ کا گلاس لینے نیچے جانے لگی تو میں نے اسے روکا اور کہا کہ تم بیٹھو ملازمہ دے جائے گی تم کیوں تکلف کرتی ہوں مگر وہ پیار سے کہنے لگی نہیں میں خود آپ کےلئے اپنے ہاتھوں سے لائو گی یہ شگن ہے خاوند کو پہلے بار کھانے پینے کی چیز دُلہن کو اپنے ہاتھ سے سینی چاہیئے میں نے مسکرا کر اجازت دے دی مگر آج پھر بدنصیبی میری منتظر تھی سیڑھیوں سے نیچے اترنے ہوئے آخری سیڑھی سے اس کا پائوں پھسلا اور نیچے گر پڑی اس کے پائوں میں بری طرح موچ آئی تھی اس نے درد سے کراہنا شروع کردیا اس کی چیخ کی آواز سن کر میں نیچے دوڑا اور اسے سہارا دے کر اٹھایا آج پھر میرے لیے نئے مصیبت بن گئی تھی ڈاکٹربلوایا گیا ڈاکٹر نے پائوں دیکھ کر بتایا کہ بری طرح موش آئی ہے اب کم ازکم ایک ہفتہ چلنے پھرنے سے پرہیز کرنا ہوگا ملنے کیلئے کچھ کریم اور دوائین لکھ کر دے گیا میرے ارمانوں کا پھر خون ہوگیا میں دل ہی دل میں غصے سے پیچ وتاب کھا رہا تھا۔۔جاری ہے

یہ کل سے میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا ڈاکٹر پائوں وغیرہ چیک کرکے چلا گیا تو میں فوزیہ پر غصہ کرنے لگا کے میں نے کہا تھا کہ ملازمہدودھ لے آئے گی پھر تم کیوں نیچے جانے ضد کر رہی تھی مگر اس بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ کہنے لگی کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں خود آپ کے لئے اپنے ہاتھوں سے دودھ کا گلاس کے کر آئوں اچھا تو پھر لے آئی مزہ چکھ لیا میں دل ہی دل میں غصہ کرنے لگا کے تمہارا تو دل تھا لیکن میرا کام تو ہوچکا ہے جس نوجوان کی سہاگ رات اس طرح ضائع ہوجائے اس کے دل کا حال وہی سمجھ سکتا ہے جو اس حال سے گزرے ہوں پورا ہفتہ اس کے لئے بیٹھ رہتا اور اس کا مطلب کہ پورا ہفتہ میری چھٹی پورا ہفتہ میں اسکے قریب نہیں جاسکتا تھا میں غصے سے لان میں ٹہلنے لگا میں ٹیرس پرکھڑا ہو کر آسمان کے تارے گننے لگا اچانک مجھے زہرا کے وہقہے کی آواز اائی کیوں رضوان سنائو کیسی رہی سہاگ رات میں نے خوف سے ادھر اُدھر دیکھتے ہو بوالا زہرا تم کہاں ہو میرے سامنے آئو تم نے کیوں ایسا میرے ساتھ کیا ہے اچانک مجھے عقب سے اسکی ہنسی کی آواز آئی میں نے پوچھے مٹرُ کر دیکھتا ہوں تو زہرا میرےسامنے کھڑی تھی میں خوف سے کا بکائو پھر اچانک میرے ماتھے پر گصے سے بل پڑگئے میں نے کہا۔۔جاری ہے

زہرا تم میرے ساتھ کیوں کر رہی ہو تم جانتی ہو وہ میری بیوی ہے زہرا خشمگیں نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی شادی کا وعدہ تو تم نے مجھ سے بھی کیا تھا ہاں لیکن اس میں میرا قصور نہیں تم خود ہی غائب ہوگئی تھی اچھا میں غائب وگئیں اور تمہیں پیچھے موقع مل گیا کہ تم کسی اور کو جال میں پھنسا لو وہ طنزیہ کہنے لگی دیکھو زہرہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں مجھے اپنی زندگی بنانے کے لئے کچھ نہ کچھ توکرنا تھا تم نہ سہی فوزیہ سہی اچھا تو تم اتنے بےوفا ۔۔۔اور اتنے بدتہذیب نکلوگے مجھے اندازہ نہیں تھا بہرحال تمہارا جو بھی اندازہ تھا میں تم سے ایک گزارش کرتاہوں کہ میری جان چھوڑو میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولا اچھا تمہاری جان تو میں چھوڑ دوں گی کیوں کہ میں تمہیں پسند کرنے لگی تھی اور تم مجھے میرا تم سے وعدہ ہے میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی مگر پھر بھی سزا تو میں تمہیں ضرور دوں گی اس بیوگائی کی چاہے تمہارے ھصے کی سزا کوئی اور بھگتے اتنا کہہ کر وہ اونچے قہقہے لگانے لگی میرا گصے سے مٹھیاں بھینچ گی وہ اچانک میرے سامنے سے غائب ہوگئی زہرہ اب کمینگی پر اتر آئی تھی وہ مجھے سزا دینے کے لئے فوزیہ کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی زہرا تم کہاں ہو۔۔جاری ہے

میرے سامنے آئو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کے اس میں میرا کوئی قصور نہیں مگر وہ کہیں نہیں تھی اور ہر طرح مکمل خاموشی تھی میں آہستہ سے کمرے کی طرف چل پڑا جہاں فوزیہ بیچاری دور سے کراہ رہی تھی میں جاکر فوزیہ کے ساتھ لیٹ گیا مگر میرا ذہن زہرہ میں پھنسا ہوا تھا وہ فوزیہ کو نقصان نہ پہنچا دے یہی سوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہا تھا وہ انتقام پر اتر آٗی تھی مگر اس سارے ڈرامے میں میرا کوئی قصور نہیں تھا میں قدرتی طور پر ہی فوزیہ کے قریب ہوگیا تھا اور ویسے بھی وہ ہمارے معاملے میں کیوں ٹانگ اڑا رہی تھی وہ آدم ذاد ہی نہیں جب تک فوزیہ نہیں ملی تھی اس وقت اس کے بارے میں سوچنا میری زندگی خراب کرنے کا کوئی حق نہیں تھا مگر اس نے مجھ سے اندیکھی سرد جنگ کا آغاز کردیا تھا۔۔جاری ہے

اور فوزیہ کو بچانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا تھا وہ میری بیوی تھی میری چاہت میں نے دل ہی دل میں پلان ترتیب دینا شروع کردیا اس سے پہلے کہ وہ فوزیہ کو کوئی نقصان پہنچائے ہمہیں حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ کرنا ہوگا

کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں