چیف جسٹس صاحب یہ دیکھیں مری میں انتظامیہ نے کیا گندمچا رکھا ہے شادی شدہ جوڑوں کے ساتھ کیا شرمناک کام کیا جا رہا ہے

اللہ کا کوئی خوف ہوتا ہے ۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ۔ مگر مری کے تاجر مافیا اور انتظامی عملہ ایسے لگتا ہے جیسے ان کو پیسے کی ہوس نے اندھا کر دیا ہے ۔ یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔جاری ہے

آج سے بیس سال پہلے کا مری دیکھیں جب لوگوں کا ہجوم آج کی نسبت بہت کم تھا۔ مگر جوں جوں لوگوں نے اس سیاحتی مقام کا رخ کیا ، ویسے ہی مری کے اس تاجر اور انتظامی طبقے کی ہوس بڑھتی گئی ۔۔۔ بات مختصر یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔ کیا کوئی سلجھی ہوئی فیملی اب مری کا رخ نہ کرے کہ نکاح نامہ چیک کرنے کے بہانے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات معمول کا حصہ بن گئے ہیں ۔ اپنی زندگی کے ابتدائی بہترین دن اس وحشت زدہ ماحول میں کسی کو گزارنے کا شوق ہے تو ضرور مری جائیے ۔۔۔ مگر آپ کی فیملی کی حفاظت اللہ توکل ہی ہے ۔۔ ۔ کیونکہ فرعون نما ہوٹل کا عملہ اور مالکان آپ کو یوں لوٹیں گے جیسے پرانے زمانے میں سمندری قذاق یا صحرا میں سفر کرنے والوں کو نقب لگا کر لوٹا جاتا تھا۔ پھر آپ کو ناقص کھانے ۔۔۔ جس کی کوالٹی چیکنگ نہیں ہے۔۔۔جاری ہے

اتنے مہنگے ریٹ پر دئیے جائیں جیسے اس میں ذعفران کی آمیزش ہے ۔۔۔ کہاں ہے فوڈ کوالٹی چیک کرنے والا عملہ ۔۔۔ کہاں ہے وہ انتظامیہ جو خواتین کو ان کے مردوں کے سامنے ذلیل ہونے سے بچا سکے ۔ جب بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ مری ہی نہ جاءو ۔ چیف جسٹس صاحب آپ نے بہت اچھے کام کئے ۔ ادھر بھی توجہ دیجئے ۔۔ کیا مری پاکستان کا حصہ نہیں ہے ۔ کہ یہ افغانستان کے بارڈر پر واقعہ ہے ۔۔۔ کیا یہ مائیں بہنیں بیٹیاں ۔۔۔ ہم سب کی نہیں ہیں جو ن کی عزت پر سمجھوتا کیا جائے ۔۔۔ مری میں جو گند پڑ چکا ہے ۔۔۔ اس کو اب کون صاف کرے گا۔ چلائیں ایک ڈنڈا ۔۔۔۔ ورنہ روز بروز مری ہوتا رہے گا ۔ مزید گندہ ۔۔۔۔ ملکہ کوہسار مری ۔۔ کا حسن مانند ہونے سے بچا لیجئے ۔ جب تک معاملات معمول پر نہیں آجاتے ۔ جیسے دو تین جوان لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔۔۔۔جاری ہے

اس طرح کے واقعات رک نہیں جاتے ۔۔۔ یہاں کی انتظامیہ سیدھی نہیں ہوجاتی ۔۔ اپنی عزت کی حفاظت کرلیجئے ۔۔۔۔ اس کے متبادل سیاحتی مقامات کا رخ کیجئے ۔۔ عزت ہے تو سب کچھ ہے ۔۔۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں