جن زادی ایک انوکھی کہانی 7

زہرا میری دشمن بن چکی تھی یہ میرے لیے بہت سوچ بچار کی بات تھی اسے مجھ سے کیا دشمنی تھی یہ مجھے معلوم جب سے ہماری جان پہچان ہوئی تھی اس ک بعد اس سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور اپنی زندگی بنانے کا مجھے پورا اختیار تھا اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔۔۔جاری ہے

مگر اگر فوزیہ کو نقصان پہنچائے تو یہ بھی میرے لئے پریشانی کی بات تھی فوزیہ کا پائوں ابھی تک موچ کی وجہ سے ٹھیک نہیں تھا مگر تیسرے دن ہم پر ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا کے بستر پر لیٹے رہنے سے اس کی کمر پر سرخ رنگ کے بڑے بڑے آبلے پڑچکے تھے جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں تھی فورے طور پر ڈاکٹر کو بلوا کر دکھایا گیا ڈاکٹر کی حیرت کی انتہا نہیں اس کے بقول یہ ابھی تک محض تین دن کا بیڈریسٹ تھا ایسے میں زخم ہونا ببتا ننہیں تھا ڈاکٹر نے فوری طور پر فوزیہ کو ہسپتال ایڈمت کرنے کا کہ دیا ہم نے فورا اسے پسپتال میں داخل کروایا پیو میری پریشانی کا سن کر میرے پاس دوڑا چلا آیا میں نے اسے جن زادی کے بارے میں ساری بات بتا دی بیچارہ سن کر بڑا پریشان ہوا کہنے لگا کے فوزیا بھابی کر پڑنے والے زخم اسی کی وجہ سے ہیں دراصل وہ فوزیا بھابھی کو ستا کر تمہیں پریشان کرنا چاہتی ہے میں بہت پریشان ہوا کہ اس کا کیا حل ہوسکتا ہے پیو بھی میری پریشانی دیکھ کر سوچ میں پڑگیا کہنے لگا یار اس کا حل کوئی نہ کوئی عامل یا کوئی ملا ہی دے سکتا ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں جنات اگرکسی کے مخالف ہوجائیں تو پھر مشکل سے ہی جان چھوڑتے ہیں اس کی بات سو فیصد درست تھی اگلا پورا دن میں شہر میں کیسی اچھے عامل کو ڈھونڈتا رہا ایک دو لوگوں سے میری بات ہوئی مگر وہ اس معاملے میں بے بس نظر آرہے تھے۔۔۔جاری ہے

انہوں نے صاف ڈاف مجھ سے معذرت مانگ لی جب کوئی صورت نظر نہ آئیں تو میں گائوں کی طرف چل پڑا فوزیہ ہسپتال ہی میں تھی اور اس کے پاس میں خصوصی طور پر ایک نرس کو چھوڑ کر جا رہا تھا میں نے گائوں میں رہنا نہیں تھا بلکہ آنا جانا کرنا تھا مجھے پورا یقین تھا کہ گائوں سے مجھے کسی کی مدد مل سکتی ہے گائوں میں ہمارے مسجد کے امام صاحب رہتے تھے جواب بہت ضعیف تھے وہ اب مسجد کی ڈیوٹی نہیں کرتے تھے مگر گھر پر مل سکتے تھے میں سب سے پہلے گائوں جاکر اپنے والدین سے ملا اور انہیں اپنی شادی کے بارے میں بتایا وہ اس بات کو سن کر بہت ناراض ہوئے کہنے لگے کہ تم اب اتنے با اختیار ہوچکے ہو کے اتنے بڑے معاملے میں تم نے ہم سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا میں نے انہیں ساری تفصیل بتائیں کہ کن حالتا میں میری اس سے شادی ہوئی میں نے بڑی مشکل سے انہیں منایا اور پھر اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھا وہ مجھے حافظ صاحب کے گھر کے گئے حافظ جی بچارے بہت ضعیف آدمی تھے چلنے پھرنے سے لاچار تھے مگر بستر پر بیٹھے خوب باتیں کر لیتے تھے میں نے انہیں سلام دعا کے بعد اپنا مسئلہ بیان کیا تو وہ حیرانی سے میری طرف دیکھ کر بولے بیٹھا مجھے یقین نہیں آتا کہ تم اتنے بڑے مسئلے کے باوجود ابھی تک زندہ چل پھر رہے ہو یہ لوگ جس سے دشمنی ڈال لیں اسے نہیں چھوڑتے تم اب اس کے سب سے بڑے دشمن ہو تمہیں ستانے کی خاطر ہی وہ تمہاری بیوی کی دشمن بن گئی ہے بیٹا یاد رکھنا عورت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو مگر محبت میں شراکت پسند نہیں کرتی جس کی وجی سے تم اس سے دور ہوئے ہو وہ اسے تکلیف میں دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔جاری ہے

اسی لیے اس نے تمھارے ساتھ ایسا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے میں چلنے پھرنے سے قاصر ہوں ورنہ ضرور تمہارے ساتھ چل کر تمہاری بیوی کو دیکھتا اور کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالتا مگر میں افسوس کے ساتھ کہتا ہو کہ میں اس سلسلے میں صرف تمہاری ااتنی مدد کرسکتا ہوں کہ تمہیں ایک اور شخص کا پتہ بتا سکتا ہوں جو تمہارے ساتھ تمہارے گھر جا کر صورتحال کو قابو کر سکتا ہے اس کے علاوہ اس بات کو کوئی حل نہیں میں مایوسی سے حافظ جی کو دیکھنے لگا حافظ جی میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور پولے بیٹا میں جانتا ہوں تم کیا سوچ رہے ہو تمہارے زہن میں یہ خیال آرہا ہے کہ میرے پاس آکر تم نے وقت ضائع کیا لیکن ایسی کوئی بات نہیں میں تمہیں ضرور ایسے شخص کا پتہ بتائوں گا جو واقعی تمہاری مسلہ کا حل کردے گا اسکے بعد انہوں نے مجھے ایک اور گائوں کا پتی بتایا مولوی نصیرچشتی صاحب یہ بڑے اللہ لوگ آدمی ہیں دنیا دار میں بھی اور دین دار بھی مگر میری ایک بات باو دکھنا کہ جب تم ان کے گائوں کے راستے پر چلو گے تو تمہاری دشمن تمہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی مگر تم نے ہمت نہیں ہارنی اور چلتے جانا ہے مجھے یقین ہے کہ تم اپنے معصد کو پالوگے جائو بیٹا خدا تمہارا حامی و ناصر ہو میں دل پر بوجھ لیے وہاں سے اب آگے جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن میری ماں کہنے لگی حافظ جی کبھی جھوٹ نہیں بولتے انہوں نے یقینا جس شخص کے بارے میں بتایا ہے بزرگ تمہاری مدد کرے گا تم ضرور ان کے پاس جائو حافظ جی نے مجھے جس انسان کا پتہ بتایا تھا اس کے گائوں دار پور جانے کے لئے۔۔۔جاری ہے

مجھے کم زکم دیڑھ گھنٹے سفر کرنا تھا اور میرے پاس اپنی گاڑی تھی فوزیہ سے شادی کرنے کا یہ فائدہ ہوا تھا کہ میری زندگی پرآسائش ہوگئی تھی مگر ابھی زندگی میں آزمائش بہت سی باقی تھیں میں نے اماں اور ابا سے اجازت لی اور دارپور گائوں کی طرف چل پڑا ابھی مجھے اپنے گائوں سے نکلے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ہم نے دیکھا کہ ایک ٹرک اور ایک بس میں تصادم ہوا تھا دونوں گاڑیاں بیچ سڑک میں پڑی تھی کئی لوگ شدید زخمی ہوگئے تھے اورچار پانچ لوگ ہلاک بھی ہوئے جب تک کرین وہاں آکر گاڑیاں نہ ہٹاتی ہماری گاڑی کا وہان سے گزرنا ممکن نہیں تھا سٹرک چھوٹی سی تھی جس پر دونوں بڑی گاڑیاں بری طرح ٹکرا کر گر پڑی تھیں مجھے یقین ہو چلا تھا کہ وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اسی لئے میرے راستے میں رکاوٹ بنا کر دی گئی تھی وہاں کھڑے کھڑے مجھے دوپہر ڈھلنے لگی دو گھنٹے کے بعد کرین آئی اور اس نے دونوں گاڑیوں کو ایک طرف کیا میں دوبارہ داراپور گائوں کی طرف چل پڑا ابھی میں گائوں سے پانچ کلومیڑ پیچھے تھا۔۔۔جاری ہے

کہ میری گاڑی جھٹکے کھاتی ہوئی بند ہوگی میں بڑا حیران ہوا کہ گاڑی کیسے بند ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں پٹرول واف مقدار میں موجود تھا میری منزل بھی قریب تھی مگر گاڑی نے دھوکا دے دیا میں نیچے اتر کر بونٹ کھول کر اندر دیکھنے لگا مگر کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ابھی مجھ وہا ں کھڑے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک ٹرک آتا دکھائی دیا میں نے اسے اشارے سے روکا اور اسے مدد چلب کی وہ بھلے مانس آدمی تھا نیچے اتر کر میری گاڑی دیکھنے لگا جن انجن کھول کر دیکھا تو نہ جانے اسکے ذہن میں کیا آیا کہ وہ پیچھے کی طرف مڑا اور مجھے اشارے سے بلایا میں نے گاڑی کے پیچھے جاکر دیکھا تو میں حیرت سے دنگ رہ گیا گاڑی کے سائلسنر میں کسی نے لکڑی کا ٹکڑا ڈالا کر اسے مکمل طور پر بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے میری گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی تھی میں حیران پریشان رہ گیا۔۔۔جاری ہے

کہ چلتی گاڑی میں کوئی لکڑی کا ٹکرا کیسے پہنچا سکتا ہے میری پریشانی دیدنی تھی یہ کیسے مکمن تھا کہ چلتی گاڑی میں کوئی سائلنسر کو بند کر دیا
کہانی ابھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں