جن زادی ایک انوکھی کہانی8

ٹرک ڈرائیور نے میری مدد کی لکڑی کا ٹکڑا سائلنسر سے نکلا کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تو گاڑی فورا اسٹارٹ ہوگی میں اس کا شکریہ ادا کرکے جلدی سے آگے بڑھ گیا دارا پور گائوں میں چشتی نصیر کا گھر ڈھونڈنے میں کوئی مشل پیش نہیں آئی مگر اگلی خبر میرے لیے حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان کن بھی تھی نصیر چشتی صاحب کا انتقال ہوئے۔جاری ہے ۔

چھ ماہ ہوچکے تھے حافظ جی ان کے انتقال سے الاعم تھے اگر انہیں پتہ ہوتا تو وہ مجھے دارا پور نہ بھیجتے میں مایوس لوٹ آیا فوزیہ کیطبیعت اب کچھ سنبھل چکی تھی میں سیدھا ہسپتال گیا مجھے دیکھ کر وہ خوش ہوگئی ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹر نے گھر جانے کی اجازت دے دی اب فوزیہ چل پھر سکتی تھی مگر آفس جانا ابھی ممکن نہیں تھا آفس کا میں ہی چکر لگا آتا اور کاروباری رپورٹ اسے دیتا ان دنوں زہرا کی طرف سے مکمل خاموشی تھی اور میں خوش تھا کہ چلو جان چھوٹی مجھے کافی دنوں کے بعد سہاگ رات منانے کا موقع ملا ہم دونوں بہت خوش تھے لیکن اندر ہی اندر مجھے وہم رہتا کہ ابھی جن زادی کسی طرف سے حملہ آور ہوگی دو ماہ آرام سے گزر گئے اور مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی نوید مل گئی میں باپ بننے والا تھا فوزیہ امید سے تھی میرے خوشی سے پائوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ڈاکٹر نے فوزیہ کو مکمل احتیاط اور سخت کام کرنے سے منع کر دیا اوروزن وغیرہ اُٹھانے سے بالکل منع کر دیا تھا انہی دنوں ہماری کام والی کے شوہر کا انتقال ہو گیا وہ ایسی گئی کہ دوبارہ واپس ہی نہ آئی ہم سخت پریشان تھے فوزیہ بیچاری کو اس حالت میں کھانا پکانا پڑتا ہم کام والی ڈھونڈ رہے تھے مگر کوئی ابھی تک نہیں ملی تھی ایک دو ملیں مگر ان کی رپوٹیشن ٹھیک نہیں تھی وہ کام چور تھیں اس لیے فوزیہ نے انہیں رکھنے سے انکار کردیا ایک دن میں دفتر سے گھر آیا تو فوزیہ کام کر رہی تھی میں نے اسے منع کیا تو وہ کہنے لگی جب تک کام والی نہیں ملتی خور ہی کرنا ہوگا میں کچن میں اس کا ہاتھ بٹانے لگا وہ کہنے لگی ایک دو لوگوں سے کہہ رکھا ہے شائد آج ایک کام والی آئے اچھا فوزیہ اگر صحیح لگی تو رکھ لینا اب کوشش کرو جواب مت دینا تمہیں ضرورت ہے۔جاری ہے ۔

وہ بھی سر ہلا کر رہ گئی شام کو چوکیدار نے اطلاع دی ایک عورت بی بی سے ملنا چاہتی ہے ہمیں نے اسے اندر بلوا لیا میں ڈرائینگ روم میں فوزئی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر عورت اندر آئی شکل و صورت سے مفلوک الحال لگ رہی تھی فوزیہ نے اس کا انٹرویو شروع کر دیا اس نے بتایا کہ کسی نے ہمارا بتایا تھا کہ یہاں کام والی کی ضرورت ہے تو میں آگئی فوزیہ نے چند سوال پوچھے کہ کھانا پکانے کے علاوہ کیا کرسکتی ہو اس نے گھریلو تمام کام گن کر بتائے ابھی فوزیہ فیصلہ نہی کر پائی تھی کہ میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے وہ بولی زرینہ اچھا تو زرینہ تم کل سے آجانا بلکہ کل سے کیا تم آج ہی سے کام پر لگ جائوتخنواہ تمہیں وہی دیں گے جو پہلی کو دیتے تھے یعنی آٹھ ہزار زرینہ کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا فوزیہ میرے طرف دیکھنے لگی میں نے فوزیہ کو دیکھ کر آنکھوں سے اشارہ کیا کہ ٹھیک ہے اب اسے رہنے دو زرینہ تم جائو میں چوکیدار گھر کا سارا کام سمجھا دے گا وہ چلی گئی فوزیہ کہنے لگی رضوان رکھ تو لیا ہے پر ہم اسے جانتے نہیں کوئی گارنٹی وغیرہ تو ہونی چاہئے نا اور اسے کس نے بھیجا ہے یہ بھی معلوم نہیں بات تو فوزیہ کی معقول تھی مگر میں نے کہا ارے میری جان وہم مت کرو اس وقت تمہیں اور میرے بچے کو صرف آرام کی ضرورت ہے لہذا تم آرام کرو اور وہ کچھ چُراکر نہیں لے جائے گی پریشان مت ہو فوزیہ میری بات پر ہوں کہہ کر خاموش ہوگی زرینہ کام میں بہت تیز تھی کھانا بہت اچھا پکاتی تھی مگر ایک حیرت کی بات جو مجھے بڑی عجیب لگی تھی کہ وہ اپنے گھر نہیں جاتی تھی اسے ہمارے گھر میں کام کرتے ہفتے سے زیادہ ہو گیا فوزیہ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ گائوں سے آئی ہے اس لیے روز نہیں آجا سکتی اسے رہنے کے لیے۔جاری ہے ۔

ہم نے چوکیدار کے ساتھ والا چھوٹا سا کواٹر دے دیا تھا ہم اس کے کام سے مطمیعن تھے اسی طرح ماہ گزر گئے میں زہرا کی طرف سے بالکل مطمعین ہوگیا کہ وہ ہمیں بھول چکی ہے یہ میری بھول تھی فوزیہ کے ماں بننے میں چند ہفتے ہی باقی تھے اس لیے میں گھر زیادہ وقت دینے لگا اور پھر وہ وقت آپہنچا جب اللہ نے مجھے ایک چاند سی بیٹی دی ہم دونوں بہت خوش تھے فوزیہ کی دلی آرزو پوری ہوگئی اسے بیٹی کی شدید خواہش تھی ہم نے بیٹی کا نام سحر رکھا ہم دونوں اسے پاکر بہت خوش تھے فوزیہ اور مجھے کھیلنے لے لیے ایک کھلونا مل گیا تھا چند ہفتے گزرے تو فوزیہ نے آفس کے کام کو سنبھالنے کے لئے آفس جانا شروع کر دیا میں نے اسے منع کیا کہ میں سنبھال لوں گا تم بچی پر توجہ دو مگر چندمعاملات اس کے بغیر ہونے مکمن نہیں ہوتے تھے اس لیے اسے اکثر آفس جانا پڑتا اس دوران بچی زرینہ کے حوالے ہوتی اور وہ اس کا مکمل خیال رکھتی تھی ہم مطمعین تھے کہ چلو نوکرانی گھر میں موجود وہ ہمارے گھر آنے تک اس کا خیال رکھ سکتی ہے۔جاری ہے ۔

ہم واپس آتے تو سحرکو دیکھ کر ہماری ساری تھکن دور ہوجاتی ہم اپنی طرف سے اطمینان میں تھے کہ معاملہ تھیک چل رہا ہے مگر حالات اتنے ٹھیک نہیں تھے زرینہ کی حرکتیں مشکوک تھیں اکثر ہم گھر داخل ہوتے تو سحر رو رہی ہوتی اور زرینہ کام میں لگی ہوتی ہمہیں دیکھ کر فورا اسے اُٹھا لیتی حالانکہ ہم نے اسے کہہ رکھا تھا کہ تم نے صرف اس کا دھیان رکھنا ہے مگر وہ سنی ان سنی کر دیتی اور دوسری بات جو میں نے نوٹ کی تھی کہ جب سے بچی ہم زرینہ کے حوالے کرنا شروع ہوئے تھے بچی اب اسی کے ساتھ خوش رہتی حالانکہ وہ رات بھر ہمارے ساتھ ہوتی مگر نہ جانے کیوں وہ دوڑ دوڑ کر زرینہ کے پاس جاتی ایسا ہونا نہیں چاہے تھا مجھے شک ہونے لگا میں نے فوزیہ سے اس بات کا اظہار کیا تو وہ ہنسنے لگی۔جاری ہے ۔

ارے وہ اُسے سنبھالتی ہے اسی لیے اسے بھی خوب پہنچانتی ہے یہ تو فطری عمل ہے بچہ جس سے محبت پاتا ہے اسی کے پاس جاتا ہے مگر یہ فوزیہ اور میری نادانی تھی کاش ہم اس بات کو سمجھ سکتے
کہانی ابھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں