فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا 13

نور خان مجھے بلیک میل کر رہا تھا اور اس بات کا مجھے اچھی طرح اندازہ تھا نور خان کی سزا کیا ہونی چاہیے میں دل ہی دل میں سوچنے لگا موت کی سزا بھی اس کے لئے کم ہے کیونکہ اس نے بےوفائی اور غداری کا ثبوت دیا ہے میرا ملازم ہوکر اب مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس حد تک جاتا ہے۔جاری ہے ۔

رات کے وقت میں نے موکل کو حاضر ہونے کا حکمگیا تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے سامنے تھا میں نے اس سے پوچھا کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمہارے موجودگی کے بغیر میں اکیلا بھی اپنے آپ کو غائب کر سکوں کیونکہ غیبی حالت میں جانے کے لئے مجھے ہر مرتبہ تمہارا ہاتھ پکڑنا پڑتا ہے اور اس کے لیے تمہیں حاضر کرنا ضروری ہوتا ہے موکل میری بات سن کر سوچ میں پڑگیا اور پھر کہنے لگا ایسا مکمن ہے مگر اس میں آپ کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے آپ غائب تو ہوسکتے ہیں مگر اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی نقصان سے نہیں بچا سکتے کبھی خطرہ میں جانکر آپ اپنے لیے فرار کا راستہ ڈھونڈ سکتے ہیں بس میرے لئے اتنا ہی کافی ہے تم مجھے کوئی ایسا بندوبست کردوں کہ میں وقت پڑنے پر غائب ہو سکون اور مجھے بار بار تمہارا سہارا نہ لینا پڑے اس کے لیے آپ کو ایک وطیفہ کرنا پڑے گا پھر موکل مجھے وظیفہ بتانے لگا وظیفہ بتانے کے بعد بولا محض وظیفہ ہی کافی نہیں اسکے لئے آپکو میری چادر کی بھی ضرورت ہوگی اتنا کہہ کر اس نے اپنے کندھوں پر پڑی ہوئی چادر اتار کر میرے حوالے کر دی وظیفہکے بعد جوں ہی آپ چارد واقع اوڑھیں گے آپ سب کی نظروں سے غائب ہوجائیں گے میں نے چادر لے لی اور اسے جانے کا حکم دیا اب وہ چاچکا تھا اب میں نے اپنے منصوبے پر آغاز کرنے کا سوچنا شروع کردیا میں نور خان کو ایسی سزر دینا چاہتا تھا کہ وہ صدیوں تک یاد رکھے ہاں تو نور خان اب آپ اپنی خیر منائو میں چہل قدمی کرتا ہوا باہر نکل اائا نور خان گیٹ کے اندر داخل ہوا اس نے ہاتھ میں کچھ شاپر اٹھا رکھے تھے نور خان اندر آیا میں نے اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا وہ سامان کیچن میں رکھنے کے بعد میرے کمرے میں آگیا نورخان تم اکیلے بہت کام کرتے ہو میری خواہش ہے کے تمھاری مدد کے لے ایک آدمی کو ساتھ رکھ لیا جائے نورخان خوش ہوتے ہوئے بولا صاحب یہ تو بہت اچھی بات ہے تو پھر کسی دن کسی آدمی کو لے آئو جسے تم جانتے ہو لیکن جس آدمی کو لے کر آئوں یہ یاد رکھنا کہ وہ کھانے پکانے کا کام جانتا ہو صاحب جی بھی تو ہم یہاں ہیں واپس جاکر ہی کسی آدمی کا بندوبست ہوسکتا ہے تو ٹھیک ہے نور خان دو چار دن میں ہی واپسی کا سفر شروع کریں گے۔جاری ہے ۔

صاحب جی نور خان کچھ کہتے کہتے رک گیا خان اور خان بولو کیا کہنا چاہتے ہو وہ پولیس والا بہت تنگ کر رہا ہے اس کے منہ میں ہڈی دے دیں تاکہ اس کی زبان خاموش ہوجائے ارے کیوں نہیں نور خان میں نے رقم کا بندوبست کر رکھا ہے تم صبح ہی مجھ سے لے لینا اور کسی وقت جا کر اس کے حوالے کر دینا خوشی سے نور خان کی باچھیں کھل گئیں وہ سر ہلا کر چلا گیا تو میں اپنے اگلے پلان کو ترتیب دینے لگا شام کے وقت جو ہی نور خان نے کھانا لگایا میں نے رقم اس کے حوالے کر دی اتنے نوٹ اس نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے ہوں گے وہ خوشی سے پاگل ہو گیا ارے نور خان تم تو ایسے خوش ہو رہے ہوں جیسے یہ رقم تم نے رکھنی ہے میری اس سے بات پر وہ ایک دم ٹھٹکا اور پھر بولا ارے نہیں صاھب جی میں تو اس بات پر خوش ہوں کے آپ کی جان چھوٹ جائے گی ہاں نور خان جتنی جلدی ہوسکے اس پولیس والے کا منہ بند کرو تاکہ میری جان چھوٹے میں نے مصنوعی خوف بناتے ہوئے کہا نور خان رقم والا بریف کیس بغل میں دبائے کمرے سے نکل گیا کمرسے نکلنے کے بعد اس کا رخ سیدھا گیٹ کی طرف تھا ابچادر کی آزمائش کا وقت آگیا تھا میں نے موکل کا بتایا ہوا وظیفہ پڑھنے کے بعد چادر کانوں پر لے لی اب میں ہر بندےکی نظروں سے غائب تھا میں نے تیزی سے نور خان کا پیچھا کرنا شروع کردیا نور خان تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا سڑک کی طرف جا رہا تھا پیسوں کا بریف کیس بغل میں دبائے اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ اتنی بڑی رقم نغل میں دبائے جا رہا ہے نور خان چلتے چلتے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں داخل ہوگیا میں اس کے پیچھے پیچھے تھا مجھے کوئی نہیں دیکھا سکتاتھانور خان سیڑھیاں چڑھ کر ہوٹل کی بالائی منزل پرپہنچ گیا ایک بوسیدہ سے دروازے والے کمرے کے سامنے جا کر کھرا ہوگیا اور دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ کھولنے والے شخص کو دیکھ کر میں حیران بلکہ بھونچکا رہ گیا دروازہ کھلنے والا نور کان کا بھائی تھا اس کا نام میں نہیں جانتا تھا مگر میں نے اکثر اسے نورخان سے ملتے دیکھا تھا۔جاری ہے ۔

میں اس نور خان کے ساتھی ہی کمرے کے اندر داخل ہوگیا اور خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہوگیا وہ مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے نور خان نے کمرے سے باہر جھانک کر ادھر ادھر دیکھا اور پھر اندر سے کمرے کی کنڈی لگا لی سن مجید ہمارا کام ہوگیا دس لاکھ کی رقم کوئی معمولی بات نہیں لیکن ابھی اس سے اوررقم اینٹھنی ہیں پہلے اس رقم کو کسی پاسے لگنا ضروری ہے میں نے اسکو ایک فرض پولیس والے کی کہانی سنا کر اتنا پیسا ہتھیا لیا ہے اب یہ کر فوران یہاں سے چلے جائو میری کوشش ہوگی کہ میں جتنے کم وقت میں اس سے جتنا مال ہوسکے ہتھا لوں مجید بولا ٹھیک ہے نور تو نور خان نے کہا رکو ابھی خطرہ ہے ایسا نہ ہو کہ وہ میرا پیچھا کر رہا ہو تم ایسا کرو کہ تھوڑی دیر کے بعد نکلنا مجھے بہت افسوس ہوا کہ میرا ملازم ہو کر مجھے دگا دینے کی کوشش کر رہا تھا نور خان اسے پیسے دینے کے بعد وہاں سے نکل گیا اس کے نکلنے کے بعد مجید نے پیسوں والا بریف کیس چارپائی کے نیچے چھپا دیا اور اور تھوڑی دیر کے بعد مجیدہ بھی ٹہلنے کے لئے باہر نل گیا جو ہی مجید باہر نکلا میں نے بریف کیس اٹھایا اور چادر کے اندر چھپا لیا اور وہاں سے نکل دوبارہ بنگلے کی طرف چل پڑا میں نور خان کے پہنچے سے پہلے پہلے بنگلے میں پہنچنا چاہتا تھا جس وقت میں بنگلے میں پہنچا تو نور خان ابھی تک نہیں آیا تھا میں نے سب سے پہلے پیسوں والا بریف کیس احتیاط سے رکھا اور آرام سے کمرے میں بیٹھ گیا نور خان میرے پاس آیا تو میں نے پوچھا ہاں نورخان کیا بنا کیا تم نے اس پولیس والے کے منہ میں ہڈی ڈال دی نور خان پرہشانی کے عالم میں بولا صاھب جی ہڈی تو اس کے منہ میں دے دی یے مگر وہ کہتا ہے کہ یہ پیسے بہت کم ہیں اس کے منہ میں کچھ اور دینا پڑے گا اچھا نورخان اگر ایسی بات ہے تو بقایا رقم میں تمہیں یہاں سے واپسجانے کے بعد ہی دے سکتا ہوں تم ایسا کرو کہ اپنا سامان سمیٹ اور بنگلے کا حساب کلیئر کرنے کے بعد واپسی کا ارادہ کرو بنگلہ خالی کرنے کے بعد ہم نے واپس اپنے شہر کی طرف کا رخ کیا نور خان رقم میں تمہیں دوں گا اور تم وہ دینے لئ لئے دوہارہ یہاں آئو گے نور خان نے خوشی خوشی سر ہلادیا ہم اپنے شہر پہنچ گئے کچھ روز گزر گئے تو نور خان نے دوبارہ کہا کہ صاحب بھی اپنے بقایا رقم ابھی تک نہیں دی میں نے کہا نور خان میرے پاس تو پیسے ختم ہوگئے ہیں۔جاری ہے ۔

ادھر نور خان کو اپنے بھائی سے اطلاع مل چکی تھی کہ اس کے پیسوں والے بریف بھی غائب ہوچکا ہے نور خان شاید اس کی وجہ سے بے حد پریشان تھا اس لئے وہ پیسوں کا بار بار مطالبہ کر رہا تھا میرے صاف انکار پر کہنے لگا صاحب جی اس طرح تو آپ کی زندگی خطرے میں پڑ جائیں گی پولیس والے کسی بھی وقت آپ کو گرفتار کرسکتے ہیںمیں نے کہا نور خان جو ہوتا ہے ہونے دو تمہیں میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں کو گیس کرلوں گا اور خان بے بسی سے ہونٹ کاٹنے لگا صاحب جی اگر میں وعدے کے مطالق پیسے لے کر نہ پہنچا تو ساتھ ساتھ مجھے بھی خطرہ ہے نور خان دن رات میرے پیچھے پڑگیا آخر ایک دبن میں نے اسے سے کہا نور خان تمہیں میری اتنی فکر کیوں ہے تم پولیس والے کو آنے دو میں اسے دیکھ لوں گا میرے صاف انکار پر نور کھانا گصے میں آگیا اور اول فول بکنے لگا میں دل ہی دل میں ہنس رہا تھا میں نے کہا اچھا نورخان غصہ مت کرو میرے ساتھ آئو میں نور خان کو لے کر نیچے تہہ خانے میں چلا گیا نور خان تم بیٹھو میں پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں نور خان کے چہرے پر خوشیاں امڈ آئیں میں نے اسے سزا تجویر کر لی تھی میں نے اسے بھوکا پیاسا کچھ دن تہ خانے میں بند کرکے رکھنا تھا وہ سمجھان شاید میں پیسے للینے دوبارہ اوپر جانے لگا ہوں میں نے تہہ خانے سے نکلتے ہوئے کہا نور خان اب میں واپس اس دن آئونگا جس دن تمہارا دماغ تھوڑا سا درست ہوگا میں نے تہہ خانے کادروازہ زور سے بند کیا اور باہر سے تالا لگا دیا نورخان گھبرا گیا اور دروازہ پیٹنے لگا مگر اب میں نے پلان کے مطابق نور خان کو کم از کم ایک ہفتہ سے پہلے نہیں نکالنا تھانورخان پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹتا رہا مگر میں نے جیسے سنی ان سنی کر دیں جیسے کانوں میں روئی ٹھونس لی ہو نورخان کے دروازہ پیٹنے کی آواز آئی باہر کوئی نہیں سن سکتا تھاکیونکہ تہہ خانے اس جگہ پر تھا کہ آواز مشکل سے ہی اوپر آسکتی تھی دو دن گزر گئے مجھے خیال آیا کہ نور خان کو میں نے نیچے بند کر رکھا ہے میں نے پانی کا ایک جگ اٹھایا اور نیچے تہہ خانے میں چلا گیا میں نے دروازہ کھول کر دیکھا تو نورخان بے سود پڑا تھا میں نےپانی کا کلاس اس کے پیچھے رکھا تو دیکھا نقاہت تو اس کے چہرے پر عیاں تھی دو دن میں اس کا برا ھال ہوگیا تھا مجھے ہلکا سا ترس آیا میں نے پانی رکھا اور اس کے بعد چھوتا سا بسکٹوں کا ایک پیکٹ اس کے پاس رکھ دیا نور خان بھول لگے تو بسکٹ کھا لینا پیسا لگے تو پانی پی لینا نور خان نے نقاہت سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا صاھب جی مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہیں۔جاری ہے ۔

نور خان تم اچھی طرح جانتے ہوں میں تمہیں کس بات کی سزا دے رہا ہوں میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تم اپنی آئندہ نسلوں کو بھی بتادوگے کے عرفان کے ساتھ پنگا مت لینا نور خان کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے وہ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگا نہیں نور خان میں تمہیں معاف نہیض کرسکتا تمہارے لئے میں نے اتنی بھیانگ سزا تجویز کی ہے کہ تمہاری آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی چلو شاباش اٹھو پانی پیو اور بسکٹکھالو میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا بلکہ عبرت کا نشان بنا دوں گا اگرتم مجھے جانتے ہوتے تو اس طرح کی چال چلنے سے پہلے ایک لاکھ مرتبہ سوچتے نور خان نے دیوانوں کی طرح اٹھ کر جگ سے پانی پینا شروع کردیا میں جونہی واپس کے لئے مڑا تو وہ مجھے آواز دینے لگا صاحب جی خدا کے لئے رحم کریں مجھے معاف کردیں نہیں نورخان تمیاری سزا ضرور تمہیں ملے گی صاحب جی میں نے آپ کی بہت خدمت کی ہے کچھ اس کا لحاظ کریں دیکھو نور خان اسی کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ جس دن سے مجھے پتہ چلا تھا اسی دن گولیاں تمہارے سینے میں اتار دیتا میں تمہیں تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا ہوں میں پتھر دل ہوچکا تھا میں تلا لگا کر اوپر چڑھنے لگا تو وہ بار بار مجھے آوازیں دینے لگا اپنے کمرے میں آکر میں لیٹ گیا اور اگلے لائحہ عمل سوچنے لگا اگلے دن صبح کے وقت گیٹ پر دستک ہوئی میں نے گیٹ کھولا تو سامنے نور خان کا بھائی مجیدہ کھڑا تھا اسے نور خان کے بارے میں بتایا تو میں نے کہا کہ نور دو تین دن سے کہیں گیا ہوا ہے ابھی تک واپس نہیں آیا مجھے اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے کہنے لگا صاحب جی اگر آئے تو اسے میرا پیغام دیجئے گا کہ مجھ سے ملے ٹھیک ہے مجھے دے میں تمہارا پیغام دے دوں گا وہ چلا گیا نور خان کے لیے اسے بھیانگ سزا اور کیا ہوسکتی تھی اگلے دن میں کھانا دینے کے لئے نور خان کے پاس نیچے تہہ خانے میں گیا۔جاری ہے ۔

تو نور خان کا برا حال ہوچکا تھا اسےسے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا ہاتھ کے اشادے سے بار بار ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگ رہا تھا میرے دل میں ایک لمحے کیلئے رحم آیا نور خان تم نے مجھے بیوقوف بنانے کا سوچا بھی کیسے تمہیں سزا ضرور ملے گی ابھی تو تمہاری سزا شروع بھی نہیں ہوئی اور تمہارا یہ حال ہوگیا میں نے اسے اٹھایا اور پانی دیا پھر سیڑھیاں چڑھ آیا شام کے وقت دوبارہ مجیدہ میرے پاس آیا اور نور خان کے بارے میں پوچھنے لگا وہ بھائی کی گمشدگی سے پریشان تھا میں نے اسے سے کہا کہ مجھے کیا پتا وہ کہاں ہیں مجیدہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا صاحب وہ آپ کا ملازم ہے اور آپ ہی کے پاس رہتا ہے اگر وہ ابھی تک واپس نہیں آیا تو اس کے لئے آپ نے کیا کیا اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی یا رپورٹ درج کروائی دیکھ مجید میرے پاس اتنا فضول وقت نہیں کہ میں نور خان کے پیچھے بھاگتا رہون میری بے رخی پر مجید کو مجھ پر شک ہوگیا صاحب جی نور خان کو تو میں ڈھونڈ ہی لونگا لیکن آُ کو بھی دیکھ لوں گا ارے چل بھاگ یہاں سے مجیدہ مجھے غصے سے گھورتا ہوا وہاں سے نکل گیا میں نے دوسرے دن ٹوکا اور چھری اٹھائی اور نیچے تہہ خانے میں چلا گیا۔جاری ہے ۔

نورخان میرے ہاتھ میں ٹوکا دیکھ کر چونک پڑا اسے میرا وحشی پن یاد آگیا نور خان زور زور سے چیخنے لگا اور مجھ سے معافی مانگنے لگا وہ پاگل ہو چکا تھا موت کے سامنے دیکھ کر وہ ہواس کھوبیٹھا اچھا تو نور خان تمہیں کتنے پیسے اور چاہیے میں نے قہقہہ لگا کر کہا صاحب جی خدا کے لیے مجھے معاف کر دے مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہئے وہ دس لاکھ میں میرے بھائی کے پاس ہیں میں وہ بھی آپ کو واپس لا دوں گا نہیں نور خان مجھے پیسے نہیں چاہیے مجھے بس تمہاری کٹی ہوئی گردن چاہیےنورخان میرا وحشی پن پہلے بھی دیکھ رکھا تھا اس لیے وہ خوف سے چیخنا شروع ہوگیا میں نے آگے بڑھ کر ایک بازو سے اس کی گردن کے گرد حائل کردیا اور دوسرے ہاتھ سے چھری اس کی گردن پر چلا دی اس کی گردن ایسے کٹ گئی جیسے قصائی بکرہ ذبح کرتے ہوئے۔جاری ہے ۔

اس کی گردن پر چھری چلاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں نور خان کی لاش تڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہوگئی میں نے فورا اس کی لاش کو اٹھا کر ایک بوری میں ڈالا اور گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر نکل گیا میں
کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں