جن زادی ایک انوکھی کہانی آخری قسط

سحر بڑی ہوتی جا رہی تھی مگر اس کی انسیت زرینہ کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی میں نے اور فوزیہ نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا مگر ہمیں فکر اس دن لاحق ہوئی جس دن زرینہ کچن میں مصروف تھی اور فوزیہ نے اسے دودھ پلانا چاہا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ سحر فوزیہ سے دودھ نہیں یہ رہی تھی اور مسلسل روئے جا رہی تھی زرینہ اس کے رونے کی آواز سن کر دوڑی چلی آئی۔۔جاری ہے

اور فوزیہ سے لے کر اسے اٹھا لیا سحر فورا چپ ہوگئی اور مسکرانے لگی فوزیہ نے اس بات کا نوٹس نہیں کیا مگر میں حیران رہ گیا اور مجھے اس دن تشویش ہوئی زرینہ اسے لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی تو میں نے فوزیہ سے کہا کہ فوزیہ یہ بات ٹھیک نہیں ہماری بیٹی اب ہمہیں پہچانتی ہی نہیں اور اس کے پاس جاتے ہی چپ ہوگئی تم اس بات کو معمولی مت سمجھو یہ فکر کی بات ہے اب کی بار فوزیہ بھی سوچ میں پڑگئی ایک بات جو ہمیں اطمینان دیتی تھی کہ زرینہ کے آنے سے ہمیں گھر کے کاموں میں کافی سہولت ہوگئی تھی وہ ہر کام کچھ کہے بغیر چپ چاپ کرتی جاتی اس نے کبھی چھٹی کا تقاضا نہیں کیا تھا اپنے کام مکمل طاق تھی یہی بات ہمیں اسے رکھنے پر مجبور کرتی تھی ورنہ کام والیاں تخواہ بڑھانے کے رونے سے لے کر چھٹیاں اور کام میں کوتاہی تک کر جاتی تھیں مگر سحر سے غافل ہونے کا ہمیں اتنا بُرا نتیجہ بھگتنا پڑے گا یہ ہمیں معلوم نہیں تھافوزیہ اور میں اسی بات پر کمپرو مائز کرلیا تھا کہ چلو ہم دونوں آفس جاتے ہیں تو ہمیں بچی کی فکر نہیں ہوتی کام سے واپسی پر ہم اپنا وقت زیادہ تراسی کے ساتھ گزارتے تھے دو سال گزر گئے اس کی پیاری پیاری شرارتیں ہمیں بہت اچھی لگتیں میں اپنے والدین کو بھی کبھی کبھار لے آتا وہ شہر کی زندگی میں نہیں رہ سکتے تھے اس لیے کچھ دن رہ کر چلے جاتے وہ بھی سحر سے بہت مانوس تھے سحر ہماری زندگی تھی وہ بہت پیاری تھی فوزیہ اسے پیار کر کر نہیں تھکتی تھی زرینہ ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح ہمارے ساتھ رہتی تھی ہم نے اس ہر سہولت دے رکھی تھی مگر وہ بولتی بہت کم تھی ہمیشہ خاموش رہتی وقت گزرتا گیا۔۔جاری ہے

سحر جب تین سال کی ہوئی تو ہم نےاسے سکول داخل کروادیا یونفارم میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی سکول آنے جانے کے لیے وین لگوا رکھی تھی قدرتی طور پر اس کے بعد ہمارے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی ڈاکٹروں سے چیک اپ بھی کروایا انہوں نے فوزیہ اور میرے بارے میں بتایا کہ تم دونوں ٹھیک ہو مگراس میں اللہ کی رضا ہے ہم اسی کی مرضی پر شاکر ہوگئے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر تھا جس نے ایک پیاری سی گڑیا ہمیں دے رکھی تھی رونہ وہ لوگ کتنے دکھی ہوں گے جن کے ہاں کوئی اولاد نہیں میں اور فوزیہ سوش کر رہ جاتے ہم اللہ کی رضا پر شاکر تھے ہمارا کل جہاں یہی بیٹی تھی وہ پانچ سال کی ہوئی تو ہم اس کے ناز نخرےاٹھانے لگے پھر اس دن ہمارے آنگن کو کسی کی نظر لگ گئی میں آفس سے گھر آیا تو فوزیہ پریشان ھی کہنے لگی میں جب سے گھر آئی ہوں نہ زرینہ گھر میں موجود ہے اور نہ سحر میں نے پاگلوں کی طرح تمام کوٹھی کھنگال دی مگر ان کا کہیں پتہ نہیں تھا دوپہر ہوئی شام ہو گئی مگر پتہ نہیں چلا فوزیہ رو رو کر بحال ہوگئی ہم نے پولیس کو اطلاع دی پولیس آئی اور تفتیش شروع کر دی شک ملازمہ پر ہی تھا مگر ملازمہ ملتی تو پتہ چلتا آگے پیچھے سب گھروں سے پتہ کروا لیا میں خود پورے شہر میں انہیں ڈھونڈتا رہا مگر انہیں زمین کھا گئی یا آسمان کچھ معلوم نہیں تھا ایک دن دو دن ایک ہفتہ گزر گیا مگر کوئی خبر نہ ملی ہم رو رو کر بحال ہوگئے ہماری کائنات لٹ گئی زرینہ ایسے ہمیں دھوکہ دے گی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا اگر کوئی مرجائے تو ایک صبر آجاتا ہے مگر گم ہوجائے۔۔جاری ہے

تو صبر نہیں آتا فوزیہ کو غشی کے دورے پڑنے لگے میں اسے سنبھالتا یا اپنے آپ کو میں خود غم سے نڈھال تھا آفس جانا ہم نے چھوڑ فیا کاروبار کے حالت بُرے ہوگئے مگر ہماری تو دنیا لٹ چکی تھی ہمیں کاروبار کی کیا ہوش تھی اس رات میں اور فوزیہ لان میں بیٹھے سحر کو یار کرکے رو رہے تھے کہ اچانک میرے کانوں میں زہرا جن زادی کی آواز گونجی رضوان رضوان میرے پاس آئو میں سر اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا فوزیہ کیا تم نے یہ آواز سنی فوزیہ نے نفی میں سرہلا دیا پھر زہرا کی آواز آئی رضوان میں ادھر ہوں میں نے لان کے اس طرف دیکھا جدھر گھنے درخت لگے تھے میں اٹھ کر اس طرف چل پڑا فوزیہ بدستور سر گھٹنوں میں دیئے رو رہی تھی میں د بے قدموں چلتا ہوا درختوں کے پاس پہنچ گیا خوف کی ایک لہر میرے اندر دوڑ گئی درخت کی ایک شاخ پر زہرا سفید لباس میں ملبوس ٹانگیں ہلا رہی تھی اور مذاق اڑاتی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی ہاں تو رضوان کیسے ہو تم پریشان لگتے ہو کک کک کیوں آئی ہو تم یہاں کیوں آئی میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا وہ میں نے دیکھا تم پریشان ہو تو تمہارا دکھ بانٹنے آگئی بیٹی لے لیے پریشان ہو تت تم کیسے جانتی ہو میری بیٹی کو میں نے پوچھا تو وہ قہقہہ لگا کربولی دیکھو جب کسی سے سب سے پیاری چیز چھین لی جاتی ہے تو اس کا کیا حشر ہوتا ہے یہی کچھ میرے ساتھ ہوا تھا یاد ہے ہیں کیا وہ بولی وہ مسلسل ایسے ٹانگیں ہال رہی تھی جیسے کوئی بچی جھولے پر بیٹھی ٹانگیں ہلا رہی ہو وہ تو اس کا مطلب ہے تم نے میری بیٹی غائب کی ہے میں غصے سے بولا وہ جوابا روز سے ہنسی ہاں کیا بگاڑ لو گے میرا تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا میری رگوں میں خون جوش مارنے لگا سنو رضوان جذباتی مت ہو میں تمیہیں یہ بتانے آئی ہوں کہ فوزیہ نے تمہیں مجھ سے چھینا یا تم نے میرے بدلے فوزیہ کو چنا بات یک ہی ہے نقصان صرف میرا ہوا میں نے تم سے کہا تھا ناکہ تمہیں سزا ضرور دوں گی و سنو میں ہی زرینہ ہوں تمہاری بیٹی میرے پاس ہے اب وہ ہمیشہ میرے پاس رہے گی وہ میں چکرا کر رہ گیا لیکن تم نے اسے کیوں اٹھایا میں نے کہا۔۔جاری ہے

اس لئیے کہ میں تمہیں سزا ضرور دوں گی تم ساری زندگی دونوں میاں بیوی اس کے لیے تڑپتے رہو گے خدا کے لیے ایسا مت کرو میں نے اس کی منتیں شروع کر دیں میں تم سے تمہاری بیٹی اس وقت چھیننا چاہتی تھی جن تم اس کی محبت میں چُور چُور ہو جائو اور اب یہی موقع تھا اب تم ترہو اور تمہاری بیوی بھی ایسا مت کرو مہیں اللہ کا واشطہ تمہارے اس کا واسطہ جسے تم مانتی ہو میں نے لجاجت سے کہا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اس کی بوٹیاں نوچ لوں مگر وہ طاقتور ور تھی اس نے میری بیٹی کو اس وقت ہم سے چھینا جس وقت ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اچھا رضوان میں چلی وہ قہقہہ لگا کر بولی رک جائو خدا کے واشطے رک جائو پلیز میں بولتا رہ گیا مگر وہ غائب ہوچکی تھی میں اسے پاگلوں کی طرح پورے لان میں آوازیں دیتارہا مگر اس کا کوئی جواب نہ آیا میں روتا روتا فوزیہ کے پاس آگیا مگر میں نے اسے کچھ نہیں بتایا ساری رات ہم نے رو کر گزاری اگلے دن میں نے ایک عامل سے مشورہ کیا وہ کئی دن تک میرے گھر آکر عمل کرتا رہا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔۔جاری ہے

وہ ہمیشہ یہی کہتا کہ سامنے دھند چھا جاتی ہے تمہاری بیٹی مجھے نظر نہیں آتی وہ کئی دن تک مجھ سے پیسے اینٹھتا رہا مگر کچھ حاصل نہ ہوا ہم نے کئی عامل اور کئی اللہ لوگوں سے رابطہ کیا مگر کچھ حاصل نہ ہوا جنات سے ٹکر لینا کسی کے بس کی بات نہیں طرح طرح کے لوگوں کی طرح طرح کی باتیں تھیں آخر وہ اپنا وار کرگئی مگر اس نے ایسا وار کیا کہ ہمیں آج تک سکون نہیں ملا نہ جی رہے ہیں نہ مر رہے ہیں۔۔جاری ہے

اولاد کا غم کیا ہوتا ہے یہ کوئی ان والدین سے پوچھے جو اس عذاب سے گزر رہے ہوں آج اس بات کو تین سال ہوچکے ہیں فوزیہ غم سے سوکھ کر کانٹا بن گئی ہے اور میں اس وقت کو کوستا ہوں جس دن میری اس جن زادی سے ملاقات ہوئی تھی دُعا کریں اللہ پاک ہماری سحر ہمیں لوٹا دے اور ہمیں دلی سکون دے
کہانی ختم شُد

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں