فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا آخری قسط

نور خان کو قتل کرنے کا مجھے کوئی افسوس نہیں تھا اس نے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی نور خان ککی لاش کو میں نے نہر میں پھینکا اور اسے ٹھکانے لگانے کے بعد میں مکمل مطمئن تھا اب مجھے کسی کو کوئی خوف نہیں تھا نورخان کے مرنے کے دو تین دن بعد مجیدہ دوبارہ میرے پاس آیا صاحب جی آپ اس کا پتہ کریں۔۔جاری ہے

آپ کیسے مالک ہیں اپنے ملازم کا کوئی پتہ نہیں وہ غصے سے بولا مجھے کیا پتا جا کر پولیس میں رپورٹ لکھوائوں اب میں کیا پنے ملازموں کو ڈھونڈتا پھیرو مجیدہ میرے سخت رویہ دیکھ کر واپس چلا گیا میرا دل چاہا کہ گائوں جا کر اپنے گھر والوں کی خبر لوں کافی دن ہوگئے تھے ان سے ملے ہوئے میں گائوں چل پڑا گائوں پہنچا تو اماں ابا مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے گائوں میں مری امیری کے چرچے تھے سب گائوں والے جانتے تھے کہ میں شہر میں بڑا افسر ہوں یا میرا کاروبار بہت بڑا ہے میرے جیسی گاڑی پورے گائوں میں کسی کے پاس نہیں تھی میں اس دن صبح دیر سے اپٹھا اماں نے ناشتہ بنا کر دیا میں نے گھر میں ہر سہولت دی تھی بہنیں کو خوب دولت دی ہر کوئی مجھے سے خوش تھا اس بار میں نے پکا ادارہ کرلیا تھا کہ گائوں کے غریب لوگوں اور رشہ داروں کی بھی مدد ضرور کروں گا میں جونہی ناشتے سے فارغ ہوا ہمارے دروازے پر دستک ہوئی اماں نے دروازہ کھولا تو باہر ایک باریش آدمیکھڑے تھے میرے بارے میں پوچھ رہا تھا اماں نے بتایا کہ کوئی بزرگ تمہارا پوچھ رےہے ہیں میں بڑا حیران ہوا کہ میں تو کسی کو نہیں جانتا پھر یہ کون ہے بہرحال میں نے دروازے پر جاکر دیکھا تو ایک سفید داڑھی والا آدمی کھڑا تھا ان کی داڑھی کے ساتھ ساتھ بھنوئوں کے بال بھی سفید ہوچکے تھے جی حضرت میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں میں نے اخلاق سے پوچھا وہ میری طرف دیکھ کر بولے تم کیا خدمت کرسکتے ہو تم تو سارے کام اس سے لیتے ہو میں بھونچکا رہ گیا جی کیا مطلب ہے آپ کا کون ہیں آپ اور کیا جاہتے ہیں میں ہکلا کر بولا میں تم سے کچھ لینے نہیں آیا باز آجائو تم جس راستے پر چل پڑے ہو بہت پچھتائو گے۔۔جاری ہے

اور سنو جتنی جلدی ہوسکے اسے آزاد کر دو ورنہ تم اپنی تباہی کو خود آواز دے رہے ہو وہ بزرگ اتنا کہہ کر تیزی سے مڑگئے میں ہکا بکا رہ گہا کہ یہ کون تھا جو موکل کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا یہ راز جاننے والا تو کوئی موجود نہیں تھا پھر یہ کون میرے ذہن میں آندھیاں سی چلنے لگیں کوئی مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر یہ بزرگ کیا کہہ گئے میں حیرت میں دوبا اندر آگیا میرا سکون لٹ چکا تھا میں موکل کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس کو چھوڑ کر میں کسی کام کا نہیں رہتا یہ درست تھا کہ میرے پاس بے انتہا دولت جائیداد بن چکی تھی مگر موکل سے کام لینے کا اپنا ہی نشہ تھا میں پریشان سا اندر آگیا دوسرے دن میں نے واپس شہر جانے کی ٹھان لی میں ذہن کو سکون دینا چاہتا تھا شہر آیا تو پولیس میرے دروازے پر کھڑی تھی مسڑ عرفان مجید نے آپ کے خلاف درخواست دی ہے کہ آُ نے اس کے بھائی کو غائب کروایا ہے جو آپ کا ملازم تھا جی یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ مجھے کیا ضرورت ہے اسے غائب کروانے کی اور ویسے بھی وہ کئی دن سے کام سے غیر حاضر یہے مجھے خود حیرانگی ہے میں نے جھوٹی پریشانی طاہر کرتے ہویے کہا تھانیدار بولا فی الحال ہمنارے ساتھ پولیس اسٹیشن چلئے آُپ کا بیان ریکارڈ کرنا ہے میں خاموشی سے ان کے ساتھ چل پڑا میں پہلے ہی ذہنی کشمکش کا شکار تھا مزید کوئی پنگا افورڈ نہیں کرسکتا تھا تھانیدار نے تھانے لے جا کر میرا بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ دوبارہ آپ کو زحمت دی جاسکتی ہے ابھی ایف آئی آر نہیں کٹی آپ کا موقف لینا ضروری تھا میں نے اسے تعاون کا یقین دلایا اور کوٹھی آگیا رپورٹ مجید نے میرے خلاف لکھوائی تھی مجھے اس پر غصہ تھا اس بے غیرت نے میرے خلاف رپورٹ دی تھی میں اپنے کمرے میں جاکر سکون سے لیٹ اچانک مجھے موکل کا خیال آیا میں نے اسے حاضر کیا اور اس بزرگ کے بارے میں سوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ روحانی شخص ہے اور موکل کو قابض کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔جاری ہے

مگر اس کا مقصد دنیاوی فائدے حاصل کرنا نہیں تو کیا تم مجھے چھوڑ جائو گے میں نے موکل سے کہا اگر وہ کامیان ہوں تو میرا جانا لازم ہے موکل سنجیدگی سے بولا مگر میں نے تم سے کوئی غلط کام نہی لیا کسی کو قتل نہیں کروایا جی مگر میرے بھروست پر آپ غلط کام تو کررہے ہیں میں لاجواب ہوگیا چلو دیکھتے ہے بڈھا کامیاب ہوتا ہے یا نہیں میں اس بڈھے کو ٹھکانے لگا دوں گا میں غصے سے بولا موکل خاموش کھڑا تھا میں نے اسے بھیج دیااندر سے میں بہت پریشا تھا اگلی صبح وہی بڈھا دوبارہ میرے گیٹ پر آگیا ارے تم یہاں بھی آگئے میں نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا سنو بڈھے اس کا خیال نکال دو میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا میں نے اسے بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے بزرگ میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا نہ چھوڑو وہ خود ہی میرے پاس آجائے گا تم خود پسندی اور غرور کی حدوں کو چھو رہے ہو مجھے اب اپنی کامیابی کا یقین ہو رہا ہے بوڑھا یہ کہہ کر چلا گیا اور میں صصے سے پیر پٹختے ہوئے اندر آگیا میں ایسا کیا کروں جو موکل میرے قبضے میں ہی رہے میں سوچ سوچ کر تھک گیا موکل اس بات میں میرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر سکتا تھا تیرے دن پھر پولیس میرے گیٹ پر تھی پولیس والے مجھے تھانے لے گئے۔۔جاری ہے

نور کان کی بوری لاش نہر سے ملی تھی اور اس سلسلے میں مجھ سے تفتیش کرنی تھی مجید نے میرے خلاف پرچہ کروا کر مجھے اس کا قاتل لکھوا دیا مجھے پولیس نے حوالات میں بند کر دیا میں نے ایک تگڑے قکیل کی خدمات حاصل کیں مگر میری ضمانت منظور نہ ہوئی وہی بزرگ حوالات میں مجھے ملنے آتے تو میرا دل چاہا اس کا منہ نوچ لوں چارد کی خدمات سے میں یہاں سے فرار ہوسکا تھا مگر چادر میرے پاس نہیں تھی اور موکل کو میں یہاں بلوا نہیں سکتا تھا جب تین دن گزر گئے تو میرا جی متلانے لگا میں نے فیصلہ کرلیا میں موکل کو بلا کر یہاں سے نکل جائوں گا مگر یہ کیا میری حیرت کی انتہانہ ہی جب موکل میرے بار بار بلانے پر بھی نہ آیا میری صورت رونے والی ہوگئی مجھے یقین ہوگیا کہ موکل میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے میرا کیس چلتا رہا ادھر موکل بھی جاتا رہا کوٹھی سے چھریاں اور ٹوکے اور خون آلود کپڑے مل گئے قتل ثابت ہوگیا میں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اتنا ہوا کہ مجھے پھانسی کی جگی عمر قید ہوگئی گھر والوں کو خبر ملی تو سب رو رو کر پاگل ہوگئے میری کیس بڑی عدالت سے سپریم کورت تک گیا مگر فیصلہ میرے خلاف آیا کوٹھی بک گئی میرے کیس پر پیسہ ایسا خرچ ہوا کہ جو کچھ پاس تھا سب جاتا رہا میرے گناہوں کی سزا مجھے مل گئی۔۔جاری ہے

مجھے بڑی اماں کی بات یاد آگئی اگر کسی کو تکلف پہنچائی تو یہ موکل رہے گا اور نہ اس سے ملا کوئی مال دولت اتنی خوشیوں کے بعد اچانک زندگی ایسی بھی ہو گی کبھی سوچا بھی نہین تھا شائد ان لوگوں کی بددعائیں مجھے لگ گئیں جن کے دل دکھائے تھے

کہانی ختم شُد 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں