پاکستانی شیرنی تہمینہ دولتانہ کا تذکرہ جس نے وقت کے آمر کو جوتا مارنے کا اعلان کیا تو اسے اغوائ کرکے اسلام آباد سے سینکٹروں میل دور ویران مقام پر لے جا کر چھوڑ دیا گیا پھر کیا ہوا

ہم وہاڑی کا ذکر کر رہے ہیں ‘ جہاں خادمِ پنجاب صحت عامہ کے بڑے منصوبوں کا افتتاح کرنے جا رہے تھے۔ ان میں ساڑھے باسٹھ کروڑ روپے سے 300 بستروں کا نوتعمیرشدہ ہسپتال تھا‘ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام ہیپاٹائٹس پریونشن اینڈ ٹریٹمنٹ کلینک‘ سی ٹی سکین کا جدید ترین اہتمام‘نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔جاری ہے ۔

۔۔پتھالوجی لیب‘ ہسپتال کے فضلے کو تلف کرنے کے لیے جدید ترین پلانٹ‘ 24گھنٹے سہولتوں کے ساتھ ایمرجنسی‘ ڈائیلیسز یونٹ‘ لیب گائناکالوجی اور مردانہ و زنانہ ایل ایم سی… اور محض عالیشان بلڈنگ اور جدید ترین مشینیں ہی نہیں‘ احساسِ ذمہ داری سے سرشار ڈاکٹر اور دوسرا پیرامیڈیکل سٹاف بھی۔ یورپ اور امریکہ کے ہسپتالوں سے مقابلہ تو شاید مبالغہ قرار پائے‘ لیکن لاہور کے جدید اور مہنگے پرائیویٹ ہسپتالوں سے موازنہ ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں یہ ساری سہولتیں مفت ہیں۔ علاقے کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے اور اپنی حکومت کی کارکردگی پر فرحاں و شاداں… ان میں بیگم تہمینہ دولتانہ بھی تھیں۔ اب بڑھاپا غالب آ رہا ہے۔لیکن ڈھلتی عمر جذبوں پر غالب نہیں آسکی۔ کبھی مسلم لیگ (ن) کے شیرنی کہلاتی تھیں۔ بے نظیر صاحبہ کے دوسرے دور میں قائد حزب اختلاف کے والد محترم میاں محمد شریف مرحوم کی گرفتاری سے بھی گریز نہ کیا گیا۔ لاہور میں ان کے دفتر سے توہین آمیز انداز میں گرفتاری کے بعد انہیں اسلام آباد کے ایک سیف ہائوس میں منتقل کردیا گیا تھا۔ اگلے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر لغاری کے خطاب میں اپوزیشن سراپا احتجاج تھی۔ احسن اقبال (اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ و عاجلہ سے نوازے) ایک بینر لیے ایوان میں چکر لگا رہے تھے‘ ”سپریم کمانڈر‘ سپریم جیالا‘‘۔ وہ اس بینر کے ساتھ دیر تک فوجی سربراہوں کے بکس کے سامنے کھڑے رہے۔ تہمینہ دولتانہ ڈائس کی طرف بڑھیں اور صدر پر اپنی چادر اُچھال دی۔۔۔جاری ہے ۔

12اکتوبر 1999ء کے بعد جب بڑے بڑے سورما گھروں میں دبک کر بیٹھ رہے تھے‘ بیگم کلثوم نواز کی سرفروشانہ جدوجہد میں جو جانباز ان کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم تھے‘ ان میں تہمینہ بھی تھیں۔ بیگم صاحبہ کے ساتھ اس گاڑی میں بھی ‘ جو تمام رکاوٹوں کو توڑتی ہوئی فیروز پور روڈ پر نکل آئی تھی۔لاہور کے گورنر ہائوس سے لے کر پنڈی  اسلام آباد کے ایوانوں تک گھنٹیاں بج گئی تھیں۔ گاڑی روک لی گئی‘ ٹائر پنکچر کرکے اسے لفٹر کے ذریعے جی او آر پہنچا دیا گیا۔ دس‘ بارہ گھنٹے تک بیگم صاحبہ‘ جاوید ہاشمی اور تہمینہ دولتانہ گاڑی کے اندر ہی رہے اور 2002ء والی پارلیمنٹ سے ڈکٹیٹر مشرف کے خطاب سے ایک آدھ دن قبل کہیں اس نے کہیں کہہ دیا تھا کہ وہ ڈکٹیٹر کو جوتا دے مارے گی۔ چنانچہ لاہور سے‘ وہ جس پرواز میں روانہ ہوئی‘ اسے ”فنی خرابی‘‘ نے آ لیا اور یہ اسلام آباد اترنے کی بجائے پشاور جا پہنچی۔ یوں ڈکٹیٹر تہمینہ سے محفوظ رہا‘ اپوزیشن کا احتجاج تہمینہ کے بغیر بھی اتنا زور دار تھا کہ ”کسی سے نہ ڈرنے ورنے‘‘ والے ڈکٹیٹر کے پسینے چھوٹ گئے۔۔جاری ہے ۔

اور وہ مکے لہراتا ایوان سے رخصت ہوگیا۔ ہم وہاڑی میں صحتِ عامہ کے ان منصوبوں پر تہمینہ سے خوشگوار حیرت کا اظہار کر رہے تھے اور ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اس کا کہنا تھا‘ یہ جنوبی پنجاب ہے جہاں کی ”محرومیوں‘‘ کا رونا رو کر بعض موقع پرست اپنی سیاست کی بند ہوتی ہوئی دکان‘ چلانا چاہتے ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں