کیا کرسی پر بیٹھ کر نماز ہوجاتی ہے ایک ایسا مسئلہ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں نمازی حضرات یہ ضرور دیکھیں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اور پچھتانا پڑے

السلام علیکم- آج کل نماز والی کرسی جس کے فرنٹ پر تختہ لگا ہوتا ہے- مساجد اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے- اس حوالے سے تمام ضروری مسائل سے آگاہ فرماہیں کہ کس طرح کے مریض یہ کرسی استعمال کر سکتے ہیں اوراس کرسی پر نماز پڑھنےکا درست طریقہ کیا ہے؟ ۔۔۔۔۔جاری ہے۔

جواب:بعض لوگوں کو کمر، گھٹنوں یا ٹخنوں وغیرہ میں تکلیف ہوتی ہے اور آج کل بوجوہ یہ صورت عام ہے، چنانچہ وہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، بعض مریض نہ کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ رکوع و سجود صحیح طریقہ سے ادا کر سکتے ہیں، وجہ بڑھاپا ہو یا کمزوری یا جوڑوں یا کمر وغیرہ کا درد، بہر صورت معذوری کی وجہ سے جو کر سکتے ہیں کریں۔ عبادات کے وہ حصے جو ادا نہیں ہو سکتے، ان میں شرعاً رعایت ہے۔ دین اسلام میں نہ تنگی ہے نہ تکلیف، اس کی بنیاد یُسر (آسانی) پر رکھی گئی ہے، یہ سہولتیں اور رعایتیں شارع کی طرف سے ہیں۔ ان سے معذوروں کو کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا۔ بعض مخلص، دیندار مگر بے علم حضرات اس کی اجازت نہیں دیتے، ان کے نزدیک اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ کئی مسجدوں سے کرسی زبردستی اٹھالی گئی ہے۔ یہ سراسر زیادتی، کم عقلی و کم علمی ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں کثرت سے سوالات آئے اور آتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ کی وضاحت کے لئے کچھ عرض کیا جاتا ہے۔ مسئلہ کی دو صورتیں ہیں، ایک جائز، دوسری ناجائز۔جائز صورت یہ ہے کہ معذور شخص کے سامنے پتھر، روڑا، لوہا، لکڑی وغیرہ سخت چیز ہو اور وہ اس پر سجدہ کرے، یہ بالکل جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ پتھر، اینٹ تختہ اٹھا کر پیشانی کے قریب کرے اور اس پر سجدہ کرے۔ خواہ نمازی خود اٹھائے یا کوئی دوسرا۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے، دیکھا کہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، فرمایا اگر زمین پر سجدہ کر سکتے ہو تو سجدہ کرو۔ ورنہ اپنے سر سے اشارہ کرو۔ اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہے ہیں۔ لکڑی اٹھائی جاتی ہے اور وہ اس پر سجدہ کرتے ہیں۔ آپ نے اس شخص کے ہاتھ سے لکڑی چھین لی اور فرمایا، یہ چیز شیطان نے تمہیں پیش کی ہے۔ سجدہ کے لیے اشارہ کرو۔پھر اگر ایسا کر لیا تو دیکھا جائے گا، اگر مریض نے رکوع کے لئے اپنا سر کسی قدر جھکا لیا تو یہ جھکاؤ سجدہ کے لیے پورا ہو گیا۔ پھر اس لکڑی وغیرہ سے پیشانی چمٹا لیتا ہے، تو یہ جائز ہے کہ اشارہ پایا گیا، نہ اس وجہ سے کہ اس چیز پر سجدہ ہوگیا۔اگر تکیہ زمین پر رکھا ہے اور آدمی اس پر سجدہ کرتا ہے تو اس کی نماز درست ہے، اس حدیث پاک کی وجہ سے کہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے،ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں تکلیف تھی، اپنے آگے رکھے ہوئے لکڑی کے تخت پر سجدہ کرتی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے۔

ونہی تندرست آدمی شہر سے باہر سواری پر ہو۔ اور کسی عذر کی بنا پر نیچے نہ اتر سکے، مثلاً دشمن کا خوف، یا درندے کا ڈر، یا کیچڑ گارے کی وجہ سے تو سواری پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرے، نہ رکوع کرے، نہ سجود، اس لیے کہ معذوری کی ان صورتوں میں نہ رکوع کر سکتا ہے نہ قیام نہ سجود۔ یہ تمام صورتیں ایسی ہیں جیسے بیماری کی معذوری۔حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر اشارہ سے نماز ادا فرماتے تھے، اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھکتے تھجس پر اشارہ سے نماز ادا کرنا فرض ہے (یعنی معذور) اس کے لیے کسی چیز کو اٹھا کر اس پر سجدہ کرنا مکروہ ہے، اگر ایسا کیا اور اس پر سجدہ کر لیا تو اس حال میں اشارہ کا اعتبار ہوگا۔عض سپیشل کرسیوں پر بیٹھنے کے ساتھ سجدہ کرنے کی تختی بھی لگی ہوتی ہے جس پر معذور سجدہ کے لیے پیشانی رکھتے ہیں، اگر اللہ کریم کی بارگاہ مین یہ سجدہ وضع الجبهة علی الارض کے حکم میں قبول ہوگیا۔ یعنی سجدہ نام ہے، زمین پر پیشانی رکھنے کا، تو تبھی نماز درست ہوگی۔ نہیں تو اشارہ تو پایا گیا، پھر بھی نماز درست ہوگئ۔ اسے ناجائز کہنا کسی صورت درست نہیں۔ نہ لڑائی جھگڑا اور سختی کرنے کی شرعاً گنجائش۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :لوگوں کو خوشخبری سنایا کرو (ڈرا ڈرا کر اسلام سے) متنفر نہ کرو۔ اور آسانیاں پیدا کیا کرو، سختی پیدا نہ کرو۔ سکون دیا کرو۔علماء سے گزارشآپ نے قرآن و حدیث اور فقہائے امت کے ارشادات پڑھ لیے، جب تک کسی دلیل شرعی (نص) کی مخالفت نہ ہو، عوام سے نرم رویہ اپنائیں، تاکہ وہ مسجد کو عبادات سے آباد کریں، معذوروں کو رعایت دی گئی ہے، اس پر عمل کرنے دیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں احکام شرع پر کار بند فرمائے، نفس و شیطان کے کبر و غرور سے بچائے، ہم پر رحم فرمائے، آمین بحرمۃ سیدالعالمین۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں