اسد درانی کی کتاب کا اردو خلاصہ آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاصہ پہلی مرتبہ منظر عام پر

آئی ایس آئی اور را کے چیف میں خفیہ ملاقاتیں

آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہان کی تہلکہ خیز کتاب کا خلاص ۔۔۔۔۔جاری ہے

ایس آئی اور را کے چیف کیسے ایک میز پر بیٹھے

جنرل اسد درانی اور امرجیت سنگھ دولت نے بھارتی صحافی ادیتیا سنہا کو مشترکہ انٹرویو میں وضاحت کی ہے کہ دونوں شخصیات کیسے قریب آئیں اور ان کے درمیان تعاون کیسے شروع ہوا۔ آئی ایس آئی اور را کے سابق سربراہان پہلی بار بنکاک میں ملے تھاور دونوں کو ایک دوسرے کی گفتگو اور خیالات پسند آئے۔ جنرل درانی کہتے ہیںدونوں ممالک میں پیشہ وارانہ تعاون ضروری ہے، حکومتیں آتی جاتی ہیں مگر پیشہ ور لوگ زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں۔ امرجیت سنگھ دولت کہتے ہیں وہ جنرل صاحب سے متاثر ہوئے۔ دونوں ٹی وی نہیں دیکھتے اور وہسکی کے شوقین ہیں۔ جنرل صاحب کا غیررسمی اور کھلا انداز انہیں پسند ہے۔ راء کے سابق سربراہ، جنرل اسد درانی کو جنرل صاحب کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے کھل کربات نہیں کرتے۔ لیکن جنرل صاحب ملاقاتوں میں انٹیلیجنس معاملات پرکھل کر بات کرتے تھے اس لئے دونوں قریب آتے چلے گئے۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے

ہر انٹیلیجنس ایجنسی پراکسیز کا استعمال کرتی ہے: اسد درانی

انٹیلیجنس ایجنسیوں کی پراکسی وارز مشہور ہیں۔ جنرل اسد درانی کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ پراکسیز، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ضرورت ہیں۔ بلکہ اسد درانی نے دولت کو مخاطب کرکے یہ بھی کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کو بھی بھارتی انٹیلیجنس نے بنایا تھا۔ جب راء کے سابق سربراہ نے یہ کہا کہ ممبئی حملوں سے جیسے واقعات کے جواب میں سرجیکل سٹرائیکس بھارت کی مجبوری ہیں تو جنرل اسد درانی نے انہیں بتایا کہ سرجیکل سٹرائیکس کا دکھاوا (کوریوگراف) کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے

دونوں سابق سربراہان کے تحقیقی مقالے پرطوفان کھڑا ہو گیا

دونوں شخصیات کے درمیان مختلف عالمی فورمز پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ بنکاک، اسلام آباد، استنبول اور لندن میں بھی ملے۔ انہوں نے دونوں ممالک میں انٹیلیجنس تعاون پر ایک مقالہ بھی لکھا جو بھارتی اخبار دا ہندو اور پاکستانی اخبار ڈان میں شائع ہوا۔ اس مقالے پر امریکہ میں پاکستانی اور بھارتی امور کے ماہر سٹیفن کوہن نے جنرل اسد درانی سے رابطہ کیا اور کہا کہ ایسی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔اسد درانی کا کہنا تھا کہ دونوں طرف ایسے لوگ ہیں جنہیں اس مقالے پر غصہ بھی آیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے دور میں من مانی کرتے رہے اور اب مل کر مقالے لکھ رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی کئی تھنک ٹینکس ہیں جوتحقیقاتی مقالے شائع کرکے سینیٹ کو بھیجتے رہتے ہیں۔ لیکن امریکی حکومت وہی کرتی ہے جو اس کے خیال میں درست پالیسی ہے۔ اور امریکہ میں صرف ان تھنک ٹینکس کے مقالوں کو اہمیت ملتی ہے جو امریکی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق چلتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے

را چیف کو ناکام بنانے کی کوششیں

جنرل اسد درانی نے امرجیت سنگھ دولت کے متعلق یہ رائے بھی دی کہ وہ ایک مختلف انسان ہیں۔ کیونکہ وہ انٹیلیجنس بیورو سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں بہت بعد میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء میں تعینات کیا گیا۔ کئی لوگوں نے انہیں ناکام بنانے کی بھی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایجنسی سے باہر کا کوئی شخص راء میں آ کرکامیاب ہو جائے۔ اسد درانی اور امرجیت دونوں نے ایک دوسرے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرکے خوشی ہوئی اور ایسا تعاون جاری رہنا چاہیے۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے

مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو گا؟ را کے چیف کی رائے

جنرل اسد درانی کہتے ہیں امرجیت سنگھ دولت تنازع کشمیر کو سمجھتے ہیں اور انہیں وہاں کے لوگوں کا بھی خیال ہے۔ امرجیت سنگھ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو سمجھ کر آپ افغانستان اور فلسطین کے تنازعات کو بھی حل کرسکتے ہیں۔ امرجیت سنگھ کو اس بات پر بھی حیرت تھی کہ کئی کشمیری رہنماء بھی اس بات کے حامی تھے کہ دونوں ممالک کی ایجنسیوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ ان کشمیریوں نے تجویز دی کہ آپ بھارت میں مسئلہ کشمیر کو سمجھنے والوں چند لوگوں اور اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کو ایک ساتھ بٹھائیں تو مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی پاکستان کا نام کبھی کبھار ہی لیتی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر فاروق مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ جب تک پاکستان اور بھارت مل بیٹھ کر بات نہیں کرتے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ۔۔۔۔۔جاری ہے

بھارتی ایجنسیاں کشمیر میں پیسہ استعمال کرتی ہیں: امرجیت سنگھ دولت

ادیتیہ سنہا نے امرجیت سنگھ دولت سے پوچھا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ بات کہی ہے کہ کشمیر میں پیسے کا استعمال ہو رہا ہے۔ امرجیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ اس انکشاف پر بھارت کے طاقتور حلقے ان سے ناراض تھے۔ انہیں تہاڑ جیل بھیجنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کچھ لوگوں نے الزام لگایا ۔۔۔۔۔جاری ہے

کہ میں کشمیر میں رشوت استعمال کر کے اپنی جگہ بناتا رہا ہوں۔ لیکن میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ مسئلہ کشمیر سے خود نمٹ کردکھائیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں