وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔چوتھی قسط

رات کا اندھیرا ہونے پر فواد، خیام ، وشاء اور حوریہ غار سے نکلے اور انتہائی مشکل سے سڑک تک پہنچ گئے اور ریسٹ ہاؤس کی طرف چل پڑے۔بہت مہارت اور ہوشیاری سے وہ ریسٹ ہاؤس کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔رات کے اندھیرے میں پہاڑوں میں چھپا ہوا ریسٹ ہاؤس بالکل بھی دکھائی نہیں دے رہاتھا۔انہیں ریسٹ ہاؤس ڈھونڈنے میں کافی دیر لگی۔۔۔جاری ہے

فواد اور خیام اپنی اپنی ٹارچ سے ریسٹ ہاؤس کے اندر داخل ہونے کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔وشاء اور حوریہ بہت تھک گئی تھیں۔ وہ دونوں ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئیںخیام نے فوادکو آواز دی۔’’ادھر آؤ فواد دروازہ مل گیاہے۔‘‘فواد ، خیام کے پاس گیا۔ اس نے دروازے کو چھوا۔’’اس پر تو قفل لگا ہوا ہے۔‘‘ان دونوں نے دروازے کا قفل توڑا۔حوریہ اور وشاء بھی سامان اٹھائے ان دونوں کی طرف بڑھ گئیں۔جونہی خیام نے دروازہ کھولا۔دھول سے اسے کھانسی آنے لگی۔حوریہ نے آگے بڑھ کر مکڑی کے بڑے بڑے جالے صاف کیے اور وہ چاروں اندر داخل ہو گئے۔ اندر داخل ہوتے ہی فواد نے دروازہ بند کر دیا اور وہ چاروں خود کو قدرے محفوظ سمجھنے لگے۔وہ جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے دھول اوربڑے بڑے جالوں سے انہیں سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔یہ چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس تین کمروں ، ایک کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل تھا۔ساری عمارت انتہائی خستہ حال تھی۔ دراڑیں، چھتیں جگہ جگہ سے ٹوتی ہوئی، فرش دھول، مٹی اور پتھروں سے بھرا ہواتھا۔۔۔جاری ہے

وشاء اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اکتاہٹ میں بولی۔’’یہ ریسٹ ہاؤس نہیں کھنڈر ہے۔‘‘خیام فرش سے نوکدار پتھر اٹھا کے راستہ صاف کرنے لگا۔ ’’جیسا بھی ہے ایک کمرہ تو مل کر صاف کرناہوگا تاکہ ہم رات گزار سکیں۔‘‘حوریہ نے کمرے کے چاروں اطراف میں ٹاچ گھمائی۔’’تھوڑابہت صاف کرلیتے ہیں باقی دن کی روشنی میں صاف کریں گے۔ یہاں پرکون سا بجلی ہے ۔ اندھیرے میں اس طرح چیزوں کو الٹ پلٹ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘وہ چاروں جس کمرے میں کھڑے تھے وہ ہال نما بڑا کمرہ تھا۔کمرے کے فرنیچر کوکپڑوں سے ڈھانپاہوا تھا۔ سفید کپڑوں کی حالت دیکھ کراندازہ ہو رہا تھا کہ دیمک نے اس فرنیچر کا کیا حال کیا ہوگا۔دیوار پرانتہائی پرانی طرز کی وال کلاک لگی تھی۔ دیوار کے ساتھ آتش دان تھا۔جس پرسفید جالی کے پردوں کیطرح جالے لٹک رہے تھے۔ وہ چاروں سردی سے تھرتھرکانپ رہے تھے۔حوریہ اپنے کندھے سکیڑے آتش دان کے قریب آئی۔‘‘کاش یہاں آگ جل جائے ہم سارے ادھر ہی رات گزار لیں گے۔‘‘وشاء بھی حوریہ کے قریب آگئی’’اگر ایسا ہو جائے تو کیاہی بات ہے لیکن ہمیں لکڑیاں کہاں سے ملیں گی۔‘‘فواد نے ایک کرسی پرسے کپڑا اتارا۔’’یہ گلاسڑا فرنیچر کس کام آئے گا۔‘‘ یہ کہہ کرفواد نے کرسی کو جس کودیمک نے جگہ جگہ سے کھوکھلا کر دیاتھادو تین ضربیں لگائیں کرسی دو تین حصوں میں ٹوٹ گئی۔ آتش دان صاف کرنے کے بعد خیام اور وشاء وہاں لکڑیاں رکھ کر آگ جلانے لگے اور فواد اور حوریہ کمرے کی تھوڑی بہت صفائی کرنے لگے۔خیام نے لکڑیاں ترتیب سے رکھ کے اپنے لائٹر سے ان میں آگ لگا دی۔آگ جل گئی تو وہ چاروں آتش دان کے قریب بیٹھ گئے۔۔۔جاری ہے

حوریہ اپنے کندھے سکیڑے چھت کی طرف دیکھ رہی تھی۔’’فواد!یہ چھت اس قدر خستہ حال ہے نہ جانے کب ہمارے اوپر آگرے۔‘‘’’گرتی ہے تو گر جائے ہرجنگ جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ تم ہر طرح کا ڈر اپنے اندر سے نکال پھینکو، آسانیوں بھری زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔ زندگی میں اینڈونچرہونا چاہئے۔ چیلنجز ہونے چائیں۔‘‘حوریہ جیسے تپ گئی’’تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ لڑکی ہونے کے باوجود سینے میں پتھر جیسا دل رکھتی ہوں۔ مگر کسی غیر محفوظ جگہ کو محفوظ کہنا حماقت ہے اور میں احمق نہیں ہوں۔‘‘’’میں تویونہی کہہ رہاتھا تمہارااس مشن میں ہوناہی تمہاری بہادری کی دلیل ہے۔ اس مشن میں آنے والے ہر فرد کا سینہ پتھر کاہی ہے جس پراحساسات چھید نہیں کرسکتے۔ ہمارے والدین خوامخوہ ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ ہمیں مردہ تصور کرکے اپنے گھروں کولوٹ جائیں۔‘‘خیام نے بھی فواد کی تائید کی۔’’اب ہمیں وہ ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ ہم ان کی اولاد تھوڑی ہیں ہم تو ان کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں ہیں۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا۔‘‘حوریہ نے فواد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔’’ہمیں ان جیسا عام انسان نہیں ہمیں تو خاص بننا ہے‘‘ اس ساری گفتگو میں وشاء خاموش تھی۔بیٹھے بیٹھے کہیں کھوگئی تھی۔ سوچکے دریچوں سے اپنے ماضی میں جھانکنے لگی تھی۔جہاں اس کی ماں اس پر اپنی محبتیں نچھاور کررہی تھی وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولادتھی۔ڈیڈی انتہائی مصروف رہتے تھے مگر ماں کی محبت جیسے اسکی ہر کمی پوری کر دیتی تھی۔ڈیڈی کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔ وہ زیادہ بیرون ملک ہی رہتے۔ا گر گھرپر ہوتے تو اپنے آفس میں نیٹ پر مصروف رہتے۔وہ سولہ برس کی ہوئی تو تقدیر نے اس سے جیسے اس کی ساری خوشیاں چھین لیں۔ اس کی والدہ کاانتقال ہوگیا۔ ڈیڈی نے تو دو ماہ بھی صبر نہ کیا اورنئی شادی رچالی۔سوتیلی ماں کے برتاؤ نے وشاء کی شخصیت میں جوتبدیلیاں پیدا کیں۔ اس سے اس کی راہیں گم ہوگئیں۔ اپنے ہی گھر میں انجان ہونے کے احساس نے اسے بے گھرکردیا۔۔۔جاری ہے

خیام نے وشاء کے سرپر تھپکی دی۔’’تم کہاں کھوگئی ہو۔‘‘ وشاء کے لبوں پرپھیکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔’’کچھ نہیں میں یہ سوچ رہی تھی کہ جب ہم والدین کے گھر میں اپنے مجسم وجودمیں اپنا آپ کھو دیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے مگرجب ہمارا وجود ان کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے توہمیں تلاش کرتے ہیں۔‘‘۔۔جاری ہے

خیام نے اپنی جیکٹ اتار کر وشاء کے کندھوں پر ڈال دی۔’’اب وہ ہمیں جتنابھی ڈھونڈلیں ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘باتیں کرتے کرتے کب ان کی آنکھ لگ گئی۔ انہں پتہ ہی نہ چلا۔

کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں