سہارن پور میں ایک مکان تھا جس پر جنات کا اثر تھا جو بھی اس مکان میں آتا فورا اسے چھوڑ دیتا ایک دن

حاجی امداد اللہ صاحب کی ایک حکای مولانا گنگو ہی رح سے سنہ ہے کہ سہارن پور میں ایک مکان تھا جس میں جنات کا سخت قبضہ تھا جنات کا ایسا اثر تھا۔۔جاری ہے

کہ جو کوئی اس مکان میں آیا کچھ ہی روز میں چھوڑ دیتا اتقاق سے حاجی صاحب رحمتہ اللہ کلیر سے واپسی پر سہارن پور تشریف لائے تو مالک مکان نے حضرت کو اسی مکان میں ٹھہرا دیا کہ شائد حضرت کی برکت سے جنات اس کے مکان سے بھاگ جائیں رات کو جنب حضرت تہجد کے لیے اُٹھے اور تہجد ادا کی معمولات سے فارغ ہونے کے بعد دیکھا ایک شخص سامنے آکر بیٹھ گیا ہے حضرت کو شدید حیرت ہوئی کہ باہر کا آدمی اندر کیسے آگیا باہر کے دروازے کو تو کُنڈی لگی ہوئی تھی پھر یہ آدمی اندر کیسے آیا۔۔جاری ہے

اور میرے سوا تو اور کوئی مکان میں بھی موجود نہیں کو کُنڈی کھول سکے اور نہ ہی کوئی دستک کی آواز سنی گئی حضرت نے پوچھا تم کون ہو اس آدمی نے جواب دیا حضرت میں ہو جس کی وجہ سے ہر ایک نے اس مکان کو چھوڑ دیا یعنی میں جن ہوں میں ایک لمبی مدت سے حضرت کی زیارت کا مشتاق تھا اللہ نے آج میری تمنا پوری کی حضرت نے فرمایا ہماری محبت کا دعویٰ کرتے ہو اور پھر مخلوق کو ستاتے ہو اللہ سے توبہ کرلو حضرت نے اس کی توبہ کروائی اور پھر فرمایا سامنے دیکھو حضرت حافظ ضامن صاحب تشریف رکھے ہیں ان سے بھی ملاقات کرلو۔۔جاری ہے

اس جن نے کہا نہیں حضرت ان سے ملنے کی ہمت نہیں ہوتی وہ بڑے صاحب جلال ہیں ان سے ڈر لگتا ہے اللہ کر فرمانبر داری وہ چیز ہے کہ جنات و انسان سب مطیع یوجاتے ہیں بحوالہ ذلر الموت د عوات عبد یت

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں