وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی پانچویں قسط

چھت کی دراڑوں میں سے اور بند کھڑکیوں کے چرے ہوئے دروازوں سے سورج کی روشنی چھن چھن کر ان کے چہروں پرپڑی تو وہ نیند سے بیدار ہوئے۔فواد ، حوریہ اور خیام دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہے تھے مگر وشاء کو اپنی کی طلب ہو رہی تھی۔ وہ آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ اسنے اپنے قریب پڑی ہوئی پانی کی بوتل اٹھائی اور اس کا ڈھکن کھول کربوتل منہ سے لگا لی۔ اس کی نظر اردگردکے ماحول پر پڑی تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کمرے کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا۔ فرش صاف ستھرا تھا۔ اس پر گندگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔۔۔۔جاری ہے

گندے کپڑوں سے ڈھانپا ہوا بوسیدہ فرنیچر نئے فرنیچرکی طرح دمک رہاتھا۔پانی وشاء کے منہ میں ہی رہ گیا اسنے بہ مشکل پانی حلق میں اتارا تو خیام کو جھنجھوڑتے ہوئے اٹھانے لگی۔’’ خیام اٹھو۔۔۔’’کیا بات ہے۔۔۔سخت نیند آرہی ہے۔ ایک سورج سونے نہیں دے رہا اوپر سے تم۔۔۔‘‘وشاء نے ایک بارپھر اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔’’اٹھو خیام۔۔۔‘‘وشاء کی گھبرائی ہوئی آواز سے فواد اور حوریہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئے۔خیام بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا۔’’اب بتاؤ کیا مصیبت آگئی ہے۔‘‘’’’میری طرف نہیں سامنے دیکھو۔‘‘ وشاء نے اس کا چہرہ سامنے کی طرف موڑ دیا۔خیام کے ساتھ ساتھ فواد اور حوریہ کی بھی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی’’اوہ مائی گاڈ! یہ سب کیسے ہوگیا۔‘‘فواد نے پھرتی سے اپنے بیگ سے اپنی پسٹل نکال لی۔‘‘اس کا مطلب ہے کہ یہاں پرکوئی ہے۔‘‘’’ہاں بلا شبہ ہمارے آنے سے پہلے یہاں کوئی رہتا ہوگا۔‘‘وہ چاروں یک دم چوکنے لوگئے۔حوریہ اور وشاء دھیرے دھیرے چلتے ہوئے فرنیچر کے قریب آئی۔ حوریہ نے صوفے کو چھوا۔’’ایک رات میں کوئی انسان اتنی صفائی کیسے کر سکتا ہے۔‘‘ وہ بھی تب جب یہاں بجلی بھی نہ تھی۔‘‘۔۔۔جاری ہے

’’صفائی کی بات تو ذہن مان سکتاہے مگر یہ گلا سڑا فرنیچر، یہ کیسے نیا بن گیا۔‘‘ وشاء صوفے کے قریب آئی۔خیام نے بھی اپنی گن نکالی اور وشاء سے مخاطب ہوا۔’’تم دونوں یہیں ٹھہرو ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘ وہ دونوں ریسٹ ہاؤس کے سارے کمروں میں گئے۔ باقی کمرے بھی ہال کی طرح صاف ستھرے تھے اور ان کے فرنیچر چمک رہے تھے۔کھنڈر نما ریسٹ ہاؤس ایک خوبصورت رہائش گاہ میں تبدیل ہوگیا تھا۔فواداونچی اونچی آواز میں چلا رہا تھا’’کون ہے یہاں سامنے آؤ۔‘‘ مگر ہر طرف سناٹے یہ سرگوشی کر رہے تھے کہ یہاں برسوں سے کوئی نہیں آیا۔ ان چاروں کے علاوہ اس ریسٹ ہاؤس میں کوئی نہیں تھا۔وہ دونوں کچن میں داخل ہوئے تو ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے سیٹ تھی۔ڈائننگ ٹیبل پر گرم گرم ناشتہ لگا ہوا تھا اور اس کے ساتھ تازہ پھل پڑے تھے۔فواد نے حیرانی سے خیام کی طرف دیکھا۔’’یار! ان غیر آباد پہاڑوں پر اور اس کھنڈرمیں یہ سب کچھ کیسے۔ اور پورے ریسٹ ہاؤس میں کسی انسان کا نام و نشان تک نہیں ہے۔‘‘’خیام نے اپنا سوکھا ہوا حلق ترلیا’’ہو سکتا ہے کہ وہ شخص باہر گیاہو۔‘‘’’باہر جانے کادروازہ تو اندر سے بند ہے اس کے علاوہ باہر جانے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔‘‘ فواد نے اپنی گن بیلٹ میں ڈال لی۔’’جو کچھ بھی ہے کسی نے یہ ناشتہ ہمارے لئے ہی بنایا ہے۔ میز پر پوری چارپلیٹیں پڑی ہیں۔‘‘ خیام نے کہا۔’’مگرہم یہ چیزیں نہیں کھا سکتے۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آخریہ سب کیا ہورہا ہے۔’’فواد نے بے چینی سے اردگرد دیکھا تو اس کی نظر کچن کی دیوار پر ٹھہر گئی جہاں کسی نے خون سے لکھا تھا۔۔۔۔جاری ہے

’’طلسماتی اور سنسناتی دنیا میں تمہارا خیر مقدم۔‘‘’’وشاء ، حوریہ، جلدی آؤ۔‘‘ خیام کے پکارنے پر وشاء اور حوریہ کچن میں داخل ہوئیں۔دونوں تحریر پڑھ کر دم بخود رہ گئیں۔ ’’یہ تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ریسٹ ہاؤس میں کسی ماورائی قوت کا بسیرا ہے۔‘‘ وشاء نے کہا۔حوریہ نے دیوار کے قریب جاکے دیوارکو چھوا تو خون میں چپچپاہٹ ابھی تک موجودتھی۔’’یہ تحریر تازہ خون سے لکھی گئی ہے۔ کسی نے واقعی ہمیں خوش آمدید کہا ہے مگرہمیں بہت محتاط رہنا چاہئے۔‘‘یہ کہہ کر حوریہ نے اپنے دونوں بازو مشرق و مغرب کی سمت کی طرف پھیلا لیے۔ آنکھیں بند کر لیں اور بلند آواز میں گویا ہوئی۔’’ہم تمہارے مہمان ضرور بنیں گے مگر ہمیں ثبوت دو کہ تم کوئی ماورائی قوت ہو یا انسان ہو۔‘‘’’حوریہ یہ تم کیا کر رہی ہو۔‘‘ فواد ، حوریہ کی طرف بڑھنے لگا تو جسم کو جھلسا دینے والی تیز حرارت نے اسے حوریہ سے دور کر دیا۔حوریہ جس حالت میں کھڑی تھی اسی حالت میں جیسے پتھر کی ہوگئی۔وشاء اور خیام بھی اسے پکارتے رہے مگر اس نے کسی کی طرف بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ اپنے دوستوں کی طرف پلٹی تو اسکے چہرے کے خدوخال تبدیل ہو چکے تھے۔ چہرے کی جلد سلیٹی مائل ہوکے سلوٹوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وشاء چیخ کر خیام کے کندھے سے لگ گئی۔حوریہ مردانہ گرج دار آواز میں بولی۔’’طلسماتی اور سنسناتی دنیا میں خوش آمدید۔ تم فانی دنیا کے کمزور لوگوں کو چھوڑ کر ہماری دنیا میں شامل ہونے آئے ہو۔ اپنے دل سے انسانوں کے ڈر کو نکال پھینکو۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایک ویمپائر کی طاقت اس کا ارادہ ہوتی ہے۔ جس مشن پر آئے ہو صرف اس پر دھیان دو۔ مجھے اپنا دوست سمجھو۔ تمہاری ہر مشکل تمہارے پکارنے سے پہلے حل کر دوں گا۔ میں ولہان ہوں، بار بار ظاہر نہیں ہو سکتا۔ میری پوروں میں بھی آگ ہے اور میری سانسوں میں بھی، کچھ دیر یہاں اور رکا تو یہ ریسٹ ہاؤس جل کر راکھ ہو جائے گا اور ساتھ میں تمہاری دوست بھی۔‘‘۔۔۔جاری ہے

آواز کے ختم ہوتے ہی حوریہ کا جسم بجلی کے سے جھٹکے لینے لگا۔ ایک سفید ہیولہ اس کے جسم سے نکل کر ہوا میں تحلیل ہوگیا۔حوریہ زمین پر اس طرح گری جیسے کسی نے اسے پٹخ کر زمین پر دے مارا ہو۔فواد نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا۔ وہ نڈھال تھی۔ اسے پانی پلایا۔’’مجھے کیا ہوا تھا۔۔۔؟‘‘ حوریہ نے اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹتے ہوئے فواد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔’’کچھ نہیں۔۔۔تمہیں چکرآگیا تھا۔‘‘ فواد نے حوریہ کو سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا۔وہ چاروں ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ بھوک تو بہت لگی ہے، کیا خیال ہے۔‘‘خیام نے فواد سے پوچھا۔فواد نے لاپروائی سے کہا’’دیکھا جائے گا۔ شروع کرو۔‘‘حوریہ نے پلیٹوں کے اوپر ہاتھ رکھ لیے۔‘‘ یہ کسی کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔‘‘۔۔۔جاری ہے

خیام نے تمسخرانہ انداز میں حوریہ کی طرف دیکھا۔’’خود ہمیں ناشتے کی پیشکش کرکے اب منع کر رہی ہو۔‘‘’’کیا مطلب؟‘‘ حوریہ نے حیرت سے خیام کی طرف دیکھا۔فواد نے مسکراتے ہوئے حوریہ سے کہا’’تم ناشتہ کرو۔ ہم تمہیں بعد میں ساری بات بتا دیں گے۔‘‘ان چاروں نے ناشتہ کر لیا اور اس کے بعد چاروں اپنے مشن کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں