وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ چھٹی قسط

پروفیسر حسنان اور اریبہ خیام، وشاء ، حوریہ اور فواد کے والدین کے ساتھ مسلسل ان چاروں کی تلاش میں مصروف تھے۔جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا۔۔۔ان چاروں کے والدین کے خدشات بڑھتے جا رہے تھا۔۔۔جس کی وجہ سے پروفیسر حسنان اور اریبہ پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہاتھا۔۔۔۔۔جاری ہے

تقریبا پورا دن ہی وہ لوگ تلاش میں مصروف رہے۔ رات کو تھک ہار کے واپس ہوٹل آئے تو گمشدہ اسٹوڈنٹس کے والدین اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔پروفیسر حسنان اور اریبہ اپنے اپنے کمروں کے جانے کے بجائے باہر بینچ پر ہی بیٹھ گئے۔ رات کے اندھیرے میں اس پہاڑ کا منظر بہت ہی خوبصورت تھا۔آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے ستارے اتنے قریب محسوس ہو رہے تھے کہ یہ گمان ہو رہا تھاجیسے وہ اس آسمان میں ہی کہیں موجود ہیں۔پہاڑوں کے نشیب و فراز پر جگمگاتے ہوئے گھر بھی اس طرح دکھائی دے رہے تھے جیسے قدرت نے کچھ ستارے ان پہاڑوں پر بھی پھینک دیئے ہوں مگریہ ساری خوبصورتی حسنان اور اریبہ کے لیے بے معنی ہوگئی تھی۔اریبہ کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔’’حسنان! یہ سب کیا ہوگیا۔ ہم کتنے شوق سے اسٹوڈنٹس کو تفریح کے لیے لے کر آئے تھے اور اس پریشانی کا شکار ہوگئے۔ مجھے تو بار بار اس غلطی کا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے ان چاروں پر نظر کیوں نہیں رکھی۔ ان کا عجیب برتاؤ دیکھ کر ہمیں انہیں اپنے ساتھ ہی نہیں لانا چاہئے تھا۔ ہمارے سٹاف کی ، یونیورسٹی کی کس قدر بدنامی ہوئی ہے۔‘‘۔۔۔۔جاری ہے

پروفیسر حسنان نے لمبا سانس کھینچا’’یہ سب باتیں تو قابل برداشت ہیں مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر ان چاروں کو کچھ ہوگیا تو ان کے والدین پر کیا گزرے گی۔ مری کا کوئی ہوٹل ہم نے نہیں چھوڑا۔ مری کے قریب علاقوں کے ہوٹلوں میں بھی ڈھونڈا۔ دور دراز کے علاقوں میں تو وہ اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتے۔ مگر پھر بھی وہاں پر فون کے ذریعے ہوٹلزکے مالکان سے رابطہ ہے۔ ٹریفک پولیس کو الرٹ کر دیا گیاہے۔ پورے شہر میں پولیس پھیلی ہوئی ہے۔ وہ چاروں آخر گئے کہاں؟‘‘اریبہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھی پھر اس نے حسنان کی طرف دیکھا۔’’میرا خیال ہے کہ ہمیں ان کے والدین کو ان چاروں کی گزشتہ دنوں کی حرکات سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اس سے بھی ان چاروں کی تلاش میں مدد ملے گی۔ آخر ان چاروں کے ذہن میں چل کیا رہا تھا۔ انہوں نے کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ ان چاروں کی غیر اخلاقی حرکات کا نوٹس نہ لینے کے جس قدر ذمے دار ہم ہیں۔ اتنے ہی ذمے داران کے والدین ہیں۔‘‘صبح ہوتے ہی اریبہ اور حسنان نے ان چاروں کے والدین کو باہر لان میں بلایا۔وہ سب باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ پریشانی سے سب کی حالت بہت خران تھی۔ ایک رات مزید گزر جانے کے بعد ان کا حوصلہ ٹوٹنے لگا تھا۔فواد کے والد ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ حسنان کے بات شروع کرنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھے۔’’اب یہاں پر ہمیں کیوں بلایا ہے۔ آپ لوگ باتیں کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ ہمارا وقت برباد نہ کریں۔ ہم اپنے طور پر اپنے بچوں کو ڈھونڈیں گے۔‘‘’’پلیز انکل آپ تحمل سے ہماری بات توسنیں۔‘‘ اریبہ نے انہیں کرسی پر بٹھایا اور پھر حسنان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرکے خود بات شروع کی۔’’دیکھئے کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لیے راستے کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح چاروں تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ گمشدہ ہونے سے قبل وہ چاروں کس قسم کے حالات سے دوچار تھے۔ ان دنوں ان کی حرکات کیا تھیں وہ کس قسم کے لوگوں سے مل رہے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ وہ کس راستے پر چل رہے تھے۔ ایسا کیا ہوا تھا انہوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ اگر ان سب باتوں کا علم ہو جائے تو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ کہاں گئے ہوں گے۔‘‘۔۔۔۔جاری ہے

خیام کی والدہ کو اریبہ کی بات معنی خیز لگی، وہ باقی لوگوں سے مخاطب ہوئی۔’’میرا خیال ہے کہ آپ مرد حضرات یہیں ٹھہریں اور ہم خواتین اپنے گھروں میں جا کے ان کے کمروں کی تلاشی لیتی ہیں، ان کے کمپیوٹرز سے بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کا میل جول کن لوگوں سے تھا۔‘‘وشاء کے والد نے بھی اس کی بات کی تائید کی اور کہا’’اس علاقے کا تو ہم نے چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ ویسے بھی ادھر پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔ ہمیں انہیں دوسری جگہوں پر تلاش کرنا چاہئے۔ مس اریبہ کے کہنے کے مطابق ہمیں انکی چیزوں کی تلاش بھی لینی ہوگی۔ میں آج ہی گھر کے لیے روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘حسنان نے اریبہ سے سرگوشی کے انداز میں کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم جو بات کہنا چاہتی تھیں وہ کہہ دو۔ تمہاری بات یہ سب زیادہ غور سے سنیں گے۔‘‘ اریبہ نے بات شروع کی تو بولتے بولتے خاموش ہوگئی۔ندامت کے احساس سے اس کی زبان میں جیسے بل آگیا کیونکہ وہ جو کچھ بتانے جا رہی تھی اس کاذمہ دار اس کا سٹاف بھی تھا۔پھر بھی اسنے ہمت کرکے دوبارہ بات شروع کی۔’’یونیورسٹی کے دوسرے اسٹوڈنٹس کی نسبت ان چاروں کا برتاؤ بہت عجیب تھا۔ تعلیمی حالت کا تو آپ لوگوں کو علم ہے۔ وہ کلاس میں سب سے پیچھے تھے حیرت کی بات تو یہ تھی کہ ان کا ہر عمل ایک جیسا تھا۔ایک بات کا مجھے بہت افسوس ہے کہ ان کی کچھ باتیں جو ہمیں آپ لوگوں کے علم میں لانی چاہئے تھیں۔ ان سے ہم آپ کو آگاہ نہیں کر سکے۔پروفیسر حسنان نے ایک بار حوریہ کے بیگ کی تلاشی لی تو انہیں اس کے بیگ سے Black Magicکی کتاب ملی۔ اسی طرح سے انہوں نے خیام کے بیگ کی تلاشی لی تو انہیں اس کے بیگ سے ڈرگز ملی۔حسنان نے پرنسپل صاحب کو ان باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے حوریہ اور خیام کو اپنے آفس میں بلا کر سمجھا دیا۔ مگر آپ لوگوں کو اس ساری صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔‘‘حوریہ اور خیام کے والدین کسی قسم کا سخت ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے سر جھکائے خاموش تھے۔ جیسے وہ خود بھی اپنے بچوں کی ان حرکات سے واقف تھے۔۔۔۔۔جاری ہے

حوریہ کی والدہ نے ٹشو سے اپنے آنسو پونچھے۔’’ان سب باتوں کا جتنا ذمہ دار آپ کا سٹاف ہے اس سے کہیں زیادہ یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ یہ تو اساتذہ کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ وہ یونیورسٹی تک پہنچ گئے۔ مگر رشتوں کے معاملات میں وہ اس قدر باغی کیسے ہوگئے۔ ان کا برتاؤ ایسا جارحانہ ہوگیا کہ انہیں ہر طرف سے دھتکار اور نفرت ملنے لگی۔ ایسا کیا ذہنی انتشار تھا کہ وہ ڈرگز کی طرف مائل ہوگئے۔‘‘ حوریہ کی والدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ان چاروں کے والدین ایک روز کے لیے اپنے اپنے گھروں کولوٹ گئے۔ انہوں نے ان چاروں کے کمروں کی اچھی طرح تلاشی لی۔۔۔۔۔جاری ہے

ان کے Contactچیک کیے اور جو اشیاء خاص لگیں انہیں ایک بیگ میں ڈال لیا۔خواتین اپنے گھروں میں رہ گئیں۔ اور ان چاروں کے والد دوبارہ مری پہنچ گئے۔انہوں نے پولیس کی مدد سے تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا اور دور دراز کے علاقوں میں بھی تلاش شروع کر دی

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں