نواز شریف کے اپارٹمنٹس ضبط نہیں ہوسکتے کیونکہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف کیلئے بڑی خوشخبری آگئی جان کر عمران خان کیلئے بھی یقین کرنامشکل ہوجائے گا

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نوازشریف اور ان کے داماد کیپٹن (ر) محمدصفدر کو باالترتیب 10 سال، 7 سال اور ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔جاری ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے تینوں کو 10، 10 سال کیلئے عوامی عہدوں کیلئے نااہل بھی قراردے دیا ہے جبکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نمبر16،16اے ، 17اور17اے کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اب نوازشریف اور دیگر ملزموں کے پاس دادرسی اور مزاحمت کے کون سے راستے ہیں جنہیںوہ اختیار کرسکتے ہیں۔ان کے پاس قانونی اور سیاسی ہر دو راستے موجود ہیں جن پر وہ بیک وقت سفر کریں گے۔قانون کے تحت نوازشریف ،مریم نواز اور محمد صفدر 10روز کے اندر اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق نوازشریف کے وکلاءنے انہیں ہرحال میں اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا ہے۔ اپیل دائر کرنے کے لئے فیصلے کی مصدقہ نقل بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ایسے سیکڑوں عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں ملزم کے سرنڈر کے بعد ہی اپیل کو قابل سماعت گردانا گیا ہے ،ایسی صورت میں نوازشریف اور دیگر ملزموں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ گرفتاری پیش کریں یا پھر اپیلٹ کورٹ میں پیش ہوں۔ بعض قانونی ماہرین کے مطابق 174صفحات پر مشتمل احتساب عدالت کے فیصلے میں نوازشریف اور ان کے شریک ملزموں کے خلاف قومی خزانے کی لوٹ مار اور کرپشن کے ذریعے مال بنانے کے الزام کے تحت سزا نہیں دی گئی بلکہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(اے)5اور12کے تحت آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے اور زیرکفالت افراد کے نام پر جائیدادیں بنانے کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔جاری ہے۔

یہ درست ہے کہ نوازشریف اور شریک ملزموں کو نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(اے)4کے تحت سزا نہیں سنائی گئی ،اس سیکشن میں کہا گیا ہے کہ اگر بددیانتی ،غیر قانونی ذرائع اور کرپشن سے ملزم نے یا اس کے خاندان یا زیر کفالت افراد نے اثاثے بنائے ہوں تووہ اس قانون کے تحت مجرم اورسزا کے مستحق ہوں گے تاہم انہیں جو سزا دی گئی ہے وہ نیب آرڈیننس کے تحت ہی دی گئی ہے۔آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنا بھی کرپشن کے زمرہ میں آتا ہے تاہم حاکم علی زرداری کیس میں اعلیٰ عدالتیں قراردے چکی ہیں کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام کو ثابت کرنے کے لئے کرپشن کو ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔نوازشریف کے وکیل کے دلائل میں بنیادی نکتہ ہی یہ تھا کہ استغاثہ اسے کرپشن کا کیس ثابت نہیں کرسکا۔نواز شریف کے وکلائ کے بقول ملزم کے لئے اثاثوں کا قانونی جوازپیش کرنا اسی صورت میں لازم ہوگاجب استغاثہ اپنا کیس ثابت کرچکا ہو۔احتساب عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا تاہم ملزموں کے پاس اپیل میں یہ نکتہ اٹھانے کا موقع موجود ہے۔یہاں تک ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحق سرکار ضبط کرنے کے عدالتی حکم کا تعلق ہے یہ ایک قانونی تقاضہ تھا جسے پورا کیا گیا ،عملی طور پر اپارٹمنٹس کی ضبطی کے حکم پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیںجاری ہے۔

جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کے پابند ہوں۔برطانیہ اور پاکستان کی عدلیہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت موجود ہے جس کے تحت بچوں کی تحویل کے معاملات میں دونوں ممالک کی عدالتیں ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیںتاہم اس مفاہمتی یاد داشت میں دیگر کوئی معاملہ شامل نہیں ہے۔پاکستانی سرکار کو اپارٹمنٹس کی ضبطی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لئے برطانوی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ایسے مقدمات جن میں سیاستدان ملوث ہوں ان میں برطانیہ سمیت یورپی ممالک کی عدالتیں عدم تعاون کا رجحان رکھتی ہیں۔علاوہ ازیں شریف فیملی کی طرف سے احتساب عدالت کے اس حکم کو غیر موثر بنانے کے لئے برطانیہ میں یہ موقف بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ ابھی ان کے پاس پاکستان میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔اس لئے برطانوی عدالتیں یا سرکار کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائے۔نوازشریف نے وطن واپسی کا اعلان کردیا ہے ،انہوں نے عوام کو 70سالہ غلامی سے نجات دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے تعاون بھی مانگا ہے۔پاناما لیکس کے بعد ضرورت سے زیادہ اعتماد نے نوازشریف سے مقدمات کی پیروی کے حوالے سے کئی غلطیاں کروائیں۔جاری ہے۔

سپریم کورٹ میں وہ اعتراضات نہیں اٹھائے گئے جو ان کا قانونی حق تھا۔جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جاتا رہا لیکن کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔اداروں سے لڑائی کے دوران سیاستدانوں سے بنا کر نہیں رکھی گئی اور آصف علی زرداری جیسے سیاستدانوں کو ناراض کر بیٹھے۔اب نوازشریف کو بیک وقت قانونی اور سیاسی محاذ پر لڑنا ہوگا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں