نواز شریف کا سزا دلوانے میں مرکزی کردار عمران خان کا نہیں بلکہ کس شخص کا تھا نام جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

وہ ایک شخص جس نے شریف خاندان کو سزا دلوانے میں مرکزی کردار ادا کیا، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے بہتر تفتیش کرکے نیب کو مضبوط کیس بنانے میں مدد دی،عدالت میں اہم ترن گواہ کے طور پر بھی پیش ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالتنے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے۔جاری ہے۔

نواز شریف اور ان کے صاحبزادی مریم نواز کو جیل کی سزا سنائی ہے۔جبکہ شریف خاندان پر مجموعی طور پر ایک ارب روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائر محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر 18گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ان گواہان میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں۔ یہ ریفرنس ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔ نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز،، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ،قطری خط جھوٹا اور جعلی تھا،ا۔جاری ہے۔

حتساب عدالت نے نوازشریف کی تمام جائیداد ضبط کرنے اورایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قرقی کاحکم دے دیا ہے،احتساب عدالت نے نوازشریفکو10سال قید کی سزا،8ملین پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو7سال قید،2ملین پاؤنڈ کا جرمانہ اور کیپٹن ر صفدر کوایک سال قید کی سزا بھیسنادی ہے،تینوں ملزمان کوان کی عدم موجودگی میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ، ان کی صاحبزادی مریم نوازاور ان کے دامادکیپٹن رصفدر کوایک سال سزا سنائی گئی ہے۔۔مریم نواز کوجعلی دستاویزات تیار کرنے پر دھوکہ دہی ثابت ہوئی ہے جس پرانہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔احتساب عدالت نے نوازشریف کو10سال قید کی سزا،8ملین پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو7سال قید،2ملین پاؤنڈ کا جرمانہ اور کیپٹن ر صفدر کوایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ واضح رہے احتساب عدالت نے 3جولائی کوایون فیلڈریفرنس کا فیصلہ محفوظ کیاتھا۔مسلم لیگ ن کے قائدنوازشریف اور بچوں کے خلاف8ستمبر کو احتساب عدالت میں ریفرنسزدائر کیے گئے۔ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز،، حسن اور حسین نواز سمیت کیپٹن رصفدر کو نامزد کیا گیا۔14ستمبر2017ء کوعدالت میں کیس کی پہلی سماعت ہوئی ،ساڑھے نو مہینے کیس کوسنا گیا۔26ستمبر 2017ء کو نوازشریف اور 9اکتوبر کومریم نواز پہلی بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔3نومبر کونوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر عدالت میں اکٹھے پیش ہوئے۔۔جاری ہے۔

کیس میں 18گواہان نے اپنے بیاناتقلمبند کروائے۔گواہان میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔ تاہم واجد ضیاء نےنوازشریف کوایون فیلڈ ریفرنس میں براہ راست ملوث ہونے کا بیان نہیں دیا۔اسی طرح عدم حاضری پرعدالت نے حسن اور حسین نواز کواشتہاری ملزم قرار دیا۔گیارہ جولائی کونوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوئے پھر 19جولائی کوکیس کے ساتھ لگ گئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے علاج اور ان کی عیادت کیلئے لندن میں موجود ہیں۔۔مریم نواز بھی ان کے ہمراہ لندن میں ہی ہیں۔ نوازشریف کی جانب سے فیصلہ کچھ روز کیلئے مئوخر کرنے کی درخواست کی گئی جس کواحتساب عدالت نے مستردکردیا تاہم آج بھی نوازشریف کی جانب سے فیصلہ 7روز کیلئے مئوخر کرنے کی درخواست ک کی گئی ہے۔۔جاری ہے۔

درخواست کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت کوبھجوائی گئی ہے۔تاہم عدالت نے درخواست کومسترد کردیا ہے۔جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ عدالت میں خود آکر فیصلہ سننا چاہتے ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں