انتخابات میں عمران خان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا نواز شریف وطن واپس آتے ہی کیا کھڑاک کرنے والے ہیں تازہ ترین خبر آگئی

ملک کے معروف دانشوروں نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا کو اعتبار اُس وقت ملے گا جب ایسے ہی معیارات مقرر کرتے ہوئے دیگر سیاستدانوں کو بھی سزا دی جائے ورنہ اسے ایک مخصوص خاندان کے خلاف کارروائی سمجھا جا سکتا ہے.۔جاری ہے۔

ان کاکہناتھا کہ اسی کا فائدہ اٹھاکر نواز شریف واپس آرہے ہیں کیوں کہ فیصلے کے لیے غلط وقت کا انتخاب کر کے انہیں سیاسی فائدہ پہنچایا گیا ہے ، اب وہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے موقر قومی اخبار کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ ان شخصیات سے معلوم کیا گیا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی سزا سے (ن) لیگ کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ،عوام کی ہمدردی ملنے سے ہیرو بن جائیں گے یا لوگ ان سے دور ہوجائیں گے ؟ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کے مطابق پی پی پی کے رہنما خورشید شاہ نے درست کہا ہے کہ فیصلے کے لیے وقت کا انتخاب غلط تھا۔ الیکشن کاموقع اور بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت اس فیصلے کو ہمدردی میں بدل دے گی۔.۔جاری ہے۔

فیصلے میں یہ نکتہ بھی موجود ہے کہ بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی، تو اس لحاظ سے آئینی ماہرین کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ فیصلہ بھی کمزور ہے ،اسی لیے (ن) لیگ کی قیادت واپس آرہی ہے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہیں، اس لیے عوام کی ہمدردی ان سے بڑھے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود نے کہا کہ عوام کے ذہنوں میں ایک سوال یہ بھی آ رہا ہے کہ صرف نواز شریف اور ان کا خاندان ہی کیوں،باقی سیاسی پارٹیاں اور ان کی قیادت جو ملک کو لوٹ کر کھا گئیں، اُن کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی۔.۔جاری ہے۔

یہ سزا اُس وقت تک معتبر ہو ہی نہیں سکتی جب تک یہ دوسروں کو بھی نہ ملے ۔ سیاست کا گند صرف ایک طرف نہیں ہے بلکہ کئی سیاستدان اور بعض مذہبی رہنما تک کرپشن میں ملوث ہیں۔ جب تک ہر طرف کا گند صاف نہیں ہو گا اس فیصلے کو یکطرفہ سمجھتے ہوئے عوام لیگی قیادت سے ہمدردی کریں گے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں