شادی کے کچھ سال میاں بیوی کو رومینٹک ہونے میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ دلچسپ آرٹیکل

میاں بیوی کا رشتہ خوبصورت رشتہ ہے ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ رومینس کے بغیر یہ رشتہ پھیکا سا ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی کے کچھ عرصے بعد رومینٹک ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

.۔جاری ہے۔

اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں ۔ انسان یکسانیت محسوس کرتا ہے ،بچے تنگ کرتے ہیں رومینٹک ہونے کا موقع ہی نہیں دیتے ۔ رشتوں داروں کی باتیں اور تلخ روئیے بھی رومینس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ اتنی تلخ باتیں سننے کے بعد بھی رومینٹک مزاج ہونا ایسے ہی ہے جیسےکھٹارہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر لانگ ڈرائیو کے لیے نکلنا ہے ۔ اگر انسان ان پریشانیوں پر قابو پا لے تو رومینٹک رہ سکتا ہے ۔ چلو بچوں کو کبھی کبھار ان کی خالہ کے گھر چھوڑ آئے ۔ اس میں خالہ کے تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح سسرالی رشتے دار بھی بہو کے ساتھ تعاون کریں ۔ اگر کہیں اوٹنگ کے لیے جانا ہو تو بیماری کا بہانہ کرکے نہ جانا پڑے ۔ میاں بیوی کو انجوائے کرنے کا موقع دیں وہ بھی اس دنیا میں آئے ہیں ۔۔

.۔جاری ہے۔

خیر یہ ساری باتیں تو مزاح کی ہیں رومینٹک ہونے کے لیے ذہنی طور پر پرسکون ہونا بہت ضروری ہے۔ آپس میں محبت ہونا ، ایک دوسرے کو قت دینا، ایک دوسرے سےغیر رسمی گفتگو کرنا ۔ پھر سے میاں بیوی کو ویسا احساس دلا سکتا ہے جیسا نئی نئی شادی کے وقت تھا۔
میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہے ۔ آپس میں لڑ لڑ کر دور ہوجاتے ہیں ۔ پھر شکوہ کرتے ہیں کہ کبھی پیار سے بات نہیں کی ۔ لوگ پوچھتے ہیں پھر یہ بچے کیا لڑائیوں کے درمیان ہوئے ہیں ۔ اس لیے ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے ۔ ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔ ایک دوسرے کی اچھی باتوں کی تعریف کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آئیے او رمثالی رومینٹک جوڑی بن جائیے ۔ میاں بیوی میں محبت ہوتی ہے تو گھر میں برکات آتی ہیں ۔ گھر میں سکون آتا ہے ۔

.۔جاری ہے۔

محبت کے لیے وقت ضروری ہے ۔ زندگی کی گہماگہمیوں میں ایک دوسرے کو مت بھول جائیے ۔ایک دوسرے کے لیے وقت نکالئے اور آرٹیکل شئیر کیجئے ۔۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں