کیا قندیل بلوچ کو بشریٰ مانیکا نے مروایا تھا ؟ ایسے حیرت انگیزاور پوشیدہ حقائق جن سے آپ لاعلم تھے شرمناک دھماکہ خیزانکشاف

میں ایک ایسابزدل صحافی ہوں جو اپنی اس تحقیقاتی رپورٹ پر اپنا نام ظاہر کر کہ ان لوگوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان نہیں بننا چاہتا جو عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کے لئے کوشاں ہیں۔۔جاری ہے۔

رپورٹ:قندیل بلوچ کے قتل کے بعد2016 میں نے متعدد مرتبہ اس کے گرفتار شدہ ملزمان سے ملاقات کی کوشش کی تا کہ exclusive story کر سکوں مگر اپنی ان تمام کوشششوں میں ناکام رہا۔قندیل بلوچ کے ملزمان سے ملاقات کی کوششوں کے دوران میری ملاقات پولیس کے چند جونئیر افسران سے ہوتی رہی۔ جس دن ان میں سے ایک افسر نے یہ کہا کہ”قندیل قتل کیس میں ساری دال ہی کالی ہے”اس روز مجھے یہی بات سمجھ آئی کہ یہ مفتی عبدالقوی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔متعدد ملاقاتوں کے بعد ان جونیئر اہلکاروں میں سے دو نے انکے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا تھاکہ اس قتل کیس پر مامور پولیس کے اعلی عہدیداروں نے پی ٹی آئی کے راہنما علیم خان سے ساڑھے سات کروڑ روپے کی رشوت لیکر نہ صرف تحقیقات کا رخ موڑا بلکہ قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث پاکپتن کی ایک زمیندار خاتون اور اسکے بھیجے ہوۓ کرائے کے قاتلوں کے خلاف تمام ثبوت بھی ختم کر دئیے اور ان کی جگہ فرضی ملزمان مقدمہ بھگت رہے ہیں جو آخر کار رہا کروا لئے جائیں گے۔اسوقت میں نے ان کی باتوں کا بالکل یقین نہیں کیا اور یہی فرض کر لیا کہ کیونکہ مفتی عبدالقوی کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور ان کی تصاویر قندیل بلوچ کے ساتھ منظرعام پر آئی تھیں اس لئے یہ افسران کسی ثبوت کے بغیر بے تُکی باتیں کر رہے ہیں۔۔جاری ہے۔

2016 میں بشری بی بی کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی انکا عمران خان کے ساتھ تعلق کا کسی قسم کا کوئی ثبوت دیکھا تھا۔کسی کے لئے بھی قندیل بلوچ کے قتل کا پاکپتن کی کسی زمیندار خاتون کے ساتھ تعلق نکالنا ناقابل فہم تھا۔چند روز قبل جب پاکپتن کے ایک زمیندار خاندان سے تعلق رکھنے والی بشری بی بی کا عمران خان کے ساتھ تعلق سامنے آیا تو میں نے فوری طور پر ان دونوں جونئیر پولیس افسران سے دوبارہ رابطہ کیا مگر دونوں نے مجھے ملنے سے انکار کر دیا۔اس سلسلےمیں میںممسلسل جدوجہد کے بعد میں دو مزید ایسے اہلکاروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جو قندیل کیس کے بارے میں ٹھوس معلومات رکھتے تھے۔ان جونیئر پولیس افسران کے مطابق قتل کی تحقیقات کے دوران پولیس کو قندیل بلوچ کے موبائل فون کے ریکارڈ سے قندیل بلوچ اور عمران خان کے دوست عون چوہدری کے رابطوں کا علم ہوا۔ پولیس کو اس قسم کی ٹھوس معلومات اور ثبوت ملے تھے کہ قندیل بلوچ یکطرفہ طور پر عمران خان سے شادی کی خواہشمند تھیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ جنوری 2016 میں قندیل بلوچ کی طرف سے عمران خان سےشادی کرنے کی شدید خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوۓعمران خان اور ان کے دوست عون چوہدری نے اس لڑکی کے ساتھ تعلقات بڑھاۓ اور قندیل بلوچ نے خفیہ طور پر بنی گالہ آنا جانا شروع کر دیا۔اس خفیہ آمدورفت کے دوران قندیل بلوچ کو اس بات کا علم ہوگیا کہ پاک پتن سے تعلق رکھنے والی ایک عورت مستقل طور پر بنی گالہ کے ایک حصے میں رہائش پذیر ہے جو کہ عمران خان کی پیرنی ہے اور اس کا نام بشری بی بی عرف پنکی ہے جو کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیۓ دن رات مختلف تعویذ گنڈوں،اور کالے علم میں مصروف رہتی۔ پولیس کی تلف کی گئی تحقیقات کہ مطابق جب عمران خان سے چند پرائیویٹ خفیہ ملاقاتوں کے بعد قندیل بلوچ کو بنی گالہ آنے سے روک دیا گی۔جاری ہے۔

ا تو قندیل بلوچ نے عمران خان کو عون چوہدری کے ذریعے مختلف طریقوں سے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور اسے کہا کہ اگر عمران خان میرے ساتھ شادی نہیں کرے گا تو وہ عمران خان سے اپنی خفیہ ملاقاتوں کی وہ تمام نا شائستہ تصاویر اور ویڈیوز سرعام کر دے گی جو اس نے عمران خان کی مرضی کہ بغیر چھپا کر بنائی تھیں۔ یہ مبینہ ناشائستہ تصاویر اور ویڈیوز قندیل بلوچ نے عون چوہدری کو اس کے موبائل فون پر بھیجیں تا کہ عمران خان کو بلیک میل کیا جا سکے۔جب قندیل بلوچ کو اس بلیک میلنگ کا عمران خان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ آیا تو اس لڑکی نے بنی گالہ کے اندر کی وہ معلومات جو اسے بنی گالا میں اپنی خفیہ آمدورفت کے دوران حاصل ہوئی تھیں میڈیا پر بالواسطہ طریقوں سے افشا کرنی شروع کر دیں۔ فروری 2016 میں قندیل بلوچ نے جاگ ٹی وی کے ایک ٹاک شو پر اس بات کا انکشاف کیا کہ بنی گالہ میں خفیہ طور پر ایک عورت رہا ئش پذیر ہے جو عمران خان کی پیرنی ہے اور اس نے عمران خان کو ایک انگوٹھی دے رکھی ہے اور وہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لئے دن رات تعویذ گنڈے کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔قندیل بلوچ کے ٹی وی شو پراس انکشاف کے فورا بعد عون چوہدری نے قندیل بلوچ سے رابطہ کیا اور اسے یقین دہانی کروائی کہ وہ عمران خان سے اس کی شادی کا کوئی راستہ نکال لے گا اور اس مقصد کے لئے اسے چند ماہ درکار ہیں اور وہ کچھ عرصہ کے لیے خاموشی اختیار کرے۔قندیل بلوچ کو خاموش رکھنے کے لئے مارچ اور مئی 2016 میں اس کی عمران خان سے خفیہ ملاقاتیں بھی کروائی گئی۔اس دوران تحریک انصاف علما ونگ کے مفتی عبدالقوی کو قندیل بلوچ اور بنی گالہ کے درمیان مسائل کا علم ہوا تو انہوں نے یہ دعوی کیا کہ قندیل بلوچ کا تعلق ان کے علاقے سے ہے۔جاری ہے۔

اور وہ اپنی مذہبی تعلیمات اور اثر ورسوخ سے قندیل بلوچ کے ساتھ جاری بنی گالہ کے تمام مسائل حل کر لیں گے۔ اس سلسلے میں جب مفتی عبدالقوی نے قندیل بلوچ سے ایک ہوٹل میں ملاقات کی اور مفتی صاحب کی باتیں ماننے کی بجاۓ ملاقات کے بعد قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ اپنی تصاویر میڈیا پر جاری کر دیں اور عون چوہدری کے ذریعے عمران خان کو پیغام بھیجا کہ اگر اس نے میرے ساتھ شادی نہ کی تو وہ عمران خان کے ساتھ بھی اپنی نا شائستہ تصاویر میڈیا میں بھیج دے گی۔ ان باتوں کا علم بنی گالہ میں مستقل طور پر مقیم بشری بی بی کو بھی ہو رہا تھا۔قندیل بلوچ کو ان تمام واقعات کے دو ماہ بعد جولائی 2016 میں قتل کر دیا گیا تھا۔پولیس کے جونئیر اہلکاروں نے بتایا کے عون چوہدری کی طرف سے قندیل بلوچ کو فروری 2016 سے جولائی 2016 تک کی گئی فون کالوں کا ریکارڈ بھی پولیس کے اعلی افسران نے حاصل کر لیا تھا۔ موقع واردات کی جیو فینسنگ Geo Fencing کے ذریعے اس بات کا بھی ثبوت مل گیا تھا کہ پاکپتن میں بشری بی بی کے زیر استعمال فون سے قتل سےچند گھنٹے قبل تک موقعہ واردات کے نزدیک کالز کی جاتیں رہیں۔جونئیر افسران کے مطابق بعد ازاں علیم خان سے ساڑھے سات کروڑ روپے لیکر اعلی افسران نے تمام ثبوت تلف کر دیئے۔۔جاری ہے۔

پولیس کے اعلی افسران اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پیرنی بشری عرف پنکی کو اس بات کا رنج تھا کہ قندیل بلوچ نے بشری بی بی کا نام اور اس کے بنی گالہ میں رہائش پذیر ہونے کا راز ٹی وی پر افشا کیوں کیا تھا۔ کیونکہ بشری بی بی کا تعلق ایک ایسے طاقتور زمیندار گھرانے سے تھا جن کیلیۓ اپنی عزت بچانے کیلۓ کسی کو قتل کروانا کوئی مشکل کام نہیں تھا اور دوسری طرف عمران خان اور عون چوہدری پر ان کی پیرنی بشری بی بی کا گہرا اثر تھا لہذا بشری بی بی نے عمران خان اور عون چوہدری کو اعتماد میں لیکر کسی پیشہ ور قاتل کے ذریعے قندیل بلوچ کاقتل کروایا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق قتل کے بعد قندیل بلوچ کے موبائل فون سے پولیس نے وہ تمام ناشائستہ ویڈیوز اور تصاویر بھی ختم کر دیں جن کی بنیاد پر قندیل بلوچ عمران خان اور عون چوہدری کو بلیک میل کرتی تھی اور عون چوہدری کے ساتھ قندیل بلوچ کی فون کالز کا ریکارڈ بھی تلف کر دیا گیا تھا۔جونئیر پولیس اہلکاروں کے مطابق قندیل بلوچ کے جس بھائی پر اس کے قتل کا الزام تھا اس کے بارے میں اعلی افسران نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ نہ تو اس سے تفتیش کے دوران کسی قسم کے سوالات نہ کیے جائیں اور نہ ہی کوئی سختی کی جاۓ جس سے اس بات کو تقویت ملتی تھی کہ پولیس کے افسران بالا کو اس بات کا علم تھا قندیل بلوچ کا قتل وسیم اور حق نواز نے نہیں کیا بلکہ اسے غیرت، لالچ اور دھمکی کے ذریعے آمادہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اس بات کا دعوی کرے کہ یہ قتل اس نے غیرت میں آ کر کیا ہے۔دراصل یہ قتل بشری بی بی نے اپنے علاقے کے کسی پیشہ ور قاتل یا مرید سے کروایا۔۔جاری ہے۔

ان افسران نے بتایاکہ قندیل بلوچ قتل کیس کی اگلی تاریخ 3 فروری کوسیشن کورٹ ملتان میں ہے جس پر پی ٹی آئی کے راہنما اور عمران خان کے علما ونگ کے دست راست مفتی عبدالقوی کو دوبارہ بلایا گیاہے۔میں نے بطور ایک رپورٹر اور پاکستانی ہونے کی حیثیت میں قندیل بلوچ کے اصل مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے سیشن کورٹ ملتان کے فاضل جج کو یہ تفصیلات14 جنوری کو بجھوا دی تھیں مگر 18 جنوری کو کیس کی سماعت پر فاضل جج صاحب کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ تک نہیں آیا کہ جو یہ ظاہر کرے کے وہ اس کیس میں مزید تحقیق کروانا چاہتے ہیںجونیئر پولیس اہلکاروں کے مطابق اصل قاتل انتہائی احتیاط اور ہوشیاری سے چل رہے ہیں اور پیسے کے بے دریغ استعمال سے آنے والے دنوں میں منصوبے کے مطابق دونوں فرضی ملزمان کی ضمانتیں کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کے بعد قندیل بلوچ کا قتل آخر کار ایک اندھے قتل میں تبدیل ہو جاۓ گا۔گرفتار ملزم حق نواز جو کہ دراصل فرضی ملزم ہے کی ضمانت ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق 22جنوری کو ملتان مذکورہ فاضل سیشن جج کی عدالت سے ہو جائے گی۔۔جاری ہے۔

ماضی میں اس قتل کیس کی تحقیقات پر مامور جونیئر پولیس آفیسرز نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی نے اپنے تعلقات کو تقریبا دو سال تک اس لیے چھپایا تا کہ قندیل بلوچ کے قتل کا واقعہ پرانا ہو جاۓ اور کسی قسم کا شک ان لوگوں پر نہ آۓ۔میں نے ایک بے نام صحافی کی حیثیت سے نے یہ تمام باتیں لکھ کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔جاری ہے۔

جس میں میں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام نئی معلومات کی بنیاد پر قندیل بلوچ کے قتل کیس میں عمران خان،عون چوہدری اور پیرنی بشری بی بی کو بھی شامل کئے جانے کے احکامات جاری کئے جائیں تا کہ حقیقت کا علم ہو سکے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں