میں ایک ساس ہوں دل کو چھو لینے والی کہانی

میں ایک ساس ہوں جی میں ایک بہو کی ساس ہوں مگر اب سوچتی ہوں کہ نہ ہوتی تو زیادہ اچھا تا ۲۶ سال بیٹے نے میرے ساتھ میرے مطالق گرارے ۲۰ سال کی عمر تک ہر کام میری رصامندی ہر کام میں میری خوشی حتیٰ کہ کپڑے بھی میری پسند سے خریدتا تھا بلکہ میں جو لے آتی تھی پہن لیتا تھا بہنوں پر چان چھڑکتا تھا اس سے اگلے چھ سال تھوڑی بہت آزادی دی کہ آخر بیٹا ہے۔۔جاری ہے۔

کچھ تو باہر کی ہوا لگے دو سال پہلے کی جاب لگی تو مجھ سے زیادہ خوشی کسے ہونی تھی ہر تنخواہ سے بہنوں کے لیے کچھ نہ کچھ لے آنا اور میری پسند کی بھی کوئی چیز لانا اس کا معمول تھا گھر کا ماحول بہت پرسکون تھا سب ایک دوسرے سے خوش تھے اب چھ ماہ پہلے مجھے ہی شوق چڑھا تھا کہ اس کی دلہن لائوں تاکہ میں بھی پوتے پوتیوں کو کھیلتا دوڑتا دیکھوں بڑی چھان پھٹک کر ایک لڑکی پسند آئی میرا فرمانبردار بچہ میری پپسند پر بہت خوش تھا لیکن شادی کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے ایسا محسوس ہونا شروع ہوگیا تھا جیسے وہ بدل گیا ہے ہنی مون سے واپسی پر بہنوں کے لیے چھوٹی چھوٹی بالیاں اور میرے لیے ایک کاٹن کی چادر لایا اور بیگم صاجہ نے اتنی قیمتی شال اور بیگ مجھے دکھایا تو جانو تن بدن میں آگی لگ گئی اور اب چھ ماہ ہوگئے ہیں اس کی شادی کو لگتا ہے جیسے میرا بیٹا کہیں کھوگیا ہے آفس سے آتا ہے گھڑی دو گھڑی سلام دعا کرتا ہے اور پھر کمرے میں غائب ہوجاتا ہے مہارانی کا موڈ ہوتا ہے تو کمرے سے باہر آتی ہیں اور کچن کے کام میں تھوڑی بہت مدد کرتی ہے اور موڈ نہ ہو تو جھانکتی بھی نہیں۔۔جاری ہے۔

اب میں اُس کو جو بات کرتی وہ اُس کو ٹال جاتا تھا اس کی سائیڈ لینے لگتا میری اب سنتا ہی نہیں بہنوں کو بھی پہلے کی طرح وقت نہیں دیتا پہلے کی طرح اب تو ان کے لیے چیزیں لانی بھی کم کر دی ہیں پتا نہیں دلہن رانی میاں کے کان کس کس طرح بھرتی ہوگی وہ اب ہم سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا میں ایک بہو ہوں میرے بھی ہر لڑکی کی طرح ڈھیروں ارمان تھے شادی ہوگی تو زندگی بدل جائے گی میں میاں کے دل کے ساتھ ساتھ گھر پر بھی راج کروں گی لیکن ہوا کیا شادی ہوئی تو پہلی رات ہی میاں جی نے نصیحتوں کا بنڈل سر پر لاددیا کہ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں اس لیے سب کے ساتھ مل جل کر رہنا ہوگاچلو جی یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن یہ حکم بھی صادر ہوا کہ میں چونکہ گھر کا بڑا بیٹا ہوں اس لیے میرے والدین میرے بھائی بہن بھی میری ذمہ داری ہیں اور اس ذمہ داری میں مجھے ان کا مکمل ساتھ دنیا ہوگا پہلا ہفتہ تو بڑا اچھا گزرا لیکن ایک ہفتے بعد ہی اس کا ساس کا رویہ بدلنے لگا جس کا احساس ہنی مون سے واپسی پرہی ہوگا تھا ہفتے بعد ہی میں گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگی کسی نے منع نہیں کیا حالانکہ سنا تھا کہ بہو کو ایک دو مہینے کام نہیں کروایا جاتا مہینہ گزار تو کچن میں کام شروع کردیا لیکن ساس کو میرا کوئی کام پسند ہی نہ آتا ہر کام میں کوئی نہ کوئی نقص نکال لیتیں۔۔جاری ہے۔

شام کو میرے میاں گھر آتے تو پہلے امی کے پاس سلام کرنے جاتے اور گھنٹہ بھر بیٹھتے مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن جب کمرے میں آتے تو موڈ تھوڑا خراب ہوتا پوچھتی تو ٹال جاتے لیکن کچھ دیر بعد ٹھیک ہوجاتے تین چار ماہ بعد یہ حال ہوا کہ جب بھی کمرے میں آتے ان کے پساس میری چکایتوں اور نالائقیوں کا پلندہ ہوتا جو امی نے ان کے کان میں ڈالی ہوتیں تھی پر میں چپ رہتی تھی اور سوچ کرتی تھی کے وقت کے ساتھ تساتھ سب اچھا ہو جائے گا۔۔۔۔ آخر ان کی امی تھیں اتنے سال ان کے ساتھ رہیں تھی بیٹے کو بانٹنا مشکل ہوگا اچانک امی کو میری شادی کی سوجھی بہت مشکلوں سے انہیں ایک لڑکی پسند آگئی میری اپنی تو کوئی پسند تھی نہیں میں نے ان کی مرضی سے شادی کرلی اب تو جیسے زندگی اور خوبصورت ہوگی تھی شادی کے بعد دو تین دن مری گھومنے پھرنے نکل گئے کہ اس سے زیادہ میں افورڈ نہیں کرسکتا تھا واپسی پر سب کے لیے کچھ نہ کچھ لیا بیوی کو ایک مثال اور ایک بیگ بہت پسند آ ئے وہ اسے لے دیا گھر آکر جب سب کو ان کے تحفے دکھائے تو ان کے چہروں پر کوئی خاص خوشی دکھانی نہ دی اسی اثنائ میں بیگم بھی اپنی شال اور بیگ دکھا چکی تھی کسی نے جھوٹے منہ تعریف بھی نہ کی بلکہ عجیب رنگ اور عجیب سٹائل کہہ کر اس کا دل برا کر دیا پہلے بھی میں روزانہ آفس سے واپسی پر ماں کے پاس بیٹھتا تھا ہم ادھر اُدھر کی گپیں لگاتے تھے اور وہی معمول اب بھی جاری تھا لیکن کچھ دنوں سے باتوں کا انداز بدل گیا تھا غیرمحسوس طریقے سے کسی نہ کسی بہانے بیگم کا تذکرہ ہوتا۔۔جاری ہے۔

اس کی کسی نہ کسی کوتاہی کی نشاندہی ہوتی میرے اس کو وقت زیادہ دینے اورباقی گھر والوں کو کم وقت دینے کا شکوہ ہوتا میں کچھ نہ بولتا چپ چاپ کمرے میں آجاتا اور بیگم کو بھی کچھ نہ بتاتا ھتوڑی دیر موڈ خراب رہتا لیکن پھر بیگم کی خوشگوار باتوں سے ٹھیک ہوجاتا آہستہ آہستہ مجھے لگنے لگا کہ شاید امی ٹھیک کہتہ ہیں اب میں اس سے ہلکہ پھلکی باز پرس کیا کرتا کچھی وہ چپ ہوجاتی کبھی دو پڑتی ایک دن وہ بھی آیا کہ میں امی کے پاس سے آیا تو اس پر برس پڑا کہ آج اس نے سارا دن کچن میں جھانگ کر بھی نہیں دیکھا تھا اور امی سارا دن اکیلی کچن میں لگی رہی تھیں اور اب تھکن سے نڈھال کمر اور پائوں کا درد لیے بیتھی تھیں بہنیں دن میں کالج اور سام میں اکیڈمی جاتی تھیں اس نے جوابا بتایا کہ اسے تو صبح سے مائیگرین تھا اور اس کا اپنا برا حال تھا کسی نے پوچھا بھی نہیں کہ سرار دن باہر نہیں آئی کہیں طبیعت تو خراب نہیں تھی مجھے بہت ندامت سکتا تھا اور پھر ماں کی شکایتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں کبھی میری کم توجہ کا گلہ کبھی پہلے کی طرح چیزیں نہ لانے کی چکایت اور کبھی میرے بدل جانے کا مسئلہ ۔۔۔میں پہلے بالکل اکیلا تھا جن دوستوں کی طرف نہیں جاتا تھا تو گھر والوں ساتھ وقت گزارتا تھا مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں ان کو کس طرح سمجھائوں کہ میری شادی ہوچکی ہے اور آپ کی مرضی سے ہی ہوئی ہے تو مجھے اب اپنا وقت بابٹنا پڑتا ہے میرا بجٹ میرے اخراجات کا ساتھ نہیں دیتا میں اب پہلے کی طرح فضول خرچی نہیں کرسکتا۔۔جاری ہے۔

میری بیوی بھی میرے ساتھ ہے ۔۔۔ مجھے اس کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہے لیکن وہ اس تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کرنے کو تیار ہی نہیںجس دن میں شوہر بنا بہت خوش تھا لگتا تھا ہفتہ اقلیم کا خرانہ ہاتھ لگ گیا ہے اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن شادی کی پہلی رات ہی بیوی کو جوائنٹ فیملی سسٹم کے بارے میں سمجھایا کیونکہ وہ لوگ عیحدہ رہتے تھے اور اسے اس چیز کا تجربہ نہیں تھا خیر وہ کچھ نہیں بولی سوائے اس کے کہ وہ پوری طرح میرا ساتھ ساتھ دے گی مجھے بہت خوشی ہوئی اگلے تین دن ہوائوں میں اڑے ہنی مون پر گئے جلدی واپسی کی وجہ اس کا موڈخراب تھا لیکن سمجھانے پر مان گئی لیکن یہاں ناراصنگی کے ساتھ ساتھ میکے جانے کی دھمکی بھی ہوتی ہے جو میں نہیں چاہتا کیونکہ مجھے وہ اچھی لگتی ہے اور میں جانتا ہوں۔۔جاری ہے۔

کہ وہ بھی مجھے پسند کرتی ہے مگر روز کی چخ چخ سے تنگ آکر وہ بھی زبان داراز ہوگئی ہے مجھے تو اس کا کوئی حل سمجھ نہیں آتا آپ کو آتا ہے کیا آپ مجھے کوئی مشورہ دے سکتے ہیں

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں