رشتے کروانے والی بُڑھیا کا قصہ جو رشتے ثواب سمجھ کر کرواتی مگر درحقیقت ایسا نہیں تھا تلخ حقیقت خالہ نصیبن

لڑکی دیکھی بھالی ہے نصیر کی ماں تم فکر مت کرو میٹرک پاس ہے اچھی گوری رنگت کی ہے کھانا پکانا کپڑے دھونا ہر گھر داری کی ماہر گھر داری میں ماہر اور سلائی کڑہائی جانتی ہے اور زبان تو جیسے منہ میں ہے ہی نہیں خالہ نصیبن پان کی گلوری منہ ڈالتے ہوئے بولی وہ تو ٹھیک ہے۔۔جاری ہے۔

خالہ تو تو جانتی ہے میرا نصیر بھولا بھالا ہے بس یہ دیکھ لینا لڑکی تیز طرار نہ ہو زبان دراز لڑکیاں نصیر کو پسند نہیں ارتت بھاگوان تو سمجھ لے لڑکی کی زبان ہے ہی نہیں کیوں گھبراتی ہے میں جو کہہ رہی ہوں بس تو شادی کی تیاری کر لڑکی کی ماں نے سب اختیار میرے ہاتھ میں دے رکھا ہے خالہ نصین چہک کر بولی ۔۔۔اپنی قسمت پر ناز کرے گا نصیر کی ماں خوش ہوگئی چل نکال میرا خرچہ نصین بولی تو نصیر کی ماں نے دوپٹے کے پلو سے بندے چند مُڑے تڑے نوٹ کھول کر اس کی ہتھیلی پر رکھے تو نصین نصیر کو دعائیں دیتی اُٹھ کھڑی ہوئی کل تیار رہنا صبح میں آئوں گی پھر چلیں گے بشریٰ کے گھر خالہ نصین چلی گئی نصیر اور اس کی ماں دونوں ہی تو افراد تھے اس گھر میں نصیر اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا نہایت سادہ شریف اور بھولا بھالا نیک نیت انسان گھر آیا تو اماں نے بتایا کہ خالہ نسین ایک لڑکی کا رشتہ بتارہی ہیں کل دیکھنے جائوں گی نصیر بولا ٹھیک ہے اماں تم دیکھ لو نصیر بلدیہ میں سرکاری ملازم تھا تیس پینتس ہراز تخواہ تھی اچھا شریف آدمی تھا ۔۔دیکھ بشریٰ کی ماں لڑکا بہت اچھا ہے ایسا بھلے مانس لڑکا نہیں ملتا اور ویسے بھی تیری بیٹی کونسا میڑک پاس ہے وہ تو میں جانتی ہوں مڈل فیل ہے مگر وہاں یہی کہنا کہ میڑک پاس ہے۔۔جاری ہے۔

اور خوب میک اپ کروالینا میں نے اس کی ماں کو بتایا ہے کہ لڑکی خوب گوری ہے کھانا پکانے کی ماہر تیرا بھلا ہو خالہ میں اس بشریٰ کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اس نگوڑی کو نہ کھانا پکانا آتا ہے نہ ہی میڑک پاس ہے بس تو ایسا چکر چلا رشتہ ہو جائے بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی اچھا اچھا ہوجائے گا تو فکر مت کر دیکھ تری اس پھوہڑ اور بدزبان بیٹی کو ایسے شریف آدمی کے پلے باندھوں گی کہ تو ساری زندگی دعائیں گے گی چل نکال میرا خرچہ تو تو جانتی ہے میری ضرورت کوئی خاص نہیں ایک بیٹا ہے میرا معذور بس آنے جانے کا خرچہ لیتی ہوں میں لالچی نہیں اللہ معاف کرے بشریٰ کی ماں اسے دعائیں دیتی اندر گئی اور کچھ پیسے لا کر اس کے ہاتھ پر رکھے خالہ برقع سنبھالتی اُٹھ کھڑی ہوئی اچھا میں چلی کل بشریٰ کو ڈھنگ کے کپڑے پہنا دینا اور جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی کرنا خالہ نصیبن برقع سنبھال کر نکل گئی اگلے دن خالہ نصیبن پہلے نصیر کے گھر پہنچی کہ اس کی ماں کو ساتھ لے کر ابھی وہ دیوڑھی پر ہی تھی کہ اندر سے نصیر کی آواز آئی ارے اماں تو ڈر مت خالہ نصیبن وہیں رک کر کان لگا کر سننے لگی ۔۔۔۔جاری ہے۔

۔نصیر کی ماں بولی بیٹا اسے کہہ تو دیا مگر تو جانتا سارے محلےکیا سارے شہر میں یہ نصیبن جھوٹی مشہور ہے مجھے ڈر لگتا ہے کل صغریٰ بھی کہہ رہی تھی کہ اس سے بچنا ارے اماں چھوڑو نا دیکھ خالہنصیبن بھی بیچاری بے آسرا ہے ایک معذور بیٹا ہے اس کا میں کوشش کر رہا ہوں حکومت سے اس کا وظیفہ لگوا دوں خالہ نصیبن کا بھلاہوجائے اور دیکھ اماں اگر رشتے کے بہانے ہم خالہ کی کوئی مدد کر دیں تو کیا بُرا ہے لڑکی میری جیسی بھی قسمت میں ہوگی مل جائے گی اس میں خالہ کا کیا قصور چل چھوڑ سب اللہ پر چھور دے اور خالہ کے لیے۔۔جاری ہے۔

دل سے میل اور بدگمانی نکال دے نصیر بول رہا تھا اور خالہ نصیبن کو ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ بہت گھٹیا کمینی اور ذلیل ہو نصیر کی آواز گونج رہی تھی اور خالہ نصیبن خود کو پاتال کی گہرائیوں میں دھنستا ہوا محسوس کر رہی تھی

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں